لاہور میں ون وہیلنگ سے روکنے پر منچلوں کا ڈولفن اہلکاروں پر تشدد

کرائم رپورٹر  اتوار 19 مئ 2019
پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے 14 ون وہیلرز کو گرفتار کرلیا (فوٹو : فائل)

پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے 14 ون وہیلرز کو گرفتار کرلیا (فوٹو : فائل)

 لاہور: ساندہ کے علاقے بند روڈ پر ون وہیلنگ سے روکنے پر منچلوں نے ڈولفن اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا جس کا پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے 14 ون وہیلرز کو گرفتار کرلیا۔

گزشتہ روز ساندہ کے علاقہ بندر روڈ پر منچلے نوجوان ٹولیوں کی صورت میں ون وہیلنگ کررہے تھے، اس دوران ڈولفن اہلکاروں نے انہیں روکا تو ملزمان نے ڈولفن اہلکاروں کو ہی گھیرے میں لے لیا اور اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جب کہ مقامی پولیس کے موقع پر پہنچنے کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔

ساندہ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ 200 نامعلوم افراد کے خلاف 10 دفعات کے تحت درج کرلیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق نامعلوم افراد نے ڈولفن ٹیم 327 کو زدوکوب تشدد اور حبس بے جا میں رکھا، اہلکاروں کی یونیفارم پھاڑنے کے ساتھ سر پر ڈنڈے بھی مارے، تشدد کے دوران اہلکاروں سے نقدی سرکاری اسلحے سمیت سرکاری موٹر سائیکل کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ مقدمہ کے اندراج کے بعد ساندہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 14 ون وہیلرز کو گرفتار کرلیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اشفاق خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ایس پیز کو شہر بھر میں ون وہیلرز کے خلاف فوری اور بھر پور انسدادی کارروائیاں عمل میں لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریکارڈ یافتہ ون وہیلرز کے رہائشی اور ورکنگ ایڈریسز اور دیگر تمام کوائف اکٹھا کرکے کریمنل ریکارڈ ترتیب دیا جائے۔

دریں اثنا واقعے کے بعد اہل کاروں نے بدلہ لینے کے لیے چند گھںٹوں بعد بند روڈ پر دکان پر موجود شہریوں کو تشدد کا نشانہ بناڈالا جس کی فوٹیج منظر عام پر آگئی۔

سی سی ٹی وی فوٹیج بندر روڈ پر واقع ایک دکان کی ہے اور شام 6 بجے کی ہے جس میں ڈولفن اسکواڈ کے 2 اہلکار دکان پر آتے ہیں اور دکان کے باہر کھڑے لڑکوں پر لاٹھیاں برساتے نظر آتے ہیں جس پرتشدد کا شکار ہونے والے لڑکے موقع سے فرار ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ڈولفن اہلکار دکان دار پر بھی تشدد کرتے ہیں اور دکان دار کو باہر کھینچتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایس پی ڈولفن اسکواڈ بلال ظفر نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تشدد کرنے والے دونوں اہلکاروں نوید اور قمر کو کلوز ٹو ہیڈ کوارٹر کر دیا ہے  اور ڈی ایس پی ڈولفن ہیڈ کوارٹر کو انکوائری کر کے 24 گھنٹے میں رپورٹ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔