6 ارب ڈالر کا مہنگا سودا

ظہیر اختر بیدری  منگل 21 مئ 2019
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

آئی ایم ایف سے طویل مذاکرات اور سخت شرائط کے بعد اس بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کا قرض منظور کیا ہے جو ایک ساتھ نہیں بلکہ 39 ماہ یعنی تین سال اور تین ماہ میں دیا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے سخت ترین اور بدترین شرائط کے ساتھ 6 ارب ڈالرکے اس قرض کوکیوں قبول کیا ہے۔

اپوزیشن نے اس قرض کے حوالے سے حکومت پر سخت تنقیدکا سلسلہ شروع کیا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان کو ان سخت شرائط کے ساتھ یہ 6 ارب ڈالرکا قرض کیوں لینا پڑا؟ ہماری حکومت کو برسر اقتدار آئے ابھی صرف 9 ماہ ہو رہے ہیں۔کیا ان نو مہینوں کے دوران حکومت نے اس قدر بے جا اصراف اور مالیاتی کرپشن کا ارتکاب کیا کہ حکومت کا معاشی نظام تباہی کے قریب پہنچ گیا اور حکومت کو آئی ایم ایف سے بھاری اور عوام دشمن شرطوں پر 6 ارب ڈالرکا قرض لینا پڑا؟ اس سوال کا جواب بڑا مضحکہ خیز ہے۔ کیا 9 ماہ کی مختصر مدت میں حکومت نے اربوں ڈالر کی فضول خرچی کیسے اورکہاں کی، عموماً اسی بدترین نظام میں جب نئی منتخب حکومتیں برسر اقتدار آتی ہیں تو ان کی اولین ترجیح کم سے کم مدت میں زیادہ سے زیادہ لوٹ مار ہوتی ہے۔

آج پاکستان جن بد ترین معاشی مسائل کا شکار ہے، اس کی اصل ذمے داری ماضی کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے جنھوں نے ریکارڈ کرپشن کا ارتکاب کرکے پاکستانی معیشت کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا۔ جس کے ثبوت اربوں بلکہ کھربوں کی کرپشن کے وہ مقدمات ہیں جو اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ڈالرکی قیمت میں اضافہ، آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی ، موجودہ حکومت کے کارنامہ نہیں ہیں بلکہ سابق حکومتوں کے وہ کارنامہ ہیں جس کا خمیازہ اس ملک کے 22 کروڑ عوام بھگت رہے ہیں اور انھیں بتایا جا رہا ہے کہ ملک کو معاشی تباہی کے کنارے تک موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔

موجودہ حکومت کی اس حوالے سے بے گناہی کا ثبوت یہ ہے کہ حکومت دشمن اپوزیشن بھی حکومت پرکرپشن کا الزام نہیں لگا سکتی۔ یہ حقیقت بیانی ہے نہ حکومت کی حمایت ہے نہ اپوزیشن کی بے جا مخالفت ہے، اپوزیشن کے زعما ابھی سے یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ مہنگائی اس قدر بڑھ جائے گی کہ عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ اپوزیشن نے مختلف طریقوں سے عوام کو سڑکوں پر لانے کے لیے سر توڑکوشش کی لیکن عوام بوجوہ سڑکوں پر نہ آئے۔

حکومت کو آئی ایم ایف کی طرف دھکیلنا اور بھاری شرائط کے ساتھ قرض لینے پر مجبورکرنے کا مقصد یہی ہے کہ عوام مہنگائی سے تنگ آکر سڑکوں پر نکل آئیں اور اپوزیشن عوام کو اپنے مقاصد یعنی حکومت گرانے کے لیے استعمال کرے۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں بلکہ ایک اوپن سیکریٹ ہے جسے ہر سمجھدار شخص سمجھ سکتا ہے۔ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ ان کھلے حقائق کو ہماری نالائق حکومت سمجھ نہیں پا رہی ہے حتیٰ کہ معیشت کی تباہی کے ذمے داروں کی موثر طریقے سے نشان دہی بھی نہیں کر پا رہی ہے۔

موجودہ مہینہ رمضان کا محترم مہینہ ہے، اس مہینے میں غریب طبقات کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس مہینے میں نسبتاً بہتر خوراک استعمال کریں لیکن عوام پر مسلط کی گئی مہنگائی کی وجہ وہ روزمرہ کی خوراک سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔ پٹرول، گیس، بجلی وغیرہ کی قیمتوں میں آئی ایم ایف کی مہربانی سے جو اضافہ ہو رہا ہے وہ تو درمیانے طبقے کی بھی کمر توڑ کر رکھ دے گا۔کیا اس بات کو بعیداز قیاس سمجھا جاسکتا ہے کہ جب عوام مہنگائی وغیرہ کے عذابوں سے تنگ آکر سڑکوں پر نکل آئیں تو انھیں بہکا کر حکومت گرانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ایسا ہوگا۔ کیا عمران حکومت اس سازش کو سمجھتی ہے؟

آئی ایم ایف، ورلڈ بینک جیسے مالیاتی ادارے بڑی طاقتوں کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں ، ان کا اصل کام غریب ملکوں کو کڑی شرائط پر قرض دینا اور بھاری سود کے ساتھ قرض کو بڑھا کر غریب ملکوں کو معاشی مشکلات کا شکار بنا کر ان سے ناجائز وصولیاں کرنا تاکہ ان کی معیشت تباہ ہوجائے اور مجبوری میں یہ ملک عالمی مالیاتی اداروں کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں۔ پاکستان 22 کروڑ عوام کا ایک پسماندہ ترین ملک ہے جس پر 71 سالوں سے اشرافیہ حکومت کر رہی ہے۔ اشرافیہ نے بلا روک ٹوک کے لوٹ مار میں گزار دیے اور اس لوٹ مار کے پیسے سے ملک کے اندر اور ملک کے باہر اربوں روپوں کے اثاثے بنائے۔ اشرافیہ کی بے روک ٹوک لوٹ کا سلسلہ جاری ہے جو اب انتہا کو پہنچ گیا تھا۔

اس لوٹ مار کے خلاف پہلی بار احتساب کا عمل شروع کیا گیا۔ احتساب کو بد نام کرنے اور ناکام بنانے کے لیے اشرافیہ طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ سارا کام خلائی مخلوق کا ہے ،کبھی کہا جاتا ہے کہ عمران خان کو ملک کی بالادست قوتیں آگے لائی ہیں اور عمران خان کو استعمال کر رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ عمران خان ایک ڈمی ہے ، وہ وہی کرتا ہے جس کا اسے مشورہ دیا جاتا ہے۔ اگر ان الزامات کو درست مان لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لٹیروں کی پکڑ دھکڑ کیا غلط اقدام ہے جو عمران خان کی حکومت کر رہی ہے؟ ہاں یہ بات درست ہے کہ عمران خان موجودہ سیاست کے پس منظر میں ایک نا اہل شخص ہے لیکن یہ نااہل شخص ایلیٹ کے خلاف اقدامات میں بہت اہل ثابت ہو رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔