ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، عالمی برادری نوٹس لے

ایڈیٹوریل  بدھ 22 مئ 2019
امریکا اور ایران کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئیں،کیونکہ یہ جنگ پوری انسانیت کے لیے بہت بڑا بحران ثابت ہوگی۔ فوٹو:فائل

امریکا اور ایران کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئیں،کیونکہ یہ جنگ پوری انسانیت کے لیے بہت بڑا بحران ثابت ہوگی۔ فوٹو:فائل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کوخبردارکیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوئی تو ایران تباہ ہوجائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا لہجہ انتہائی درشت اور تلخ ہے،ایسا محسوس ہورہا ہے کہ امریکا ،ایران پر جنگ مسلط کرنے پر تْلا ہوا ہے۔

امریکا، ایران کے درمیان جاری کشیدگی اگر جنگ میں تبدیل ہوگئی توکسی کے پاس ایسا کوئی پیمانہ نہیں کہ یہ جنگ محدود ہی رہے گی۔ایسا بھی ممکن ہے امریکا اپنے ہاتھ سے سلگائی گئی آگ میں اسرائیل کو بھی جھونک دے اور یہ طے ہے کہ اگر چین ایران کے ساتھ کھڑا نہ ہوا تو روس ہر حال میں ایران کا عملا ساتھ دے گا کیونکہ روس نے ایران میں تیل کی پیداوار میں بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔

دوسری جانب چین نے امریکا پر زوردیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے بازآجائے، اور بحیرہ جنوبی چین میں سکاروبورو شول کے متنازعہ علاقے میںجنگی بحری جہازوں کی نقل وحرکت بندکرے۔امریکا اور ایران کی بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں خطے کی صورتحال کو دیکھا جائے تو اگر جنگ شروع ہوئی تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوںگے ۔

امریکا اورایران کی بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کوئی بھی واقعہ،ایسی چنگاری ثابت ہوسکتا ہے جس سلگنے والی آگ میں پورا خطہ لپیٹ میں آجائے۔ روس، چین اور یورپی ممالک ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کے ضمانتی ہیں، وہ اس صورتحال سے سخت پریشان ہیں، مگر اْنہیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ امریکا کوکس طرح سے سمجھایا جائے۔امریکا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ، امریکا نے تیل کے کنوؤں پر قابض ہونے کے لیے کویت اور عراق کی جنگ کرائی ۔

امریکی صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان ان کے رویے میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ چند روز قبل ہی انھوں نے کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی جنگ کی صورت اختیارکرجائے۔ ادھر ایران نے  جنگ کے امکانات کو رد کیا تھا اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظرف نے کہا تھا کہ ایران جنگ کا خواہش مند نہیں ہے اور میرے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران سے جنگ نہیں کرنا چاہتے۔

امریکا اور ایران کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئیں،کیونکہ یہ جنگ پوری انسانیت کے لیے بہت بڑا بحران ثابت ہوگی۔اس سے قبل کہ دیر ہو جائے عالمی برادری کو آگے بڑھ کر امن کے لیے کردار ادا کرتے ہوئے اکیسویں صدی کے انسان کو پتھروں کے زمانہ میں دھکیلنے سے بچانا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔