امریکا اورمغربی ممالک نے فوجی جارحیت کی تو منہ توڑ جواب دیں گے، شامی وزیر خارجہ

اے ایف پی  منگل 27 اگست 2013
شامی افواج نے مظاہرین کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کااستعمال نہیں کیا  اور کیمیائی ہتھیاروں کا جواز بنا کر شام پر حملہ بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہو گا،شامی وزیرخارجہ فوٹو:اے ایف پی

شامی افواج نے مظاہرین کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کااستعمال نہیں کیا اور کیمیائی ہتھیاروں کا جواز بنا کر شام پر حملہ بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہو گا،شامی وزیرخارجہ فوٹو:اے ایف پی

دمشق: شام نے خبر دار کیا ہے کےکہ  اگر مغربی ممالک اورامریکا کی جاب سے شام پر فوجی  جارحیت کی گئی تو اس کا منہ تو ڑ جواب دیا جائے گا۔

 غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شامی وزیرخارجہ ولید معلم نے کہا کہ ہمارے پاس دو  راستے ہیں یا تو ہم ہتھیار پھینک دیں یا پھر بھر پور طریقے سے اپنا دفاع کریں اور ہمارے لئے دوسرا آپشن بہترین ہے،  ہم مکمل طور پر اس بات کو مسترد کرتے ہیں کہ شامی افواج نے مظاہرین کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کااستعمال کیا ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کا جواز بنا کر شام پر حملہ بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہو گا۔

ولید معلم کا کہنا تھا کہ بشار الا سد کی حکومت گزشتہ 29 ماہ سے شدت پسندی کا مقابلہ کر رہی ہے اور اگر شام  پر حملہ کیا گیا تو شامی افواج بھرپور طریقے سے ملک کا دفاع کرے گی کہ سب حیران ہو جائیں گے، شام پر حملے کا سب سے زیادہ  فائدہ اسرائیل اور مشرقی وسطیٰ میں شدت پسندوں کو ہوگا، شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ بشار الا اسد حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ  کے معائنہ کاروں کو  مکمل سیکیورٹی اور تحفط  فراہم کیا جا رہا ہے لیکن  اقوام متحدہ کے معائنہ کار مبینہ حملوں کے ایک سے دوسرے مقام پر تحقیقات کے لیے نہیں جا سکے کیوں کہ باغیوں نے انہیں روک دیا تھا۔

دوسری جانب روس ، چین اور ایران نے شام پر ممکنہ حملے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام پر حملے سے خطے میں تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جبکہ روس کے ایک خبر رساں ادارے نے روسی فوجی حکام کی جانب سے ایک بیان میں کہا کہ اگر امریکا  نیٹو افواج کی مدد سے شام پر حملہ کرتا ہے تو شام کی فضائیہ  کے پاس دفاع کی بھر پور صلاحیت موجود ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔