سرگودھا میں سفاک پیر نے گھریلو ملازمہ کے ساتھ زیادتی کرکے تیزاب پھینک دیا

ویب ڈیسک  بدھ 22 مئ 2019
شادی سے انکار پر لڑکی نے خود پرتیزاب گرایا، پیرعزیر کاپولیس کوبیان فوٹوفائل

شادی سے انکار پر لڑکی نے خود پرتیزاب گرایا، پیرعزیر کاپولیس کوبیان فوٹوفائل

سرگودھا: چک سیداں میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں پیر نے گھریلو ملازمہ کو ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد مرید کے ساتھ مل کر اس پر تیزاب پھینک دیا۔

سرگودھا کے علاقے چک سیداں میں سفاک پیر نے گجرات کی رہائشی گھریلو ملازمہ کو ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد مرید کےساتھ اس پر تیزاب پھینک دیا، جس سے ماریہ کا چہرہ مسخ اور آنکھوں کی بینائی چھن گئی، جب کہ سماعت بھی متاثر ہوئی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق  تیزاب سے جھلسنے والی ماریہ پچھلے9 سال سے پیر عزیرکے پاس تھی، جب کہ 2 سال تک واقعہ کو چھپا کر رکھا گیا۔  تیزاب سے جھلسنے کا واقعہ 20 اپریل 2017 کو پیش آیا تھا، پولیس نے تیزاب گردی کے الزام میں سفاک پیرعزیر کو حراست میں لےلیا  ہے۔

ماریا کے ورثا نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بیٹی پر ظلم ڈھانے والوں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ دوسری جانب  پیر عزیر کا کہنا ہے کہ شادی سے انکار پر لڑکی نے خود پرتیزاب گرایا۔

وزیراعلی کی ہدایت پر ترجمان وزیراعلی ڈاکٹر شہباز گل گجرات کے نواحی علاقے ڈنگہ کی رہائشی 21 سالہ ماریہ کے گھر گئے۔ ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ماریہ مبینہ پیر کے گھر خادمہ تھی دو سال تک ماریہ کو والدین سے ملنے نہ دیا گیا، ملزمان ٹال مٹول اور دباؤ ڈال کر معاملہ دبانے کی کوشش کرتے رہے، تیزاب سے ماریہ کا سر اور چہرہ مکمل طور پر جھلس چکا ہے۔

ڈاکٹر شہباز گل نے کہا بروقت مقدمہ درج نہ کرنے اور فیملی سے نازیبا سلوک روا رکھنے پر متعلقہ تھانہ کے عملہ کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ جب کہ پنجاب حکومت ماریہ کے علاج کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔