زمبابوے کیخلاف شکست: سابق کرکٹرز حیرت سے دنگ

اسپورٹس رپورٹر  بدھ 28 اگست 2013
اوپنرز کی سست بیٹنگ سے نقصان ہوا (راشد) اسپیشلسٹ بولر کی ضرورت ہے، عامر۔ فوٹو: فائل

اوپنرز کی سست بیٹنگ سے نقصان ہوا (راشد) اسپیشلسٹ بولر کی ضرورت ہے، عامر۔ فوٹو: فائل

کراچی: پہلے ون ڈے میں پاکستان کی زمبابوے کیخلاف شکست پر سابق کرکٹرز حیرت سے دنگ رہ گئے، سابق ٹیسٹ کپتان ظہیر عباس نے کم اسکورکو شکست کی وجہ قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ کمزور ٹیم کیخلاف50 اوورز میں 244 رنز جوڑنا کوئی بڑی بات نہیں تھی، ایسا لگا کہ قومی ٹیم اسے رنز کا پہاڑ سمجھ کر فتح کیلیے پرامید تھی، میزبان بیٹسمینوں نے جواب میں عقلمندی سے کھیلتے ہوئے اپنی وکٹیں بچائیں اور سرخرو ہوئے، پاکستان میچ میں قطعی طور پر سنجیدہ نظر نہیں آیا، آئندہ مقابلوں کو آسان نہ سمجھا جائے،زیادہ اسکورکرنے کی کوشش ہوئی تو سیریز بھی پاکستان کے نام ہو سکتی ہے۔

سابق کپتان راشد لطیف نے کہا کہ آرام دینے کے بجائے سینئرز کو کھلانے کاۢۢۢ بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا اس ہار پر میں حیران ہوں۔ انھوں نے ناصر جمشید اوراحمد شہزادکو ناکامی کا قصور وار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوپنرزکی سست بیٹنگ کا خمیازہ ٹیم کو بھگتنا پڑا۔

سابق کپتان عامر سہیل نے ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان حریف ٹیم کے خلاف جارحانہ بولنگ کرنے میں بُری طرح ناکام رہا، اٹیک کے لیے محض 2 بولرز پر انحصار کیا گیا،حفیظ فرنٹ لائن بولر نہیں ہیں، ٹیم کو اسپیشلسٹ بولرکی ضرورت ہے، انھوں نے کہا کہ میچ میں پاکستانی فیلڈنگ بھی متاثر کن نہ تھی،عامر سہیل نے کہا کہ جب تک کلب کرکٹ کو مضبوط و مستحکم نہیں کیا جاتا کرکٹ نہیں پنپ سکتی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔