زدانش مند مجلس بازپرس

سعد اللہ جان برق  جمعـء 24 مئ 2019
barq@email.com

[email protected]

حافظؔؔ شیرازی کو تو ایک ہی مشکل آ پڑی تھی اور اس نے اس کا اظہار کر دیا تھا۔

مشکلے دارم ز دانشمند مجلس باز پرس

’’توبہ فرمایاں‘‘چرا خود توبہ کمتر می کنند

یعنی میری ایک مشکل ہے اور مجلس کے دانش مند سے پوچھ لیجیے کہ ’’توبہ‘‘ کی تلقین کرنے والے خود توبہ کیوں نہیں کرتے؟۔ اب توبہ کے بارے میں تو ہم کچھ بھی نہیں جانتے کہ قسمت نے ایسا کچھ دیا ہی نہیں جس سے ’’توبہ‘‘ کی جائے صرف بھوک پیاس دی ہے اور ان سے توبہ ممکن نہیں کیونکہ اس کی توبہ کے لیے وقت پہلے ہی سے طے کیا جا چکا ہے، جب وہ وقت آئے گا تو ہم بھی توبہ کر لیں گے جس کے ٹوٹنے کا پھر امکان ہی نہیں ہو گا

نیند تو کیا آئے گی فرازؔ

موت آئی تو سو لیں گے

مطلب یہ ہے کہ ہمارا مسئلہ ’’توبہ‘‘ اور ’’توبی فرمایاں‘‘ نہیں ہیں بلکہ کچھ اور ہے اور اسی کے بارے میں کسی ’’دانشمند‘‘سے پوچھنا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے تو جو کچھ تھا چلتا رہا پرانا پاکستان تھا اور پرانے پرانے تجربہ کار اس میں نئے نئے تجربے کرتے رہتے تھے اور ہم بھی انگار جانے لوہار جانے۔ سوچ کر چپ رہتے تھے، کس نے کونسا سوشل ازم نافذ کیا، کس نے کیا اسلام لانچ کیا، کس نے کونسی جمہوریت اگائی؟ اس سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تھے۔ لیکن اب بولیں  گے کیونکہ بڑی جتنوں اور جاں جوکھم سے ’’نیا‘‘ پاکستان ظہور پزیر ہو چکا ہے اور اس کا نام بھی ’’ریاست مدینہ‘‘ رکھا جا چکا ہے اور ہرقسم کے صادق و امین بھی اکٹھے ہو چکے ہیں۔ تو ایسے میں اگرکوئی مشکل آ پڑے تو اسے دور کر دینا اور کر لینا چاہیئے۔

ہماری وہ چھوٹی سی مشکل یہ ہے کہ خیر سے رمضان المبارک کا مہینہ آ چکا ہے اگرچہ آج کل اس کا نام بھی رمضان المبارک سے بدل کر ’’رمضان کریم‘‘ رکھا جا چکا ہے اب اس کی وجہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ ’’رمضان المبارک‘‘ جو عربی نام ہے اس میں اور ’’رمضان کریم‘‘ میں جو فارسی یا اردو  ترکیب ہے کیا فرق ہے لیکن اتنا جانتے ہیں کہ اس مہینے کے لیے ہمارے ہاں بہت ساری ’’تیاریاں‘‘ کی جاتی ہیں۔ اور ان بہت ساری تیاریوں میں سے ایک عشر  و زکوۃ اور خیرات و صدقات کا اہتمام بھی ہے جس کے لیے بہت سارے ’’مستحق‘‘ بھی اپنے نام اور ادارے تجویز کر چکے ہیں۔ خیر وہ دانشمند لوگ ہیں۔ کہیں سے کوئی نکتہ مل گیا ہو گا کہ ’’زکوۃ‘‘ کو مستحقین کے بجائے ان خیراتی ہسپتالوں، مراکز اور اداروں کے ’’محفوظ‘‘ ہاتھوں میں دیا جائے۔

کیونکہ ’’مستحقین‘‘ کا کیا بھروسہ ہے کہیں دال روٹی یا افطار وسحری میں یونہی نہ اڑا لیں لیکن جس مشکل سے ہمارا براہ راست سامنا ہے اس کی ابتدا مرد حق حضرت ضیاالحق نے اپنے نئے لانچ کردہ نظریہ کے مطابق بینکوں کے ذریعے کی بلکہ فرمائی تھی۔ کہ یکم رمضان کو تمام ’’سیونگ‘‘ کھاتوں سے زکوۃ کاٹ لی جائے۔ اس سیونگ کھاتوں پر ذرا زیادہ زور ہم دیتے ہیں اور توجہ آپ دے دیں کہ سیونگ کھاتے وہ ہوتے ہیں جن پر ’’منافع شریف‘‘دیا جاتا ہے۔ سو روپے کے اوپر شاید آٹھ نو یا کم وبیش روپے۔ مثلاً اگر آپ نے ایک لاکھ روپے جمع کیے ہیں اور سال بھریا کچھ خاص مدتیں بھی ہیں ان میں نہیں چھیڑیں گے تو ان پر اچھی خاصی رقم بڑھ جاتی ہے بلکہ کچھ لوگ تو خالص اسی ’’منافع شریف‘‘ سے پانی خرچہ چلاتے ہیں۔

اب ہماری مشکل یہ ہے کہ اس طرح کے کھاتوں پر یکم رمضان کو اگر زکوۃ لاگو ہو جائے تو کیا اس زکوۃ میں یہ صراحت ہے کہ اس منافع شریف یا ’’سود‘‘ سے نہ لیا جائے اور خالص بنیادی رقم پر زکوۃ لاگو ہو جائے۔ شاید آپ کو یہ بات چھوٹی لگے کیونکہ بڑے بڑے لوگوں میں ایسی ’’چھوٹی چھوٹی‘‘ باتیں ہوتی رہتی ہیں کہ ’’سود سے زکوۃ‘‘۔ گویا گٹٹرمیں کپڑا ڈال کر تر کر لیجیے اور پھر اسے نچوڑ نچوڑ کر وضو کر لیجیے ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کیونکہ ہم دانش مند نہیں ہیں نا ہوتے تو اس مسئلے کے پیر بھی کہیں پانی میں کر لیتے۔ اس لیے دانش مندوں سے پوچھنا چاہتے ہیں وہ بھی محض اس لیے کہ پہلے کی بات اور تھی لیکن اب تو ’’ریاست مدینہ‘‘ کی بات ہے۔

خیر یہ اپنی جگہ ایک اور مشکل ہے کہ پندرہ سو سال قبل کے کسی شہر یا ریاست کو کسی ٹائم مشین پر لاد کر موجودہ وقت میں پہنچایا جا سکتا ہے یا نہیں اور ہمیں اس سے بھی سروکار نہیں رکھناچاہیئے کہ دانش مند کے ساتھ ساتھ ہم سائنس دان بھی نہیں ہیں ہو سکتا ہے سائنس نے اب یہ ممکن کر دیا ہو جس کے ذریعے ریاستیں اور صادق و امین ایک زمانے سے دوسرے زمانے میں منتقل کیا جاسکتا ہو۔ ہمیں تو صرف یہی ایک مشکل درپیش ہے کہ کیا ’’سود‘‘ سے بذریعہ سود اور برائے سود زکوۃ کاٹی جا سکتی ہے۔ خدا کرے کہ اس مجلس میں کوئی ایسا دانش مند ہو جو ہماری اس مشکل کو دور کر سکے۔ رہے مستحقین زکوۃ تو ان کی کوئی چنتا نہ کریں وہ اب حکومت کی مہربانی سے بھیک مانگنا سیکھ چکے ہیں جو دنیا کا سب سے منافع بخش کاروبار ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔