نہایت دل کش رواج، شہد کی مکھیوں سے سرگوشیاں

مرزا ظفر بیگ  اتوار 26 مئ 2019
قدیم انگلستان کے دیہی علاقوں کی ناقابل یقین روایت۔ فوٹو: فائل

قدیم انگلستان کے دیہی علاقوں کی ناقابل یقین روایت۔ فوٹو: فائل

زمانۂ قدیم میں برطانیہ کے دیہی علاقوں کے سبھی چھوٹے اور بڑے گھرانوں میں ایک عجیب اور حیرت انگیز روایت عام تھی، وہ یہ کہ پہلی بات تو یہ تھی کہ ان سبھی گھروں میں شہد کی مکھیاں پالی جاتی تھیں اور دوسری بات یہ تھی کہ ان مکھیوں سے گھر میں ہونے والی ہر نئی اور انوکھی بات شیئر کی جاتی تھی، ہر راز انہیں بتایا جاتا تھا اور ان سے خوب سرگوشیاں بھی کی جاتی تھیں۔

ساتھ ہی یہ رواج بھی عام تھا کہ اگر کبھی کسی گھرانے میں کسی کی موت واقع ہوجاتی تو اس گھرانے کا کوئی فرد بڑی راز داری سے شہد کی مکھیوں کے چھتوں کے پاس جاتا اور اس عظیم سانحے کے بارے میں ان چھتوں میں رہنے والی تمام مکھیوں کو بتادیتا کہ اس گھر میں اتنا بڑا نقصان ہوگیا ہے، اس طرح مذکورہ گھر کے لوگ یہ بات شہد کی مکھیوں کو بتاکر ان سے گویا ہمدردی بٹور لیا کرتے تھے۔

ان سبھی گھرانوں میں یہ رواج بھی تھا کہ اگر شہد کی مکھیوں کو یہ افسوس ناک خبر نہ دی جاتی تو شہد کی مکھیاں اس گھر والوں سے ناراض ہوجاتیں جس کے بعد یا تو وہ اپنے چھتے چھوڑ کر چلی جاتیں یا پھر مطلوبہ مقدار میں شہد پیدا کرنا بھی بند کردیتیں، یہاں تک کہ وہ خود بھی اپنی زندگیاں ہار جاتیں اور اپنی جانوں سے چلی جاتیں۔

اس دور کے قدیم گھرانوں کی یہ روایت بھی تھی کہ شہد کی مکھیوں کو اس گھر یا گھرانے میں ہونے والی ہر نئی بات سے پوری طرح باخبر رکھا جاتا تھا اور نہ صرف خاندان میں ہونے والی اموات سے آگاہ کیا جاتا تھا بلکہ دیگر معاملات کے بارے میں بھی بتایا جاتا تھا جن میں اس گھرانے میں نئے پیدا ہونے والے بچوں کے بارے میں بھی سب کچھ بتایا جاتا تھا۔ یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ کب کس گھر میں کس لڑکی یا لڑکے کی فلاں گھرانے کی کس لڑکی یا لڑکے کے ساتھ شادی ہورہی ہے۔ جب کبھی اس گھرانے کے کسی فرد یا افراد کو بیرونی سفر پر جانا ہوتا تو اس کی طویل غیرحاضری کے بارے میں بھی سب سے پہلے شہد کی مکھیوں کو ہی آگاہ کیا جاتا تھا۔ ان لوگوں کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ اگر ایسا نہ کیا جاتا یعنی شہد کی مکھیوں کو اس بارے میں کچھ نہ بتایا جاتا تو ان گھرانوں کے لیے بڑی مشکلات پیدا ہوجاتی تھیں، نہ جانے کیسی کیسی تباہیاں اور بربادیاں اس گھرانے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی تھیں۔ اس عجیب و غریب رواج کو عام لوگ اپنی زبان میں “telling the bees” کہا کرتے تھے، یعنی شہد کی مکھیوں کو اپنے ہر راز سے آگاہ کرنا!

انسان کے بارے میں ہمیشہ یہ کہا اور سوچا جاتا ہے کہ اس کے شہد کی مکھیوں کے ساتھ بہت خاص قسم کے روابط ہوتے ہیں۔

ازمنہ وسطی یورپ میں شہد کی مکھیوں کا ایک دور میں بہت احترام کیا جاتا تھا، انہیں ان کے اعلیٰ قسم کے شہد اور موم کی وجہ سے بڑے بڑے انعامات بھی دیے جاتے تھے۔ شہد کی مکھیوں کا پیدا کردہ اعلیٰ قسم کا شہد بہ طور خوراک یا دوا استعمال کیا جاتا تھا، اس سے نہایت نفیس قسم کے مشروب بھی تیار کیے جاتے تھے، قدیم دنیا میں ہر طرح کے پیچیدہ امراض میں علاج کے لیے اسی شہد سے دوائیں بھی تیار کی جاتی تھیں ، اس کی تیار کردہ دواؤں سے خاص طور سے جلنے کے باعث آنے والے زخموں کا علاج بھی کیا جاتا تھا۔ کھانسی کی بیماری کا علاج بھی اسی شہد سے ہوتا تھا، اس کے علاوہ نظام ہضم کی خرابی اور دوسری بیماریوں کے علاج کے لیے بھی شہد کو ہمیشہ سے ہی اعلیٰ دوا اور تریاق سمجھا جاتا تھا۔ ایک بات ہمیشہ سے یہ بھی مشہور تھی بلکہ آج بھی ہے کہ شہد کی مکھیوں کے چھتوں کے موم سے تیار کردہ موم بتیاں جلنے کے بعد زیادہ روشنی دیتی تھیں، یہ موم بتیاں زیادہ دیر تک بھی جلا کرتی تھیں اور ان کی روشنی دیگر موم بتیاں کی روشنی کے مقابلے میں بہت صاف اور واضح ہوتی تھی۔

قدیم انگلستان میں عام طور سے شہد کی مکھیوں کے چھتے خانقاہوں یا پھر جاگیرداروں کی کوٹھیوں میں لگائے جاتے تھے اور ان کی پرورش بڑے اہتمام، توجہ اور احترام سے کی جاتی تھی اور ان شہد کی مکھیوں کو اپنے گھر کے افراد یا کمیونٹی کے رکن والا احترام دیا جاتا تھا۔ اس کی ایک مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ شہد کی مکھیوں کی اتنی عزت کی جاتی تھی کہ ان کے سامنے افراد آپس میں نہ تو لڑتے تھے اور نہ ہی ایک دوسرے کی بے عزتی کرتے تھے۔

چناں چہ telling the bees یا شہد کی مکھیوں سے سرگوشیوں کا یہ سلسلہ Celtic mythology یا کلٹی اساطیریات سے تعلق رکھتا تھا جہاں اس کی بنیاد رکھے جانے کے ثبوت ملتے ہیں۔ کلٹی اساطیریات میں شہد کی مکھیوں کا تعلق ہماری اس دنیا اور روحوں کی دنیا سے ملتا ہے، اس لیے اگر آپ کو روحوں کی دنیا میں اپنے کسی آنجہانی دوست یا رشتے دار کو کوئی خاص پیغام بھیجنا ہے تو یہ کام بہت آسان ہے، آپ کو صرف یہ کرنا ہوگا کہ مذکورہ پیغام شہد کی مکھیوں تک پہنچادیں اور وہ آپ کا یہ پیغام آپ کے دنیا سے گئے ہوئے دوست یا رشتے دار تک نہایت محفوظ انداز اور سرعت سے پہنچادیں گی۔

Telling the bees کا یہ سلسلہ لگ بھگ پورے کے پورے یورپ میں وسیع پیمانے پر رائج تھا اور پھر یہ یورپ بھر میں ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک قوم سے دوسری قوم تک پہنچتا اور فروغ پاتا رہا جس کے نتیجے میں یہ عظیم روایت یورپ سے نکل کر مزید آگے تک پھیلتی چلی گئی اور جلد ہی اس نے بحر اوقیانوس کے پار اور شمالی امریکا میں بھی اپنی جڑیں مضبوطی سے جمالیں۔

Telling the bees کا نہایت پیچیدہ اور مشکل ترین طریقہ کوئی ایسا سادہ اور آسان کام نہ تھا، اس کے لیے صرف یہ کرنا ہوتا تھا کہ پہلے وہ بات جو آگے بتانی اور پھیلانی ہوتی تھی، وہ گھر کے بڑے یا گھر والی کو بتادی جاتی جس کے لیے گھر سے باہر نکل کر شہد کی مکھیوں کے چھتے کے پاس جانا پڑتا تھا۔

اس کے بعد شہد کی مکھیوں کے چھتے پر نہایت نرمی اور آہستگی سے دستک دی جاتی تاکہ شہد کی مکھیوں کی توجہ حاصل کی جاسکے جس کے بعد چھتے کے پاس کھڑے ہوکر نہایت دھیمی اور مدھم آواز میں یعنی بھن بھناتے ہوئے موسیقی کی سی دھن میں مذکورہ خبر شہد کی مکھیوں کی سنادی جاتی۔ لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صدیوں کے اس سفر کے دوران چھوٹے چھوٹے بندوں پر مشتمل نظمیں یا قافیے بھی بنتے چلے گئے جو ہر خاص علاقے سے جڑے تھے اور وہ خبر کی صورت میں اسی انداز سے دہرائے جانے لگے۔

ناٹنگھم شائر میں یہ دستور تھا کہ مرنے والے کی بیوی شہد کی مکھیوں کے چھتے کے سامنے کھڑے ہوکر نہایت دھیمی آواز میں وہ گیت یا نظم گاتی تھی جس میں وہ موت کے فرشتے سے مخاطب ہوتی تھی اور یہ کہتی تھی:’’اے موت کے فرشتے تو یہاں سے چلا جا، ہوسکتا ہے کہ تیری بیوی تیرے لیے اچھی ہو، اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ تو اس کے پاس واپس چلا جا۔۔۔‘‘

جرمنی میں بھی اسی انداز کی شاعری سنی جاتی تھی جس میں کہا جاتا تھا:’’اے چھوٹی شہد کی مکھی، ہمارا لیڈر مرچکا ہے، تم میرے لیے اور مسائل کھڑے نہ کرو۔‘‘

Telling the bees کی یہ روایت نیو انگلینڈ میں بھی عام تھی۔ انیسویں صدی کا امریکی شاعر جان گرین لیف وھٹیئر اس عجیب و غریب رواج کو اپنی 1858 کی ایک نظم “Telling the bees” میں اس طرح بیان کرتا ہے:

ان کے سامنے باغ کی دیوار کے نیچے

آگے اور پیچھے

وہ چھوٹی سی لڑکی گاتی ہوئی جارہی تھی

اس نے سیاہ کپڑے سے ہر چھتے کو ڈھانپ رکھا تھا

میں نے اس کی لرزتی ہوئی آواز سنی:

گرمی کے سورج میں

برف کی سردی اور ٹھنڈک تھی

میں جانتا تھا کہ وہ چھوٹی لڑکی شہد کی مکھیوں کو کسی کی موت کی خبر سنا رہی ہے، وہ کسی کے طویل سفر پر جانے کی اطلاع دے رہی ہے۔۔ جہاں ہم سبھی کو جانا ہے!

اور وہ جو گیت گا رہی تھی، وہ میرے کانوں میں بس گیا تھا۔۔۔۔وہ مجھے آج بھی یاد آتا ہے۔۔۔۔

’’اے پیاری شہد کی مکھیو! اپنے گھروں میں رہو، یہاں سے اڑکر کہیں مت جاؤ، ہماری مسٹریس میری مرگئی ہے اور وہ دنیا سے جاچکی ہے۔‘‘

موت کی صورت میں شہد کی مکھیوں کے رکھوالے اپنے چھتوں کو سیاہ کپڑے سے ڈھانپ دیا کرتے تھے، اگر خاندان میں کوئی شادی وغیرہ ہوتی یا ہونے والی ہوتی تو ان تمام چھتوں کو سجایا اور سنوارا جاتا اور ان چھتوں کے باہر کیک کے ٹکڑے بھی رکھ دیے جاتے جو ان مکھیوں کے لیے ہوتے تھے، تاکہ وہ بھی خاندان کی خوشیوں میں شامل ہوسکیں۔

اس کے علاوہ نئے شادی شدہ جوڑوں کو گھر میں شہد کی مکھیوں کے چھتوں کے پاس لے جاکر ان سے اچھی طرح متعارف کرایا جاتا، کیوںکہ یہ ان گھر والوں کا عقیدہ تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو نئے شادی شدہ جوڑے اچھی اور خوش حال زندگی نہیں گزار سکیں گے۔

اگر شہد کی ان مکھیوں کو ایسی اندوہ ناک خبروں سے آگاہ نہ کیا گیا تو اس خاندان کے ساتھ نہ جانے کیسے کیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، یہ عقیدہ تھا ان سب لوگوں کا، یہاں تک کہ شہد کی مکھیوں کے وہ چھتے خریدنے والا فرد بھی معاشی بدحالی کا شکار ہوسکتا تھا۔

Margaret Warner Morley ایک وکٹورین بایولوجسٹ ہے، اس نے اپنی کتاب The Honey-Makers (1899) میں لکھا تھا کہ نارفوک میں ایک ایسا کیس پیش آیا تھا جہاں ایک آدمی نے شہد کی مکھیوں کا ایک چھتا خریدا جو ایک ایسے فرد کی ملکیت تھا جو دنیا سے جاچکا تھا، اس چھتے کا سابق مالک شہد کی مکھیوں کو ماتم و سوگواری میں مبتلا نہیں کرسکا تھا، اس لیے وہ تمام مکھیاں بیمار ہوگئیں، جب مکھیوں کے نئے مالک نے اس چھتے کو سیاہ ماتمی کپڑے میں لپیٹا تو شہد کی مکھیاں ٹھیک اور تن درست ہوگئیں۔

ایک اور کہانی میں لکھا ہے کہ ایک آکسفورڈ شائر کا خاندان سترہ چھتوں کا مالک تھا کہ ان کا مالک مرگیا۔ چوں کہ انہیں کسی نے بھی اس کی موت کے بارے میں نہیں بتایا تھا، اس لیے شہد کی ہر مکھی مرگئی۔ اس کتاب میں ایسی متعدد کہانیاں شامل ہیں۔

Telling the Bees, by Albert Fitch Bellows. circa 1882شہد کی مکھیوں اور ان کی نگہ داشت کرنے والوں کے درمیان ایک خاص قسم کے تعلق اور پیار کے حوالے سے بہت سی کہانیاں مشہور ہیں جن کے باعث متعدد لوک داستانیں بھی وجود میں آچکی ہیں۔ ایک لوک کہانی میں بتایا گیا ہے شہد کی مکھیوں کے ان چھتوں کو بیچنے یا خریدنے کی وجہ سے انسان کی قسمت کھل بھی سکتی ہے اور وہ بدقسمتی کے چنگل میں بھی پھنس سکتا ہے۔ اسی لیے کچھ کہانیوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اکثر لوگ ایسے چھتوں کی خرید و فروخت نہیں کرتے تھے، بلکہ انہیں بارٹر سسٹم کے تحت دوسری چیزوں کے بدلے لے لیا کرتے تھے یا دے دیا کرتے تھے یا بہ طور تحفہ دے دیا کرتے تھے۔

ایک کہاوت یہ مشہور ہے کہ اگر کسی گھر کے اندر شہد کی کوئی مکھی اڑے تو جلد ہی کوئی اجنبی کال کرے گا، اگر شہد کی یہ مکھیاں چھت پر بیٹھ جائیں تو جلد ہی خوش قسمتی اپنا زور دکھاتی ہے۔

لیکن انسان اور شہد کی مکھیوں کے درمیان محبت اور پیار کا رشتہ توہمات سے کافی دور اور الگ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شہد کی مکھیاں انسان کے بہت کام آتی ہیں، وہ اس کے لیے صحت اور خوش حالی بھی لاتی ہیں اور دولت اور تونگری بھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔