اراکین تجاویز دیں، امن و امان کی صورتحال بہتر بنائیں گے، مالک بلوچ

نمائندہ ایکسپریس  بدھ 28 اگست 2013
تحریک استحقاق اورامن وامان  پر پہلے بحث کرنے کے معاملے پرارکان الجھ پڑے، ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہ دی، بحث آج تک ملتوی۔ فوٹو: فائل

تحریک استحقاق اورامن وامان پر پہلے بحث کرنے کے معاملے پرارکان الجھ پڑے، ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہ دی، بحث آج تک ملتوی۔ فوٹو: فائل

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ اراکین اسمبلی صوبے میں امن وامان کی صورتحال بہتربنانے کیلیے اگر تجاویز دیں توانھیں زیرغورلاکر موثر پالیسی بناکرامن وامان کی صورتحال بہتر بنائینگے۔

صوبے میں سیلاب سے متاثرہ اوردیگر علاقوں میں وبائی امراض کی روک تھام اور سانپ کے ڈسنے کی ویکسین کی فراہمی کویقینی بنایاگیا ہے،کوئٹہ کے گردونواح میں مقامی قبائل کی زمینوں کی الاٹمنٹ  فوج اور ایئرفورس کی جانب سے خریدی گئی زمینوں کے حوالے سے رکن اسمبلی منظور احمد کاکڑ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے مکمل تفصیلات اور ریکارڈ حاصل کرے گی ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کو بلوچستان اسمبلی میں امن وامان پر بحث وبائی امراض سے متعلق تحریک التوا اور زمینوں کے حوالے سے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کے دوران کیا۔

اجلاس کی صدارت  ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے کی ایوان میں تحریک استحقاق پراور امن وامان کے حوالے سے پہلے بحث کرنے کے معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان زبردست نوک جھونک ہوئی اراکین کے مسلسل بولنے سے ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی اور یہ سلسلہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا،  جے یو آئی  کے گل محمد دمڑ نے کہا کہ  ایوان میںموجود جماعتوںپر مشتمل کمیٹی بنائی جائے، لاپتہ افراد کوبازیاب کرایا جائے، اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ ضرورت اس امرکی ہے کہ اراکین تجاویزدیں اورحکومت ان پرعملدرآمد کرے تو امید ہے کہ بلوچستان میںلگی آگ اگر بجھے گی نہیں تو  کم ضرورہوجائے گی، نیشنل پارٹی کی یاسمین لہڑی نے کہا کہ  بلوچستان کا مسئلہ اتنا آسان نہیں، سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھنے سے مسئلہ حل نہیںہوگا،پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سید لیاقت علی آغا نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے بھی حکومت کوناکام قرار نہیں دیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔