ڈالر کی اڑان

نسیم انجم  اتوار 26 مئ 2019
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

ہر روز ڈالرکی اڑان بلند سے بلند تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت ڈالر 154 روپے کا ہوگیا ہے، زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں پاکستانی روپے کی قدر مسلسل گھٹ رہی ہے، اس صورتحال سے انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالرکی قدر 151 روپے 92 پیسے ہوچکی ہے۔ جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 3 روپے کے اضافے سے 154 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے یہ اس کا ہی نتیجہ ہے کہ مارکیٹ کی قوتیں اب آزادی کے ساتھ ڈالرکی قدرکا تعین کررہی ہیں اور اس عمل میں حکومت یا مرکزی بینک کوئی مداخلت نہیں کر رہا ہے جب کہ ماہرین زمانہ ماضی سے اس بات کا خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کی چھوٹی مارکیٹ ہے اور اس چھوٹی مارکیٹ میں ڈالر کو آزاد چھوڑنے کا اقدام درست نہیں ہے، اس وقت حالات یہ ہیں کہ روپے کے مقابلے میں دوسری کرنسیوں کی بھی اہمیت زیادہ اور اڑان اونچی ہے۔

 مفتی تقی عثمانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ڈالر خریدکر اس انتظار میں رکھنا کہ قیمت بڑھنے پر اسے فروخت کرکے نفع کمایا جائے شرعاً گناہ ہے، یہ عمل ملک کے ساتھ بے وفائی اور ذخیرہ اندوزی بھی ہے جس پر ایک روایت میں لعنت آئی ہے انھوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس گناہ اور اس کے برے نتائج سے محفوظ رکھے۔

موجودہ حالات کے تناظر اور مفتی تقی عثمانی کے شرعی بیان کے مطابق پاکستانی عوام کو محب وطن ہونے کا ثبوت دینا ناگزیر ہوگیا ہے اور اب اس کے لیے ڈالر کا بائیکاٹ کرنا ضروری ہے تاکہ پاکستانی کرنسی کا وقار بڑھے اور ملک کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکے، گزشتہ سال ترکی بھی ایسی ہی اذیت سے گزرا جب ڈالر کے مقابلے میں لیرا ایک رات میں 35 فی صد گر گیا، ترک ایک عظیم قوم ہے، ترکش عوام نے طیب اردگان کے ہر فیصلے کو خوش دلی کے ساتھ قبول کیا، چونکہ وہ اپنے وطن سے مخلص تھے۔

ترکی کے عوام صدر طیب اردگان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے تھے، اردگان نے اپنی عوام کو امریکی مصنوعات اور ڈالر کا بائیکاٹ کرنے کا کہا اور پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ ترکوں نے سڑکوں اور شاہراہوں پر ڈالروں کو نذرآتش کردیا اور بہت سے لوگوں نے اپنے قیمتی آئی فون توڑ دیے اور پھر ’’قطر‘‘ مددگار کے طور پر سامنے آیا، قطر نے 15 ارب ڈالر کا لیرا خریدا اس بروقت مدد سے ترکی کی کرنسی کو سہارا ملا، ہمارے ملک پاکستان کی مدد کے لیے کئی ملک آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن واشنگٹن نے کچھ ایسی شرائط لگا دی ہیں جن کے تحت یہ ممکن نہیں ہے۔

یہ وقت آزمائش کا ہے، پاکستان کی معیشت کو تنزلی سے نکالنے کا ہے پاکستان سے مخلص اور اس کو مستحکم دیکھنے والے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی آگے بڑھیں گے اور ڈوبتی ہوئی ناؤ کو کنارے پر لے آئیں گے، لیکن پاکستان کے دشمن جو منافقت کا مظاہرہ ہر دور میں کرتے رہے ہیں وہ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ پاکستان اس بحران سے نکل سکے۔ منافقین کی بات سے مجھے ایک واقعہ یاد آگیا، جنگ احد میں آنحضرت ﷺ ایک ہزار مسلمانوں کے ساتھ احد کی طرف جہاں مشرکین مکہ خیمہ زن تھے بڑھے، عبداللہ بن ابی منافق تین سو سواروں کی معیت میں نکلا اور پھر ’’غدر لنگ‘‘ کہہ کر لوٹ گیا اور اس نازک موقع پر مسلمانوں کی تعداد سات سو ہوگئی۔

وقت ایک ایسا پیمانہ ہے جس سے کھرے، کھوٹے کی تمیز باآسانی ہوجاتی ہے۔ پاکستانی قوم غیور اور فرض شناس ہے ہر موقع پر اس نے فرض شناسی کا مظاہرہ کیا ہے اور پاکستان کی حفاظت اور استحکام کے لیے تازہ دم نظر آئی ہے، ان دنوں بھی حالات سازگار نہیں ہیں، لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ مزید ڈالر نہیں خریدے جائیں اور جو خرید لیے ان میں سے آدھے ہی صحیح پاکستانی کرنسی میں بدل دیں، بے شک نقصان ہوگا لیکن اس نقصان سے تو بہتر اور بہت بہتر ہوگا کہ ملک عزیز کو نقصان پہنچایا جائے ۔ویسے بھی آج کل حالات آنیوالے طوفان کا پتہ دے رہے ہیں بھارت وقتی طور پر خاموشی کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن اس خاموشی کے پیچھے گھناؤنی سازش کا جال بنا جا رہا ہے، ویسے بھی نیو ورلڈ آرڈر کے تحت اس خطے میں اب ایران اور پاکستان ہی بچے ہیں۔

امریکا جس طرح ایران سے جنگ کرنے پر تلا ہوا ہے اور نئی نئی شرائط لگاتا ہے، اسی طرح پاکستان بھی صہیونیوں اور نصرانیوں کی نگاہ کا کانٹا ہے اس سے پہلے کہ ہم سامراجی قوتوں کا شکار بنیں ہمیں ان باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے، روپیہ دے کر ڈالر نہیں خریدیں، امریکی مصنوعات نہیں خریدیں، صوبائیت، عصبیت اور فرقہ واریت کو بھول جائیں کہ اس عمل سے ہی پاکستان اور پاکستانی قوم دشمن کے منہ کا تر نوالہ بننے سے بچ سکتی ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ امریکا نے بحیرہ عرب میں لاکھوں ڈالر خرچ کرکے بحری بیڑے کو پہنچادیا، تو اس کے مذموم مقاصد سمجھ لینا چاہیے، یہ بحری بیڑہ مچھلیاں پکڑنے کے لیے نہیں ہے۔

پاکستان کے دشمنوں نے پاکستانی کرنسی کو ڈی ویلیو کرکے پاکستان مخالف نعرے لگانے کا ٹاسک اپوزیشن کو دے دیا ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن بھی غیر نہیں ہے، اگر اللہ نہ کرے پاکستان مسائل کا شکار ہوگا تو اپوزیشن بچ جائے گی، اگر بچ بھی گئی تو اللہ کی پکڑ سے محفوظ نہیں رہ سکتی ہے، تاریخ گواہ ہے غداروں کا انجام عبرت ناک ہوا ہے۔ لہٰذا سابقہ حکمرانوں اور مقتدر حضرات کو ٹھنڈے دل سے یہ سوچنا چاہیے کہ پاکستان کو کمزور کرنے کا مطلب اپنی اور اپنی آنیوالی نسلوں کے تحفظ کو برباد کرنا ہے۔

(ن) لیگ اور پی پی کا گٹھ جوڑ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے ہمیشہ سے ایسا ہوا ہے، سیاستدان اس طرح کے بیانات دے کر اپنے آپ کو ہر الزام سے بری کرلیتے ہیں کہ کبھی جعلی اور نالائق حکومت کہتے ہیں کبھی نااہل اور سلیکٹڈ وزیر اعظم اور اس سے بھی بڑھ کر الزام تراشیاں کرتے ہیں اور حقیقت سے نظریں چراتے ہیں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ سب کچھ کرا دھرا تو ان کا اپنا ہے، پی ٹی آئی نے تو یہ قرضہ نہیں لیا تھا، تعلیمی اداروں کی بربادی کے ذمے دار تو یہ لوگ خود ہیں، سندھ کا حال جاکر دیکھ لیں عوام ہر قسم کی سہولت سے محروم ہیں، پنجاب کے لوگ بھی بنیادی سہولتوں کے لیے ترستے ہیں اور آج بھی جرائم کا بول بالا ہے، دس، پندرہ سال کی غلاظت کو ایک دم تو ٹھکانے نہیں لگایا جاسکتا ہے، موجودہ حکومت کو تو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا ہے، جرائم کی دلدل کو پاٹنے میں وقت تو لگے گا۔

بے سروپا باتیں، جھوٹے الزامات سے کب تک اپنے آپ کو تسلی دی جاسکتی ہے، حالات کا تقاضا ہے کہ حقیقت کی دنیا میں آئیں اور دیکھیں کہ دوسرے ممالک کس طرح ترقی کی دوڑ میں مصروف ہیں، وہ کام کر رہے ہیں ملک کی خوشحالی اور استحکام کے لیے، اپنے ملک کو مضبوط بنانے کے لیے اپوزیشن خلوص دل کے ساتھ تعاون کرے، اگر پاکستان سے ذرا سی بھی محبت ہے؟ نیت نیک ہو تو اللہ ضرور مدد کرتا ہے کل کی ہی بات ہے جب ڈالر کی بلند پرواز نے ہر شخص کو مایوس کردیا تھا اور آج کی خبر کے مطابق ڈالر کی قدر ایک روپے کم اور سونا بھی سستا ہوا ہے اس طرح اسٹاک مارکیٹ میں 91 فیصد حصص کی قیمت بڑھ گئی، ایک کھرب 97 ارب روپے کا اضافہ بھی ہوا، ساتھ میں ایک خبر اور بھی اچھی سننے کو ملی کہ برے وقت میں ہمارے سعودی (حکمران) بھائی پاکستان کی مدد کے لیے آگے بڑھے ہیں سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 3 سال تک 9.6 ارب ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات ادھار دینے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ بات اسٹاک مارکیٹ کے لیے خوش آیند ہے اس طرح معیشت مستحکم ہوگی (انشا اللہ)۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔