کراچی کے حالات قابو میں ہیں تو پولیس یا رینجرز مجھے کھارادریا چاکیواڑہ لے جاکردکھائیں،چیف جسٹس

ویب ڈیسک  بدھ 28 اگست 2013

تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کیلئے سبسکرائب کریں

کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ کہ معلوم نہیں وہ کون سی  طاقتیں ہیں جو شہر میں پولیس اور رینجرز کو قیام امن سے روکتی ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بدامنی کیس کی سماعت جاری ہے، دوران سماعت چیف جسٹس نے ڈی جی رینجرز کی عدالت میں عدم موجود گی پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے ڈی جی رینجرز کو طلب کرلیا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم یہاں وقت ضائع کرنے نہیں آئے، ہم نے آئین کی بالادستی کی قسم کھائی ہے، ان کا کہنا تھا کہ 9 دن میں 100 لوگ مارے گئے، پولیس رینجرز کیا کررہی ہے۔

ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر نےعدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ  کراچی کے حالات خراب کرنے میں سیاسی ونگزملوث ہیں ،سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی رہائی کے بعد حالات خراب ہوتے ہیں ،رمضان المبارک میں سیاسی جماعتیں فطرانے لے کر مزے لوٹ رہی تھی اب شور مچار ہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 2 سال 4 ماہ قبل سپریم کورٹ نے عسکری ونگ کے حاتمے کا فیصلہ دیا، اب تک آپ نےعمل کیوں نہیں کیا، اگر آپ اپنی ذمےداری ادا نہیں کرسکتے تو ناکامی قبول کرلیں، انہوں نے کہا کہ معلوم نہیں وہ کون سی  طاقتیں ہیں جو پولیس اور رینجرز کو قیام امن سے روکتی ہیں، آئی جی بتائیں گذشتہ سماعت سے اب تک کراچی کے حالات میں کیا بہتری آئی ہے، پولیس کے عہدیدار بغیر پروٹو کول کے سڑکوں پر نظر آنے چاہئیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 2سال میں شہرمیں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا مکمل کنٹرول ہونا چاہیے تھا، اگرصورت حال قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قابو میں ہے تو مجھے کھارادر، چاکیواڑہ لے جاکر دکھائیں، عدالت نے سماعت کے وقفے کے دوران ڈی رینجرز اور آئی جی کو بھتہ خوری ،ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے ایک مہینے کی رپورٹ جمع کروانے کا بھی حکم دے دیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔