سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں اطلاعات کی آزادی سے متعلق قانون منظور

ویب ڈیسک  بدھ 28 اگست 2013
کمیٹی نے غیرملکی ڈراموں کو نشر کرنے کے معاملہ پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے  آئندہ اجلاس میں پیمرا سے جواب طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔  فوٹو: فائل

کمیٹی نے غیرملکی ڈراموں کو نشر کرنے کے معاملہ پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں پیمرا سے جواب طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں اطلاعات و نشریات نے اطلاعات کی آزادی سے متعلق قانون ’’فریڈم آف انفارمیشن لا‘‘ کے مسودہ کی منظوری دے دی۔

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات اجلاس میں مجلس قائمہ نے نجی ٹی وی چینل کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کی مذمت کی اور بلوچستان کے سیکرٹری اطلاعات کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس نا خوشگوار واقعے کے بارے میں  ان کا بیان قلمبند ہوسکے۔ اجلاس کے دوران سینیٹر فرحت اللہ بابر کی سربراہی میں  قائم ذیلی کمیٹی کے تیار کردہ اطلاعات کی آزادی کے بل کے مسودے کی منظوری دی گئی۔

اس موقع پر سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ پارلیمان سے منظوری کی صورت میں یہ قانون صوبوں کے لئے ایک مثال ہوگا جسے وہ اپنا سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ حکومت اتفاق رائے پر یقین رکھتی ہے اور تمام فریقین کی مشاورت سے فیصلے کرتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس بل کو پارلیمنٹ میں  پیش کرنے سے قبل کابینہ میں منظور کرے تاہم کمیٹی نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ بل کو سینیٹر کامل علی آغا نجی کارروائی کے دن کثیرالجماعتی بل کے طورپر سینٹ میں  پیش کریں  گے۔

کمیٹی نے اردو ڈبنگ کے ساتھ غیرملکی ڈراموں کو نشر کرنے کے معاملہ پر تشویش کا اظہارکیا اور فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں  پاکستان الیکڑانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا سے جواب طلب کیاجائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔