عید مبارک

وقار احمد شیخ  بدھ 5 جون 2019
تمام مسلمانوں کو عید مبارک ہو۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

تمام مسلمانوں کو عید مبارک ہو۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

امسال بھی ملک میں دو عیدیں منائی جارہی ہیں۔ عید ایک مذہبی تہوار ہے، جسے سیاست کی نذر کردیا گیا ہے۔ غضب خدا کا! کبھی اٹھائیس روزوں کے بعد بھی عید ہوئی ہے؟ لیکن کل نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی اٹھائیس روزوں کے بعد عید منالی گئی۔

آخر ملک میں ”دو چاند“ کا معاملہ ختم کیوں نہیں ہورہا؟ جبکہ اس سال عوام مطمئن تھے کہ ملک میں ایک ہی عید منائی جائے گی کیونکہ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی پیش گوئی کرچکے تھے کہ عید کا چاند منگل کو نظر آجائے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وزیر موصوف کے سائنس و ٹیکنالوجی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد مذاق میں ہی سہی لیکن عوام بھی سائنس میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ آج ایک عام آدمی بھی جانتا ہے کہ چاند کی پیدائش اور مختلف ریجن میں نظر آنے کی کیا صورت ہوتی ہے۔

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی آج جس قمری کیلنڈر کے بنانے کی بات کررہے ہیں یہ سب تو پہلے ہی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ جہاں باقاعدہ چاند کی پیدائش اور رویت کے بارے میں پیشگی معلومات فراہم کردی جاتی ہیں۔ یہاں تک واضح کردیا جاتا ہے کہ کن علاقوں میں چاند دیکھنے کے قوی امکان اور کہاں مدہم ہیں۔ اور کہاں ابر آلود موسم کے باعث چاند رویت کے بعد بھی نظر نہیں آسکتا۔ اس قدر واضح معلومات کے بعد ”چاند“ پر جھگڑا چہ معنی دارد؟

انٹرنیٹ پر چاند سے متعلقہ ویب سائٹ moonsighting.com وزٹ کیجئے اور چاند کی پیدائش سے متعلق معلومات حاصل کرلیں۔ اس ویب سائٹ پر باقاعدہ نقشہ بنا کر دکھایا گیا ہے کہ کس ملک اور ریجن میں چاند کن کن صورتوں میں نظر آسکتا ہے۔ timeanddate.com پر بھی آپ کو اپنے علاقے میں چاند سے متعلق تفصیلی معلومات مل جائیں گی۔ واضح رہے کہ سائنسی حساب سے ملک کے کسی بھی حصے میں کسی بھی صورت چاند نظر آہی نہیں سکتا تھا۔ جیسا کہ ان خاکوں سے بھی ظاہر ہورہا ہے۔

(تین جون 2019 کو چاند کی رویت کی حالت)

(چار جون 2019 کو چاند نظر آنے کا چارٹ)

ان معلومات کی روشنی میں یہ تو طے ہے کہ چاند کی پیدائش کس خطے میں کب ہورہی ہے اور رویت کب تک ممکن ہے۔ رویت ہلال سے متعلق جو مذہبی نقطہ نظر ہے، اس کے پیش نظر ان ہی معلومات کے تناظر میں چاند کو ”دیکھنے“ کا بھی انتظام کرلیا جائے اور پورے ملک میں ایک ساتھ ہی عید منانے کا سرکاری اعلان کیا جائے تو تمام ابہام اور تنازعات دور ہوسکتے ہیں۔

انٹرنیٹ پر گردش کرتی معلومات اور میڈیا کے ذریعے بھی اس سال ایک عام آدمی کے علم میں تھا کہ چاند کی پیدائش پیر کے دن 3 بج کر 2 منٹ پر ہوئی تھی۔ مغرب کے وقت تک چاند کی عمر اتنی نہیں ہوتی کہ اسے ”دیکھا“ جاسکتا، اس لیے واضح تھا کہ چاند منگل کے دن ہی نظر آئے گا، جبکہ اس کی عمر بھی 28 گھنٹے ہوگی اور اسے عام آنکھ سے دیکھا جاسکے گا۔ عوام بھی مطمئن تھے کہ انتیس روزوں کے بعد پورے ملک میں ایک ساتھ ہی عید منائی جائے گی۔ لیکن ہر سال کی طرح امسال بھی دانستہ چاند کی رویت کا جھگڑا اٹھایا گیا۔ صرف اٹھائیس روزے کے بعد ہی چاند نظر آنے کی شہادتیں بھی پیش کردی گئیں جبکہ یہ واضح تھا کہ محض چند گھنٹے عمر کا چاند کا دیکھا جانا ملک میں ممکن ہی نہیں تھا۔ اگر ان ”شہادتوں“ کا سائنسی بنیادوں پر پوسٹ مارٹم کیا جائے تو تمام حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی اور ”جھوٹی شہادتیں“ دینے والے بھی قوم کے سامنے برہنہ ہوجائیں گے۔

عوام سمجھ چکے ہیں کہ دجالی فتنے کا ظہور تو نہیں ہوا البتہ ”دجالی“ قوتوں کے پیروکار پوری شدومد کے ساتھ دین اسلام اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف مصروف عمل ہیں۔ افسوسناک امر ہے کہ یہ دجالی پیروکار مسلمانوں کا ہی روپ دھارے ہمارے درمیان موجود ہیں اور متنازع پہلوﺅں کو اجاگر کرکے قوم کا ذہن منتشر کررہے ہیں۔ عوام کو اس سازش کو سمجھنا ہوگا۔ سیاست اور قوم پرستی کی خاطر مذہب کو کھلونا بنانے والے ان گماشتوں سے ہوشیار رہیں۔

امید ہے آئندہ سال چاند کی رویت سے متعلق ان ابہام کا خاتمہ کردیا جائے گا اور پوری قوم ایک ساتھ ایک ہی دن عید منائے گی۔ ہماری جانب سے تمام عالم اسلام کو ”عید مبارک“ ہو۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

وقار احمد شیخ

وقار احمد شیخ

بلاگر جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز ہیں اور گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ موصوف اپنے حقیقی نام کے علاوہ ’’شایان تمثیل‘‘ کے قلمی نام سے نفسیات وما بعدالنفسیات کے موضوعات پر ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ کالم نگاری کے علاوہ کہانیوں کی صنف میں بھی طبع آزمائی کرتے رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔