پلیئرز سے تنازع، رہنمائی کیلیے زمبابوے نے پاکستان سے رابطہ کرلیا

سلیم خالق  اتوار 1 ستمبر 2013
 زمبابوے میں ان دنوں کرکٹرز اور بورڈ کا تنازع جاری ہے، میچ فیس سے محروم دنیا کی واحد ٹیم اب مزید ناانصافی سہنے کو تیار نہیں، فوٹو :فائل

زمبابوے میں ان دنوں کرکٹرز اور بورڈ کا تنازع جاری ہے، میچ فیس سے محروم دنیا کی واحد ٹیم اب مزید ناانصافی سہنے کو تیار نہیں، فوٹو :فائل

کراچی: پلیئرز سے تنازع میں رہنمائی کیلیے زمبابوین کرکٹ نے پاکستان سے رابطہ کر لیا، معاوضوں و دیگر معاملات پر مشاورت کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق زمبابوے میں ان دنوں کرکٹرز اور بورڈ کا تنازع جاری ہے، میچ فیس سے محروم دنیا کی واحد ٹیم اب مزید ناانصافی سہنے کو تیار نہیں، پاکستان کیخلاف جاری سیریز میں پلیئرز 2بار بائیکاٹ کی دھمکی دے چکے مگر حکام کی یقین دہانی پر اسے عملی جامہ نہیں پہنایا، اب پیر تک کی ڈیڈ لائن کے دوران اگر واجبات ادا نہ کیے گئے تو ٹیسٹ سیریز منسوخ ہو سکتی ہے، ذرائع نے نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ زمبابوے کرکٹ کے ایک اعلیٰ آفیشل نے پی سی بی سے رابطہ کر کے حالات سے آگاہ کیا، اس نے پاکستانی پلیئرز کو معاوضوں کی ادائیگی کے طریقہ کار و دیگر معاملات پر مشاورت بھی کی، زیادہ زور اس بات پر رہا کہ ’’کیا پی سی بی اپنے کھلاڑیوں کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور ورلڈکپ جیسے آئی سی سی ایونٹس کی آمدنی کا شیئر دیتا ہے‘‘ جواب میں انھیں بتایا گیا کہ ایسا نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ زمبابوین کرکٹرز کا ایک بڑا مطالبہ یہی ہے،ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان کے حالیہ ٹور کا انعقاد بھی ایک موقع پر خطرے میں پڑ گیا تھا اسی وجہ سے آخری لمحات میں شیڈول کا اعلان کیا گیا، زمبابوے کو کوئی اسپانسر نہیں مل رہا تھا، ایسے میں دونوں ممالک کا مشترکہ براڈ کاسٹر ادارہ مدد کو آیا،اس نے پی سی بی کے اشتہاری معاملات کی دیکھ بھال کرنے والی ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے رابطہ کیا جس نے پاکستانی کمپنیز سے اسپانسر شپ دلائی، حالیہ سیریز کے میچز میں گرائونڈز پر انہی کے بورڈز لگے دکھائی دیتے ہیں، اس کے باوجود زمبابوے کا دعویٰ ہے کہ سیریز سے اسے 10لاکھ ڈالر کا نقصان ہو گا۔ دریں اثنا ذرائع نے مزید بتایا کہ مالی خسارے کے زمبابوین دعوے میں زیادہ دم نہیں ہے، اسے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ہر سال 80لاکھ ڈالر دیتی ہے، اخراجات زیادہ ہیں نہیں، ایسے میں بورڈ کے خزانے میں بھاری رقم موجود ہو گی، نجانے کیوں وہ اپنے کھلاڑیوں کو معاوضوں کیلیے ترسا رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔