وفاقی بجٹ کا حجم 6800 ارب،خسارہ3000 ارب، کابینہ کل منظوری دے گی

ارشاد انصاری / رضوان غلزئی  پير 10 جون 2019
اقتصادی جائزہ سروے میں معاشی ترقی، زراعت، صنعت سمیت تمام اہم اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا انکشاف فوٹو: فائل

اقتصادی جائزہ سروے میں معاشی ترقی، زراعت، صنعت سمیت تمام اہم اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا انکشاف فوٹو: فائل

 اسلام آباد: وفاقی کابینہ منگل کو آئندہ مالی سال کیلئے 6800 ارب روپے کے لگ بھگ محاصل کے حجم پر مشتمل وفاقی بجٹ اور فنانس بل کے مسودے کی منظوری دیگی، جس کے بعد منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے جبکہ اس سے قبل آج( پیر) اقتصادی جائزہ رپورٹ جاری کی جائے گی تاہم معاشی ترقی، زراعت، صنعت، مینوفیکچرنگ، خدمات سمیت اہم اہداف حاصل نہ ہوسکے۔

تفصیلات کے مطابق بجٹ 2019-20ء ، مجموعی حجم 6800 ارب روپے متوقع، ٹیکس وصولیاں 5550 ارب، دفاع کیلئے 1250 ارب سے زائد، ترقیاتی منصوبوں کیلئے 925 ارب، مالی خسارے کا ہدف 3000 ارب جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 2500 ارب روپے مختص کرنے کی تجاویز، 1400 ارب کے ٹیکس اقدامات، سرکاری ملازمین کی تنخواہ و پنشن میں دس فیصد اضافہ متوقع، وفاقی کابینہ منگل کو بجٹ اہداف کی منظوری دے گی۔ اس سے قبل آج (پیر)وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال19 2018-ء کی اقتصادی کارکردگی پر مشتمل اقتصادی سروے جاری کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کیلئے معاشی ترقی، زراعت، صنعت، مینوفیکچرنگ، خدمات سمیت دیگر تمام اہم اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہونیکا انکشاف ہوا ہے۔

یہ انکشاف حکومت کی جانب سے تیارکردہ قومی اقتصادی سروے 2018-19 ئکے مسودے میں ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے تیار کردہ اقتصادی سروے آج (پیر) جاری کیا جائیگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اقتصادی سروے کے مندرجات کے مطابق معاشی ترقی، زراعت، صنعت، مینوفیکچرنگ،  خدمات سمیت اہم اہداف حاصل نہ ہو سکے مجموعی معاشی ترقی 6.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں 3.3 فیصد، عمومی حکومتی خدمات نے 7.2 فیصد کا ہدف پورا کر لیا، کارکردگی 7.9 فیصد رہی۔

زرعی شعبے کی گروتھ 3.8 فیصد ہدف کے مقابلے میں صرف 0.8 فیصد، صنعتی شعبے کی ترقی 4.9 فیصد ہدف کے مقابلے میں1.4 فیصد،خدمات کے شعبے کی گروتھ 6.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں4.7 فیصد،بجلی کی پیداوار اور گیس کی ترسیل میں نمایاں اضافہ، 7.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں40.5 فیصد،تعمیرات کا 10 فیصد ہدف پورا نہ ہوا، گروتھ منفی 7.6 فیصد رہی جبکہ بڑی فصلوں کی پیداوارکا ہدف3.01 فیصدلیکن نتائج منفی 6.5 فیصد رہے۔کاٹن، جنگلات، فشریز سمیت دیگر شعبوں کا ہدف بھی پورا نہ ہوسکا، لائیو سٹاک نے3.8 فیصد کے ہدف سے زیادہ 4 فیصد شرح سے ترقی کی سمال اینڈ ہاوس ہولڈ سیکٹر نے بھی8.2 فیصد کا ہدف پورا کر لیا اور ہول سیل، ریٹیل شعبے نے 7.8 فیصد ہدف کے مقابلے میں صرف3.1 فیصد شرح سے ترقی کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں نوجوانوں کیلئے آسان قرضوںکا پروگرام شروع کرنے کی تجویز پر بھی غورکیا جائیگا، کامیاب نوجوان پروگرام کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔