مالی کے گاؤں میں مسلح افراد کا حملہ، 95 افراد ہلاک اور 19 لاپتا

ویب ڈیسک  پير 10 جون 2019
ڈوگون نامی گاؤں میں صبح  کے وقت مسلح گروہ کے حملے میں جانوروں کو مار دیا گیا اور مکانات نذرِ آتش کردیئے گئے (فوٹو: فائل)

ڈوگون نامی گاؤں میں صبح کے وقت مسلح گروہ کے حملے میں جانوروں کو مار دیا گیا اور مکانات نذرِ آتش کردیئے گئے (فوٹو: فائل)

باماکو: افریقی ملک مالی کے ایک گاؤں میں مسلح گروہ کے حملے میں اب تک 95 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ 19 لاپتا ہیں۔

مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس نسل پرستانہ حملے میں مرکزی مالی میں واقع ڈوگون گاؤں میں کم سے کم 95 افراد مارے گئے اور اسی کے ساتھ واقع سوبانِ کوہ نامی ایک گاؤں سے 19 افراد بھی لاپتا ہیں۔ یہ حملہ پیر کی صبح کیا گیا تھا۔

حملہ آوروں نے مکانات کو بھی آگ لگادی اور مویشیوں کو بھی ہلاک کردیا جبکہ حکومت نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی۔ اب تک کسی نے بھی واقعے کی ذمے داری نہیں قبول نہیں کی، چونکہ ایک عرصے سے دو نسلی گروہوں کے درمیان کشیدگی جاری تھی اور مارچ میں ڈوگون گاؤں کی ملیشیا نے فولانی گاؤں میں ایک بڑا قتلِ عام کیا تھا اس لیے امکان ہے کہ آج کا حملہ اس کا ردِ عمل ہوسکتا ہے۔

اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے قریبی شہر بانکاس کے میئر نے کہا ہے کہ فولانی قبیلے کے لوگوں نے رات کے کسی پہر دیہات پر دھاوا بولا ہے دیگرمقامی لوگوں نے 95 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جو سوختہ ہوچکی ہیں۔

اس گاؤں میں 300 سے زائد افراد رہائش پذیر تھے اور لاپتا ہونے والوں کی بھی تلاش جاری ہے۔ اب اس گاؤں اور دیگر علاقوں میں فوج کا گشت جاری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جاسکے۔

واضح رہہے کہ ڈوگون اور فولانی قبائل کے درمیان ایک عرصے سے اس نیم صحرائی خطے میں چپقلش جاری ہے۔ یہاں القاعدہ اور داعش کے گڑھ بھی موجود ہیں اور اس طرح تجارت اور مویشی پالنے والے فولانی اور کھیتی باڑی کرنے والے ڈوگون اب جنگجو بن چکے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔