مالی سال 2018-19: 972 ارب روپے کی ٹیکس مراعات دی گئیں

شہباز رانا  منگل 11 جون 2019
سیلز و انکم ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں گذشتہ مالی سال کی نسبت 80 فیصد زائد چھوٹ دی گئی۔ فوٹو: فائل

سیلز و انکم ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں گذشتہ مالی سال کی نسبت 80 فیصد زائد چھوٹ دی گئی۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد:  رواں مالی سال کے دوران ٹیکسوں میں چُھوٹ دینے سے پاکستان کو 972  ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کی 431ارب روپے کی ٹیکس چُھوٹ کے مقابلے میں 80 فیصد زائد ہے جب کہ ٹیکس رعایت کی صورت میں ہونے والا یہ نقصان اب آئی ایم ایف سے ڈیل کے تحت پورا کیا جائے گا۔

مالی سال 2018-19 کے دوران 972.4 ارب روپے کی ٹیکس رعایتوں بہ الفاظ دیگر قومی خزانے کو ہونے والے نقصان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ثبت کردیا ہے جس نے گذشتہ برسوں کے دوران ہونے والے اس نقصان کی اصل مقدار کبھی ظاہر نہیں کی۔

اس کے برعکس ہر سال اکنامک سروے آف پاکستان میں ٹیکس نقصانات کے غلط اعدادوشمار شایع کرنے پر ایف بی آر کی انتظامیہ کے خلاف  انضباطی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹیکس رعایتیں اگرچہ ماضی میںظاہر کی جاتی رہی ہیں مگر ان کا اصل حجم پیر کو شایع ہونے والے اکنامک سروے آف پاکستان میں دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد نئے بجٹ میں یہ ٹیکس رعایتیں ختم کرنا ہے جوآج مشیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ پیش کریں گے۔

اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق گذشتہ مالی سال کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 61.8 ارب روپے کی چُھوٹ دی گئی۔ رواں مالی سال میں یہ چُھوٹ 129 فیصد بڑھ کر 141.6 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ ٹیکس رعایتوں میں سیلز ٹیکس کا حصہ سب سے زیادہ 61.5 فیصد رہا۔

گزشتہ برس سیلزٹیکس میں دی گئی رعایت 281ارب روپے تھے جو رواں مالی سال میں بڑھ کر 597.7  ارب روپے ہوگئی۔ اس طرح ایک سال کے دوران سیلز ٹیکس چُھوٹ میں 121 فیصد اضافہ ہوا۔ کسٹم ڈیوٹی کی مد میں دی گئی رعایت گذشتہ مالی سال میں 198 ارب روپے تھی جو رواں مالی سال میں بڑھ کر 233.1 ارب روپے ہوگئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔