لیاری گینگ وار کے 4 ملزم گرفتار، 3 ٹرک چینی اور سونا برآمد

اسٹاف رپورٹر  پير 2 ستمبر 2013
زاہد بلوچ، آصف میمن شامل، 3 ڈرائیور اور 3 کلینر بھی حراست میں لے لیے گئے . فوٹو: فائل

زاہد بلوچ، آصف میمن شامل، 3 ڈرائیور اور 3 کلینر بھی حراست میں لے لیے گئے . فوٹو: فائل

کراچی: ایس آئی یو پولیس نے سپر ہائی وے سے4 ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے چینی کے 3 ٹرک  برآمد کر لیے۔

گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر 11 کلو سونا بھی برآمد کر لیا گیا ، ملزمان کا تعلق لیاری گینگ وار سے ہے، ملزمان ٹارگٹ کلنگ، دستی بم حملوں ، اغوا برائے تاوان ، بھتہ خوری  اور کراچی پورٹ سے نکلنے والے کنٹینرز کی چوری میں بھی ملوث ہیں، ملزمان کی گرفتاری ان سے مزید تفتیش کے بعد آئندہ 48 گھنٹے میں پریس کانفرنس میں ظاہر کی جائے گی ۔ ذرائع کے مطابق اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے انسپکٹر چوہدری منیر نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ سپر ہائی وے کی ناکہ بندی کر کے چینی سے لدے چوری 3 ٹرک پکڑ کر اس میں سوار لیاری گینگ وار سے تعلق رکھنے والے زاہد بلوچ ، آصف میمن ٹھیکیدار سمیت 4 ملزمان کو حراست میں لے لیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ٹرک کے3 ڈرائیور اور3 کلینروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ، ملزمان پورٹ قاسم کے باہر سے بھاری مالیت کی چینی سے بھرے 3 ٹرک چوری کر کے اسے اندرون سندھ فروخت کرنے کے لیے لے جا رہے تھے ، ذرائع نے بتایا کہ زاہد بلوچ ایک سال قبل تک لیاری گینگ وار کے راشد بنگالی کے پاس چائے وغیرہ لانے کا کام کرتا تھا ، راشد بنگالی آپس کے جھگڑے کے دوران مارا گیا جس کے بعد راشد بنگالی نے گینگ وار کے سربراہ کے کہنے پر اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ملکرکراچی پورٹ سے نکلنے والے کینٹینر چھیننے کا کام شروع کر دیا۔

جبکہ وہ ڈیفنس ، کلفٹن سمیت دیگر پوش علاقوں کے رہائشی تاجر ، صنعت کاروں اور دیگر سرمائے داروں کے اہلخانہ کی کی ریکی کر کے ان کو بھتے کی پرچی دیتے تھے جس کے بعد گینگ وار کے ملزمان ان سرمایہ داروں کو بتاتے تھے کہ تم لوگ کس وقت کہاں جاتے ہو اور تمھارے بچے کون سے اسکول میں پڑھتے ہیں جس سے انھیں بھتہ مل جاتا تھا۔ حراست میں لیے جانے والے گینگ وار کے دو کارندے پاک کالونی کے رہائشی ہیں ذرائع نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر انسپکٹر چوہدری منیر کی پولیس پارٹی نے 11 کلو سونا اور دیگر قیمتی سامان بھی برآمد کر لیا، گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران اہم انکشافات کیے ہیں جس میں ٹارگٹ کلنگ ، دستی بم حملوں سمیت دیگر شامل ہیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔