لاہور چڑیا گھر میں ماڈل سیکیورٹی انتظامات مکمل، جدید نائٹ ویژن کیمروں کی تنصیب

آصف محمود  بدھ 12 جون 2019
لاہور چڑیا گھر کے مانیٹرنگ روم میں 56 انچ کی 4 بڑی اسکرینیں نصب ہیں فوٹو: فائل

لاہور چڑیا گھر کے مانیٹرنگ روم میں 56 انچ کی 4 بڑی اسکرینیں نصب ہیں فوٹو: فائل

 لاہور: پاکستان میں پہلی بار کسی چڑیا گھرمیں جدیدترین نائٹ وژن کیمرے نصب کردیئے گئے ہیں۔

چڑیا گھرمیں پہلے عام قسم کے 32 کیمرے نصب تھے تاہم اب ان کی جگہ 4 میگاپکسل کوالٹی کے 64 کیمرے نصب کیے گئے ہیں جبکہ 6 پی ٹی زی کیمرے ہیں جو چاروں اطراف میں حرکت کرسکتے ہیں۔ نئے کیمروں کی تنصیب سے اب لاہورچڑیاگھرکے ہرایک حصے کو مانیٹرکیاجارہا ہے بلکہ دونوں داخلی دروازوں ، مال روڈ اورلارنس روڈپرنظررکھی جاسکتی ہے.

لاہور چڑیا گھر کے مانیٹرنگ روم میں 56 انچ کی 4 بڑی اسکرینیں نصب ہیں۔ 3 اسکرینوں پر چڑیا گھر کے مختلف حصوں میں نصب کیمرے کے مناظر کو چھوٹی اسکرینوں میں دیکھا جاسکتا ہے جب کہ ایک اسکرین پر کسی بھی کیمرے کے ویو کو بڑا کرکے مانیٹر کیا جارہا ہے۔ سی سی ٹی وی آپریٹرعظمت علی کی آنکھیں ہر وقت ان اسکرینوں پر لگی رہتی ہیں اورہاتھ کی انگلیاں مختلف کیمروں کی موومنٹ تبدیل کرنے میں مصروف رہتی ہیں۔ ان کیمروں کی تنصیب سے لاہور چڑیا گھر میں داخل ہونے والوں پر مکمل نظر رکھی جاسکتی ہے۔ فیملیز اور خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے نوجوان بھی اب ان کیمروں کی نظرمیں ہوں گے۔

عظمت علی نے بتایا کہ ان کیمروں کی مدد سے ہمیں جیب کتروں کو پکڑنے میں کامیابیاں ملی ہیں، اسی طرح رش میں اگرکسی کا کوئی بچہ گم ہوجاتا ہے تواسے تلاش کرنے میں آسانی ہوتی ہے ۔ اگرکوئی نوجوان یا بچہ کسی خطرناک جانورکے پنجرے کے زیادہ قریب جاتا ہے، جانوروں اور پرندوں کو کوئی خوراک پھینکتے ہیں تو اس کو بھی ہم دیکھ لیتے ہیں۔ کیمروں کی مدد جیب کترے گروہ پکڑنے میں کامیابی ملی ہے، ایک گروہ بچوں جب کہ دوسرا خواتین کا تھا۔ بچوں نے ایک ہی دن میں 3 مختلف مقامات پر چڑیا گھر میں آئے شہریوں کی جیب کاٹی اور قیمتی موبائل فون نکال لئے تھے ۔ایسی ہی کارروائی خواتین کے گروہ نے کی جنہوں نے مختلف خواتین کے پرس اٹھائے تھے۔ کیمروں کی فوٹیج کی وجہ سے انہیں پکڑا گیا ، ان سے رقم اور موبائل برآمد ہوئے اور پھر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

عظمت علی نے بتایا کہ رش کے دنوں میں ہم داخلی راستوں کو زیادہ مانیٹر کرتے ہیں ، یہاں تعینات ہمارے سیکیورٹی گارڈز تمام افراد کو اسکینرز سے گزارتے ہیں اگر کسی کے پاس کوئی بیگ یا تھیلا ہو تو اسے خاص طور پر چیک کیا جاتا ہے۔ پھر چڑیا گھرمیں داخل ہونے سے پہلے ایک بار پھر اسکینر سے گزرنا پڑتا ہے۔ کیمروں کی مدد سے ہمیں کسی بھی مقام پر کوئی لاوارث سامان یا مشکوک شخص نظرآتا ہے توکنٹرول روم سے فوراوائرلیس پرمتعلقہ مقام کے قریب تعینات سیکیورٹی عملے کو آگاہ کردیاجاتاہے

لاہور چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق ان کیمروں سے اب کچھ بھی پوشیدہ نہیں رہا ہے، چڑیا گھر کے اندر بنائی گئی مصنوعی پہاڑی پر کئی نوجوان جوڑے غیراخلاقی حرکات کرتے تھے تاہم ان کیمروں کی مدد سے ایسے عناصر کی بھی حوصلہ شکنی ہوئی ہے جبکہ رش کی وجہ سے ماں باپ سے بچھڑ جانے والے درجنوں بچوں کی تلاش میں بھی مدد ملی ہے۔

لاہور چڑیا گھر کے ڈائریکٹر حسن علی سکھیرا نے کہا چڑیا گھر شہر کے وسط میں واقع ہے، گزشتہ چند برسوں میں چڑیا گھر کے قریب مال روڈ اور لارنس روڈ پر 2 خودکش حملے ہوچکے ہیں۔ جس کی وجہ سے لاہور چڑیا گھر میں سیکیورٹی ہمارے لئے ایک چیلنج ہے، پہلے یہاں عام قسم کے 32 سی سی کیمرے نصب تھے تاہم اب ہم نے یہاں مجموعی طور پر 70 کیمرے نصب کئے ہیں۔ ان میں سے 64 کیمرے سٹل ہیں۔تاہم یہ 4 میگا پکسل کوالٹی کے نائٹ وژن کیمرے ہیں۔اسی طرح 6 کیمرے چاروں اطراف گھوم سکتے ہیں یہ کیمرے اہم مقامات پر لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کیمروں کو مخصوص آئی پی کے ذریعے کسی بھی جگہ اپنے موبائل فون اورلیپ ٹاپ پر بھی مانیٹر کیا جاسکتا ہے جبکہ لاہور سیف سٹیز اتھارٹی سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس سسٹم تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔

علی حسن سکھیرا نے بتایا ان کیمروں کے کئی فوائدہیں اس سے ہم اپنے ملازمین اور جانوروں پر نظر رکھتے ہیں ، ان کی حرکات وسکنات کو مانیٹر کرتے ہیں۔ ہمارا ٹکٹ کاؤنٹر، راشن ایریا ، اسنیک ہاؤس، لائنز ہاؤس ، ٹائیگرہاؤس، مختلف جانوروں کے احاطے ، کینٹین اور جھولوں کو مانیٹر کیا جارہا ہے۔ اس سے بڑھ کر اب چڑیا گھر کے دونوں جانب کی سڑکوں کو بھی دور تک مانیٹرکرسکتے ہیں۔ بہت جلد ہم پارکنگ ایریا میں ایسے کیمرے نصب کریں گے جو خودکار طریقے سے گاڑیوں کی نمبر پلیٹ کو اسکین کرسکیں گے اسی طرح چہرے کی شناخت کرنے والے کیمرے بھی نصب ہوں گے۔ ان کیمروں کی ریکارڈنگ ایک ماہ تک محفوظ رکھنے کی سہولت ہے جسے مستقبل میں مزید بڑھایا جائے گا۔

چڑیا گھر میں تفریح کے لیے آنے والی ایک فیملی میں شامل خاتون زینب آصف کا کہنا تھا انہیں خوشی ہے کہ چڑیا گھر میں اس قدر جدید سیکیورٹی انتظامات اٹھائے گئے ہیں، ان دیکھے محافظوں کی وجہ سے تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ اب یہ خطرہ نہیں ہے کہ کوئی یہاں انہیں تنگ کرے گا۔ ایک شخص رانا مبشر حسن نے کہا یہ بہت اچھا اقدام ہے، ماضی میں ہوئے حادثوں کی وجہ سے کئی لوگ یہاں آنے سے ڈرتے ہیں لیکن اب لوگوں کا یہ ڈر اور خوف ختم ہورہا ہے۔ ان کیمروں کا یہ بھی فائدہ ہے کہ غیراخلاقی حرکات کرنے والے نوجوان جوڑے بھی اپنی حرکتوں سے باز آجائیں گے ایسے لوگوں کی وجہ سے فیملیز یہاں آنے سے کتراتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔