پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج

ایڈیٹوریل  پير 2 ستمبر 2013
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے پر اپوزیشن سیاسی جماعتوں اور عوام کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ فوٹو: فائل

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے پر اپوزیشن سیاسی جماعتوں اور عوام کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ فوٹو: فائل

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے پر اپوزیشن سیاسی جماعتوں اور عوام کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ملک کے کئی شہروں میں عوام اور ٹرانسپورٹرز سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہرے کیے ، اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کو ظالمانہ قراردیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس عوام دشمن فیصلے کو واپس لے ۔

موجودہ حکومت کو برسر اقتدار آئے تین ماہ ہوئے ہیں مگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس دوران چار بار اضافہ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے حکومتی فیصلے کا تحفظ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ردوبدل کرنے پر مجبور ہے‘ مہنگا تیل خرید کر سستا نہیں دے سکتے‘ تنقید کرنے والوں کے پاس اگر قیمتوں کے تعین کا بہتر فارمولا موجود ہے تو حکومت کو بتائیں ہم عمل کریں گے۔

یہ درست ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھے گی تو حکومت بھی اس کی قیمت بڑھانے پر مجبور ہو جائے گی مگر اس رویے کو کیا نام دیں گے کہ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گرتی ہے تو اس وقت بھی عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جاتا اور اگر حکومت پٹرول کی قیمت کم کرنے کی جرات کر ہی لے تو یہ کمی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہوتی ہے اور جب قیمت بڑھتی ہے تو یہ اضافہ کئی گنا زیادہ کیا جاتا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافے کے لیے رائج ہونے والا موجودہ طریقہ ملکی معیشت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بن رہا ہے۔

ہر ماہ پٹرول کی قیمت میں اتار چڑھاؤ سے جہاں ٹرانسپورٹروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہاں سرمایہ کار کے لیے پریشانی پیدا ہونا یقینی امر ہے۔ اشیا کی قیمتوں میں استحکام نہ آنے سے صنعتی پیداواری عمل شدید متاثر ہوتا ہے جس سے مہنگائی اور بے روز گاری میں خودبخود اضافہ ہو جاتا ہے۔ جب مہنگائی کا طوفان عوام کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے تو ان کا سراپا احتجاج بن جانا فطری عمل ہے۔ ماضی میں پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سالانہ بجٹ کے موقع پر کیا جاتا تھا جس سے معیشت کا پہیہ سارا سال روانی سے چلتا رہتا اور اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہتا اور عوام بھی روز بروز بلا جواز مہنگائی کے عذاب سے بچے رہتے۔

لیکن پاکستان میں منڈی کی معیشت کے حامی معاشی ماہرین نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا قلیل المدتی فارمولا پیش کر دیا جس سے پٹرول کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا نتیجتاً ملکی معیشت آہستہ آہستہ دباؤ میں آنے لگی۔جب ہر ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل ہوگا تو لازمی طور پر معیشت پر اس کے اثرات پڑیں گے ۔ رخصت ہونے والی پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت نے بھی اس طریقے کو تبدیل نہیں کیااور موجودہ حکومت بھی اسی فارمولے پر عمل پیرا ہے۔ عوام نے مسلم لیگ ن کو اس امید پر تخت پر بٹھایا کہ وہ ان کے لیے بہتری اور خوشحالی لے کر آئے گی مگر موجودہ حکومت نے ایسی پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں جن کے باعث عام آدمی کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان فیصلوں سے افراط زر اور مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔

حکومت تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو درست قرار دینے کے لیے کچھ بھی جواز پیش کرے‘ وہ بخوبی جانتی ہے کہ پٹرول کی قیمت میں اضافے کا منفی اثر پورے ملک کی معیشت پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھنے سے تمام اشیا کی قیمتوں میں خود بخود اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے عوام جو پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہیں، پٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافے کے خلاف احتجاج پر مجبور ہوگئے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے اسے حکومت کی ناکامی پر منطبق کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ہر ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتی ہے۔

پیپلز پارٹی‘جماعت اسلامی‘ اے این پی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے بھی اس اضافے پر احتجاج کرتے ہوئے اسے عوام دشمن فیصلے سے تعبیر کیا ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا ریکارڈ یہ ہے کہ وہ جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو عوام میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے حکومتی فیصلوں پر زبرست تنقید کرتی ہیں لیکن جب اقتدار میں ہوں تو خود بھی ایسے ہی فیصلے کرتی ہیں۔اپوزیشن جماعتیں اگر کمٹمنٹ کے ساتھ کوئی ایشو اٹھائیں تو یقینی طور پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

بہرحال یہ حقیقت ہے کہ پٹرول کی قیمت میں ماہانہ اضافے کی پالیسی سے معاشی ترقی کی راہ میں مشکلات حائل ہو رہی ہیں۔ حکومت سابق حکومتوں کی پالیسیوں سے عوام کو نجات دلائے اور پٹرول کی قیمت میں ردوبدل کی پالیسی کو سالانہ بنیادوں پر رائج کرے ، اپنے اخراجات پورا کرنے کے لیے ٹیکس کا دائرہ بڑھائے اور بڑے بڑے جاگیرداروں اور سرداروں کو ٹیکس نیٹ میں لائے۔ اسمال انڈسٹری کو فروغ دیا جائے اس سے حکومت کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا ۔ حکومت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے کیونکہ اب یہ ملک مزید عوامی مظاہروں‘ احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔