ایک روشن روایت!

عابد میر  پير 2 ستمبر 2013
khanabadosh81@gmail.com

[email protected]

کسی فلم ڈائریکٹر نے اپنے ڈائریکٹر بننے کا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ اُس نے جب فلم نگر میں قدم رکھا تو دیکھا کہ ایک فلم کی تیاری میں درجنوں افراد کی محنت درکار ہوتی ہے۔ کیمرہ مین اور لائٹ مین سے لے کر ایکسٹراز تک درجنوں افراد کام کر رہے ہوتے ہیں، جن کے نام فلم کے آغاز اور آخر میں محض سیکنڈوں میں اتنی دیر پردے پر ابھرتے ہیں،کہ جتنی دیر میں انھیں پڑھا ہی نہیں جا سکتا۔ اس پوری ٹیم کو یونٹ کہا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عموماََ فلمیں اپنے ہیرو یا ہیروئن کے نام سے جانی جاتی ہیں، لیکن دورانِ شوٹنگ انھیں اندازہ ہوا کہ فلم کا اصل بادشاہ ڈائریکٹر ہوتا ہے۔ اس کے سیٹ پر آتے ہی سب ہوشیار باش ہوجاتے ہیں۔ پورا سیٹ اس کے اشارے پر چل رہا ہوتا ہے۔ اس کی کرسی سب سے الگ تھلگ ہوتی ہے۔فلم کی کامیابی، ناکامی ،خوبیوں اور خامیوں کی ساری ذمے داری اسی پہ عائد ہوتی ہے۔ وہیں انھیں ڈائریکٹر کی اہمیت کا اندازہ ہوا اور انھوں نے مستقبل میں اسی کرسی پہ بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔

کوئی تیرہ برس قبل صحافت سیکھنے کے دوران عین یہی اندازہ مجھے ایڈیٹر کے عہدے سے متعلق ہوا۔ اخبار کی تیاری میں بھی کمپیوٹر آپریٹر اور پروف ریڈر سے لے کر پورا ایک ’یونٹ‘ مصروفِ کار ہوتا ہے، لیکن اخبار کی خوبیوں اور خامیوں کا سارا کریڈٹ ایڈیٹر کے نام جاتا ہے۔ اور یہ کچھ غلط بھی نہیں، کہ اخبار کی نوک پلک سنوارنے کے لیے ایڈیٹر کو جس جانفشانی سے کام لینا ہوتا ہے، وہ جوئے شیر لانے سے کام نہیں۔ ہم رات کو سرخیاں بناتے ہوئے جس تخلیقی وفور سے مسرور ہوتے، اگلے روز ڈیسک پہ آتے ہی ایڈیٹر صاحب اپنے کمرے میں کلاس لے کراس کا نشہ کرکراکر دیتے۔ ایسا ایسا نکتہ نکال لاتے کہ بندہ لاجواب رہ جاتا۔ اُس ڈانٹ ڈپٹ کی شرمندگی اپنی جگہ، لیکن سچ یہ ہے کہ سب سے زیادہ سیکھنے کو بھی وہیں سے ملا۔

ایڈیٹر محض ہیبت اور طاقت کا نام نہیں بلکہ ذمے داری کا نام بھی ہے اور نازک ترین ذمے داری۔ اس کی نظر سے چوک جانے والی ایک ذرا سی غلطی ادارے کا نام ڈبو سکتی ہے، اسے زوال سے دوچار کر سکتی ہے، پاتال میں پھینک سکتی ہے، دیوالیہ کر سکتی ہے۔ اس لیے آپ دیکھیں گے دنیا بھر کے صحافتی اداروں میں اس عہدے پرآپ کو نہایت تجربہ کار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادمتمکن ملیں گے۔ برصغیر میں بھی ایڈیٹرشپ کی ایک روشن روایت موجود رہی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد سے لے کر مولانا حسرت موہانی، چراغ حسن حسرت تک ایک سے ایک روشن دِیا اس راہ میں ہے۔ حتیٰ کہ فیض صاحب جیسے نفیس شاعر نے بھی ا س عہدے کوخوب نبھایا۔ زمین کے معاملے میں بنجرا ور بے آب و گیاہ بلوچستان مردم خیزی کے معاملے میں سدا زرخیز رہا ہے۔ ہمارے ہاں ایک سے بڑھ کر ایک عالم آدمی اس فہرست میں موجود ہے۔ ذرا چند نام ہی دیکھ لیں؛ یوسف عزیز مگسی،عزیزکرد، محمد حسین عنقا، حسن نظامی، بابو شورش، ملک محمد پناہ، نور محمد پروانہ،نادر قمبرانی، عبداللہ جان جمالدینی … ایسا لگتا ہے جیسے بلوچستان میں ایڈیٹر کے لیے عالم ہونا کوئی لازمی شرط ہو۔

لیکن ہمارے عہد تک آتے آتے یہ روایت نہ صرف دم توڑتی نظر آتی ہے بلکہ معکوس ہوتی دِکھتی ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں زوال آمادہ معاشرے میں ایڈیٹر کے ادارے کا زوال پذیر ہونا کوئی ایسی اچھنبے کی بات تو نہیں، لیکن مستقبل کے لیے ایک حد تک تشویش ناک ضرور ہے۔ بلوچستان کا تو خیر ذکر ہی کیا کہ جہاں مارکیٹ کے فقدان نے ہر شعبے میں ’سستی لیبر‘کا لیبل لگایا ہوا ہے۔ معیار،کسی بھی شعبے میں، اب بلوچستان کا مسئلہ ہی نہیں رہا۔ سیاسی قیادت ہو یا علمی و ادبی اداروں کی باگ ڈور، ہر جا جعلی افراد کے غول ملیں گے آپ کو۔ پچھلے تیس بر س سے اس جعلی پن کو ہر شعبہ زندگی میں اس منظم انداز میں پھیلایا گیا ہے کہ لوگوں نے اب اسے ایک رائج قدر کے طور پر قبول کرنا شروع کر دیا ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ اب تو اگر کسی معقول عہدے پہ کوئی اہل آدمی آ جائے تو لوگ اس پہ یوں چیں بہ جبیں ہوتے ہیں، جیسے کوؤں کے غول میں سفید پروں والا کوئی کبوتر گھس آیا ہو۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ مرکزی دھارے کا سمجھا جانے والا ملکی میڈیا بھی اب ایک عرصے سے اسی نااہلیت کاشکار نظر آتا ہے۔ ملکی اخبارات اور نیوز چینلز میں زبان و بیان کی غلطیاں تو ایک طرف، ادارتی صفحات پہ ایسے ایسے ’بلنڈر‘ نظر آتے ہیں کہ آدمی سر پیٹتا رہ جائے۔ یادش بخیر، ہمارے ایک استاد ایڈیٹر اپنے استاد اور اُس زمانے کے معروف صحافی عنایت اللہ مرحوم کا قصہ سناتے ہوئے بتاتے تھے کہ ایک بار کسی سب ایڈیٹر نے قتل کی ایک خبر کی سرخی جمائی؛’’سفاک درندے نے بہیمانہ انداز میں اپنی ماں کو گلا گھونٹ کر قتل کر ڈالا۔‘‘ کہتے ہیں، عنایت صاحب نے رپورٹر کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہا،’’میاں، کبھی سنا ہے کہ کسی قاتل نے مقتول سے کہا ہو جناب، آپ ذرا یہاں تشریف رکھیں، میں نے آپ کا قتل کرنا ہے؟ کسی انسان کا قتل از خود ایک سفاک اور غیر انسانی عمل ہے، اس میں سفاک ،درندہ اور بہیمانہ جیسے الفاظ شامل کر کے آپ اسے سنسنی خیز کیوں بنا رہے ہیں۔

آپ قارئین کو واقعہ بتائیں، اپنے جذبات نہیں۔‘‘گویا ایک ایک لفظ کی پوچھ گچھ ہوتی تھی۔ آج یہ عالم ہے کہ کالم نویس جو لکھ دیں، ویسا چھپ جاتا ہے۔ حال ہی میں ایک سینئر کالم نویس ادارے کی ’آزادی رائے‘ مہیا کرنے کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہہ گئے کہ وہ جو لکھ بھیجتے ہیں، وہی چھپ جاتا ہے۔ حیرت ہے۔وہ خود رپورٹر سے لے کر ایڈیٹر تک رہ چکے ہیں، ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ خوبی ہے کہ نا اہلی؟!ملک کے ایک معروف کام نویس نے اپنے کالم میں انگریزی کے معروف لفظ ’ہیلو ‘ کو ہیل(جہنم)سے مشتق بتایا، ساتھ ہی یہ بھی انکشاف فرمایا کہ انگریزی میں یہ لفظ ٹیلی فون کی ایجاد سے آیا ، اور اس کے معنی ہیں؛’’جہنم میں جاؤ۔‘‘ حالانہ عام آدمی بھی جانتا ہے کہ یہ ایک سلام ہے، جیسے عربی میں السلام و علیکم۔ نیز یہ کہ اس لفظ کا ماخذ جرمن زبان ہے، انگریزی میں یہ فون کی ایجاد سے کوئی دو سو سال پہلے سے رائج ہے۔ معروف اور سینئر ترین کالم نویسوں کی جانب سے غالب اور اقبال جیسے شعرا کے اشعار غلط طور پر چھپنا تو گویا معمول بن چکا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ لاکھوں روپے لینے والے اور لاکھوں قارئین میں پڑھے جانے والے یہ حضرات اپنی معلومات کو رِی چیک کرنے تک کی زحمت نہیں کرتے…مگر ایڈیٹر کہاں ہے؟!

ایک معروف برطانوی نشریاتی ادارے پہ حال ہی میں ایک خبر شایع ہوئی، جس کی سرخی کچھ یوں تھی؛’’ٹوئٹر کے غیر مہذب رویے کے خلاف قوانین‘‘…اس سرخی سے تاثر یہ بنتا ہے کہ ٹوئٹر نے کوئی غیر مہذب رویہ اپنایا ہے ،جس کے خلاف قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ جب کہ خبر کی تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ توہین آمیز رویوں کے خلاف ٹویٹر نے قوانین بنائے ہیں۔ سادہ سی بات ہے کہ یہاں کومہ(،) کا استعمال نہیں کیا گیا، جب کہ الفاظ کے ذرا سے ہیر پھیر سے یہ خبر یوں بھی ہوسکتی تھی؛’’غیر مہذب رویوں کے خلاف ٹوئٹر کے قوانین۔‘‘( دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ادارے نے صحافیوں کی تربیت کے لیے ایک جدا ویب سائٹ بھی بنائی ہوئی ہے!)۔ ابھی کراچی میں ایک جماعت کے رہنما کے قتل سے متعلق ردِ عمل کی خبر دیتے ہوئے پاکستان کے ایک بڑے ٹی وی چینل نے اپنی ہیڈ لائنز میں یہ سرخی جمائی؛’’کارکنوں کے قتل کے خلاف مظاہرے۔‘‘ اس سرخی کا تاثر یہ بنتا ہے کہ جیسے کارکنوں کا قتل ہوا ہو، اور اس کے خلاف مظاہرے ہوں۔

حالانکہ یہ سرخی یوں بھی ہوسکتی تھی،’’قتل کے خلاف، کارکنوں کے مظاہرے۔‘‘اسی طرح پروف کی غلطیاں بھی معمول بن چکی ہیں۔ معروف عالمی نشریاتی ادارے کی ویب سائٹ پہ ہمارے ایک بزرگ صحافی نے تبصرہ کتب میں ایک جگہ آخر میں لکھا، ’’کتاب کی قیمت پانچ سو روپے ہے، جو میں نے بذریعہ فن معلوم کی۔‘‘ ظاہر ہے وہ بذریعہ فون کہنا چاہ رہے تھے، لیکن دیکھیے ایک معمولی سی غلطی نے فقرے کو کیسا ذو معنی بنا دیا ہے۔ میں نے جب بذریعہ فون اُن کی توجہ اس جانب دلائی تو انھوں نے فرمایا،’’اپنا لکھا اب ہم سے دوبارہ پڑھا نہیں جاتا، اور ادارہ سمجھتا ہے ہم نے جو لکھ بھیجا ہے، درست ہی ہوگا، سو اسی طرح چھا پ دیتے ہیں۔‘‘…اور میں سوچتا ہی رہ گیا؛ایڈیٹر کہاں ہے؟

بلوچستان حکومت کی جانب سے ایک ٹی وی چینل پرمقدمہ کا تازہ واقعہ ہی دیکھ لیں۔ حکومت کی نااہلی سے قطع نظر کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ ایک کالعدم تنظیم کی جانب سے ملک کے خلاف ہونے والی ایک کارروائی کی ویڈیو چلانا آخرکیونکر جائز ہے؟ …لیجیے کالم کا ورق یہاں تمام ہوا۔ اس قضیے پہ آیندہ نشست میں مفصل بات ہو گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔