کراچی کی صورتحال

مجاہد حسین  پير 2 ستمبر 2013

کراچی بد امنی کی صورتحال پر ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ نے مقدمہ کی سماعت کی ۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے سربراہان سر جھکائے خاموش کھڑے رہے ۔ وہ سوال کرتے رہے اور یہ زبان کھولنے کو بے ادبی سمجھتے ہوئے زبانوں پر تالے لگاکر بیٹھے رہے۔ ان کا سب سے اہم سوال ہر بار ایک ہی رہا ہے کہ وہ کون سی طاقت ہے جو پولیس اور رینجرز کو قانون کی علمداری سے روکتی ہے؟ لیکن ہمیشہ کی طرح انھیں مایوسی کا سامناہے۔

انھوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ کراچی شہر میں لوگ روزی روٹی کمانے آتے ہیں انھیں اسلحہ کی کیا ضرورت؟ اور اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟ چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری جب بھی کراچی آئے ہیں انھیں کبھی بھی بد امنی، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور اس جیسے بے شمار مسائل کے حل کے لیے کیے گئے سوالات کے جواب اور اقدامات سے آگاہی ملی اور نہ ہی اطمینان لیکن ایک اہم بات ضرور ہے کہ ان کی آمد کے ساتھ ہی کراچی میں ایک نئی سیاست جنم لے لیتی ہے جس کا اولین مقصد مسائل کو اس قدر الجھانا ہے کہ اس سے اصل معاملات دب جائیں۔ ایسی صورتحال اس مرتبہ بھی سامنے آرہی ہے۔

ایم کیو ایم جس نے 1992کا آپریشن برداشت کیا ہے اور وہ ہمیشہ آپریشن کے نام سے دور بھاگتی ہے۔ 92کے آپریشن کے بعد کراچی میں رینجرز کی تعیناتی پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا اور مسلسل احتجاج بھی کیا لیکن چونکہ رینجرز کی تعیناتی ہونا تھی سو ہوئی۔ اس نے اقتدار سے باہر رہ کر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کراچی شہر میں کارروائیوں کی مذمت کی لیکن جوں ہی اسے اقتدار ملا متحدہ نے اپنا رویہ ہی بدل ڈالا۔ سابق دور حکومت میں ایم کیو ایم صوبہ سندھ میں خاص طورپر حکومت کا حصہ بنی رہی اور ایک موقعے پر رینجرز کی واپسی کے معاملے پر ایوان میں اس کی موجودگی کی حمایت بھی کر ڈالی اور اسے شہر کے امن کی اہم وجہ گردانا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کراچی میں بدامنی اور مسلسل ہلاکتوں پر آپریشن کا عندیہ دیا تو واحد جماعت متحدہ ہی تھی کہ اس نے آپریشن کی مخالفت کی اور لندن میں مقیم قائد تحریک نے اپنے خطاب میں کہاکہ اگر آپریشن92جیسا ہوا تو پھر کراچی میں امن کی امید نہ رکھی جائے۔ دوسری جانب متحدہ کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ انھوں نے ایوان میں اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کراچی میں امن و امان کے قیام میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے لہٰذا اسے چاہیے کہ کراچی کو آئین کے آرٹیکل 245اے کے تحت فوج کے حوالے کردیا جائے۔

انھوں نے اپنے اراکین کے ہمراہ کراچی اور کوئٹہ کی صورتحال پر قومی اسمبلی سے علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔ حیرت انگیز صورتحال یہ ہے کہ الطاف حسین جو کہ فوج کی شہر میں مداخلت کے سب سے بڑے مخالف ہیں انھوں نے فاروق ستار کی تائید کردی حکومت اور پیپلزپارٹی فوج کی کراچی میں تعیناتی کے حامی نہیں اور پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ شہر میں فوج کو لانے کا مقصد مارشل لاء لگانے کا مطالبہ ہے اور یہ مطالبہ سیاست کے علمبرداروں اور جمہوریت کے دعویداروں کے منہ پر طمانچہ مارنے کے مترادف ہے جب کہ وفاقی وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ اس طرح فوج کی عزت اور اس کے وقار کے خلاف اقدام ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ اس صورتحال کو نمٹنے کے لیے کمان سنبھالیں اور بے امن شہر کو پر امن صورتحال میں تبدیل کریں۔

سب سے زیادہ فراخ دل اے این پی کے شاہی سید ہیں وہ کافی عرصے سے ہر طرح کے آپریشن کے حامی ہیں اور کئی مرتبہ اپنی پیشکش دے چکے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کا کہناہے کہ وہ کراچی کو اسلحے سے پاک، امن وامان والا شہر دیکھنا چاہتے ہیں اور اگر آپریشن کی صورتحال میں انھیں پیشی کا سامنا کرنا پڑا تو وہ سب سے پہلے خود کو اپنی پارٹی سمیت پیش کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ الطاف حسین کس وجہ سے آپریشن کے خلاف ہیں۔ وہ 21 سال سے یہاں موجود نہیں۔ ان ہی کے بقول ان کے معصوم اور بیگناہ کارکنان قتل کیے جا رہے ہیں۔

انھیں تو مسرت اور تشکر کا اظہار کرنا چاہیے کہ وہ جس شہر کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہیں وہاں امن کا قیام ہونے جارہاہے۔ اس طرح سے سب سے بڑا فائدہ تو کسی اور کے بجائے ان کی پارٹی اور پارٹی کارکنان و ہمدردوں کو میسر آئیگا۔ اس بات سے قطع نظر کہ اسلحہ کون لاتا ہے؟ کس کو کون قتل کرتا ہے؟ اور کیوں؟ یہ قتل سیاسی ہیں یا مذہبی انتہا پسندی کا نتیجہ ہیں لیکن ہر صورت میں ان کی بیخ کنی ہوگی اور خود اس شہر کی خوبصورتی بحال ہوگی۔ منی پاکستان یعنی پاکستان کی شہ رگ دوبارہ منافع بخش انڈسٹری بحال ہوکر ملکی معاشی اور اقتصادی ترقی کا ضامن بنے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ امن و امان کی خرابی کا باعث کسی فرد، ادارے، حکومت یا جماعت کو ہرگز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

یہ پاکستان کی ثقافتی اور لسانی اکائیوں کا ایک حسین گلدستہ ہے لیکن ارباب اختیار کی غلط پالیسیوں نے ایسے مسائل کو جنم دیا کہ امن کا گہوارہ جہنم زار بن گیا۔ لسانی، سیاسی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے علاوہ جرائم پیشہ گروہوں کی بھرمار نے اغوا برائے تاوان ایک منافع بخش انڈسٹری بنادیا ہے۔ عام آدمی کا خون گلی، کوچوں اور سڑکوں پر بہایا جارہا ہے۔ خوف و ہراس کی کیفیت نے لوگوں کو گھروں میں محصور کردیا ہے۔ تاجر برادری پریشان ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار تو ہمارے یہاں سرمایہ کاری کرنے سے کافی عرصے سے گریز کر رہے ہیں لیکن اب مقامی سرمایہ کار اپنے سرمائے سمیت بنگلہ دیش کا رخ کررہے ہیں جس سے ہماری اقتصادی صورتحال مزید بحران کا شکار ہو رہی ہے۔پائیدار اور پر امن حل کے لیے ضروری ہے کہ سیاست دان ملک کی کشیدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور فوج یا اس کے بغیر تمام معاملات کو حل کرنے کے لیے اتفاق پیدا کریں بصورت دیگر خانہ جنگی کی صورتحال سے ایک آزاد ملک سے محروم ہونا نعمت خداوندی کی ناشکری کے سوا کچھ نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔