محکمہ موسمیاتی تبدیلی اور وزیرہ وزیر

سعد اللہ جان برق  جمعـء 14 جون 2019
barq@email.com

[email protected]

باقی تو جو کچھ ہے وہ اس خبر میں موجود ہے لیکن اس میں ہمارے لیے جو چیز ہے وہ ایسی ہے کہ جی تو چاہتاہے کہ اپنا یہ ’’ماتھا‘‘ خود اپنے ہاتھوں سے ایسا پیٹیں جیسے اپنا نہیں کسی اور بلکہ کسی دشمن کا ’’ماتھا‘‘ پیٹا جا سکتا ہے اور اتنا پیٹیں کہ باہر کی تحریر کے ساتھ ساتھ اندر اگر کچھ ہے تو وہ بھی ملیدہ بن جائے۔ کہ اتنے محقق بزعم خود ہی سہی ہو کر بھی ہم یہ نہیں جان سکے کہ ہم کچھ نہیں جانتے۔

یہاں یہ مت سوچیے کہ اس پردے میں ہم ’’سقراط‘‘ کی ہمسری کرنا چاہتے ہیں کہ میں نے ساری زندگی میں یہ ’’جانا‘‘ کہ میں کچھ نہیں جانتا۔ اس کا کیس الگ تھا ہمارا بالکل الگ ہے۔ وہ تو اس بہانے اپنا فیورٹ ’’زہرکاپیالہ‘‘ پینا چاہتا تھا۔ تو وہ زہر کے پیالے بلکہ پیالوں میں اتنے خودکفیل ہیں کہ روزانہ بلکہ کبھی کبھی تو ایک دن میں کئی کئی پیالے غٹاغٹ پی جاتے ہیں۔ کسی چینل کا کوئی ٹاک شو دیکھ کر، یاکسی خبر کو پڑھ کر اور یا کسی لیڈر کا باتصویر بیان سن کر گویا

زہر پینے کی تو عادت ہے زمانے والو

اب کوئی اور ’’دوا‘‘ دو کہ میں زندہ ہوں ابھی

اب آپ خود ہی فیصلہ کیجیے کہ یہ اپنا ماتھا اپنے ہاتھوں پیٹنے یا لہولہان کرنے یا اندر کا سارا کباڑی سامان توڑنے پھوڑنے کی بات نہیں، پتہ تھا کہ ہمارے ملک میں ایک ’’موسمیاتی تبدیلی‘‘ کا محکمہ بھی موجود ہے اور اس کی ایک وزیرہ مملکت زرتاج گل وزیرہ بھی ہیں اور جب وزیرہ مملکت ہیں تو وزیر بھی ہوں گے اور جہاں وزیر ہوں  وہاں مشیر بھی ہوں گے اور مشیر تو ’’معاونوں‘‘ کے بغیر بالکل بھی اچھے نہیں لگتے۔

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسدؔ

سرگشتۂ خمارِ  رسوم و قیود تھا

خیر ہمیں ان ضمنی موجودات یا لاحقات سے کوئی لینا دینا نہیں کہ کس دسترخوان پر ’’نوالوں‘‘ کے لیے کتنے ’’منہ‘‘ بلکہ کتنے کتنے اور کیسے کیسے ’’منہ‘‘ بٹھائے گئے ہیں، ہمیں تو صرف اپنی اس بے خبری پر شرمندگی ہے کہ ہمیں ابھی تک تبدیلیوں کے موسم میں اس محکمے کا پتہ نہیں تھا جس کا نام ’’موسمیاتی تبدیلی‘‘ ہے اور اس کی ایک وزیرہ مملکت محترمہ ’’زرتاج گل وزیر‘‘ وزیرہ بھی ہیں۔

ہمیں تو یہ سوچ سوچ کرشرم آتی ہے کہ اگر کل کلاں کسی نے پوچھ لیا ہوتا کہ پاکستان میں کتنے محکمے یا ’’تبدیلیاں‘‘ یا موسمیاں ہیں تو ہم کیا جواب دیتے اور پھر لوگ ہمارے محقق ہونے کے بارے میں کیا سوچتے بلکہ ان اکیڈیموں اور تفتیشی اداروں کے بارے میں کیا رائے باندھی ہوئی ہے کہ اتنی بڑی داڑھی لے کر ’’سائیکل‘‘ چلانا تک نہیں جانتا۔ جس کسی نے بھی یہ خبر دی ہے یہ ’’موسمیاتی تبدیلی‘‘ کے محکمے والی اور اس کی وزیرہ مملکت محترمہ زرتاج گل وزیرہ کے بارے میں ہم اس کے ممنون و مشکور ہیں نہ صرف جانکاری دینے کے لیے بلکہ ’’تبدیلی‘‘ کی خبر دینے کے لیے خاص طور پر ’’موسمیاتی تبدیلی‘‘ کے بارے میں۔ کیونکہ ان دنوں ہم موسم کی یکسانیت کا شکار ہیں، ہر طرف صرف ایک ہی موسم چھایا ہوا ہے اور جسے بھگت بھگت کر ہم خاصے بے مزہ ہو رہے تھے۔

عالم غبارِ وحشتِ مجنوں ہے سر بسر

کب تک خیال طرۂ لیلیٰ کرے کوئی

لیکن اس نئی موسمیاتی تبدیلی کے خوشگوار جھونکے سے ہمارے اندر کا موسم اچھا خاصا خوشگوار ہو گیا ہے کیونکہ یہ جھونکا ’’ٹو ان ون‘‘ بھی ہے اس سے ہمیں ایک اور جھونکے۔ عائشہ گلالئی کی یاد بھی آ گئی، وہ بھی اسی وزیرستان کا جھونکا بلکہ مختصر سا موسمی جھونکا تھی لیکن افسوس کہ:

فصل گل بھی آ چکی اس کے غنچے نہ کھلے

فاصلے بڑھتے گئے دلوں سے دل نہ ملے

یا وہ مشہور و معروف قبرستانی شعر بھی یاد دلایا جا سکتا ہے جس میں بن کھلے غنچوں کے مرجھانے کا نوحہ ہے۔ لیکن کیا کیا جا سکتا ہے کہ مرضی باغباں کی ہے کہ پھول کو کس ہار میں پروتا ہے

ہر پھول کی قسمت میں کہاں ناز عروساں

کچھ پھول تو کھلتے ہیں مزاروں کے لیے بھی

وہ بھی صرف ایک دن یا چند لمحوں کے لیے، کیونکہ ’’مزار‘‘ میں اگر ’’فیض کے اسباب‘‘ نہ ہوں تو صرف قبر بن کر رہ جاتے ہیں بقول بہادر شاہ ظفرؔ

پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی دو پھول چڑھائے کیوں

کوئی آ کے شمع جلائے کیوں میں وہ بے کسی کا مزار ہوں

ہم بھی موسمیاتی تبدیلی میں کہاں بہہ گئے، چمن کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا، کوئی بھی جھونکا آئے اور کوئی بھی جھونکا جائے بلکہ شاید انھی موسمی تبدیلیوں کے لیے تو ’’موسمیاتی تبدیلی‘‘ کے پورے محکمے کی ضرورت پڑ گئی۔ موسم تو ہرجائی ہوتا ہے، لمحہ لمحہ تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ اگر کوئی موسم مستقل ہے تو وہ وہی ہے جو ایک انڈین فلم والوں نے ڈھونڈ نکالا ہے:

پت جھڑ، ساون، بسنت، بہار

ایک برس کے موسم چار موسم چار

اور یہی انتظار ہی ایک سدا بہار موسم ہے۔کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں، سن رہے ہیں کہ کتنے لوگوں کے اندر کے موسم تبدیل ہو کر پیار کے انتظار میں بدل رہے ہیں اور اجڑے چمنوں کو چھوڑ کر پی ٹی آئی کے پیار کے انتظار میں داخل ہو رہے ہیں۔ بہرحال یہ بہت اچھا ہوا کہ موسمیاتی تبدیلی کا نوٹس لے کر اسے بھی تبدیلیوں میں شمار کر لیا گیا ہے اور اس کے لیے نہایت ہی مناسب ’’وزیرہ‘‘ بہ لحاظ عہدہ بھی بہ لحاظ قومیت بھی ڈھونڈ لی گئی ہیں۔ اب تبدیلیوں کے ساتھ موسم بھی ہم آہنگ ہو جائیں گے۔ خاص طور پر وہ موسم جو زمانہ دراز سے ’’موسم لیگ‘‘ میں رہتے اور بدلتے رہے ہیں کہ ساون کے اندھے کو ’’ہرا ہی ہرا‘‘ سوجھتا ہے

خط سبزے بہ خط سبز مرا کردا

دام ہمرنگ زمین بود گرفتار شدم

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔