پسند کی شادی پر پاکستانی نژاد برطانوی لڑکی کی والد کیخلاف ہائی کمیشن کو درخواست

ویب ڈیسک  ہفتہ 15 جون 2019
والد نے شوہر کیخلاف اغوا کا مقدمہ دائر کرکے قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ افشاں صنم فوٹو : فیس بک

والد نے شوہر کیخلاف اغوا کا مقدمہ دائر کرکے قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ افشاں صنم فوٹو : فیس بک

 لندن: لاہور میں مسیحی لڑکے کو اسلام قبول کرا کے شادی کرنے والی پاکستانی نژاد برطانوی لڑکی اپنے والد کیخلاف ہائی کمیشن پہنچ گئی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر دوستی کے بعد شادی کے بندھن میں بندھنے والی پاکستانی نژاد برطانوی شہری 19 سالہ افشاں صنم اپنے شوہر کی زندگی کی حفاظت کے لیے اپنے والد کیخلاف برطانوی ہائی کمیشن کے دفتر پہنچ گئی۔

نوبیاہتا دلہن نے موقف اختیار کیا کہ اپنی مرضی سے رواں برس اپریل میں مسیحی لڑکے ساؤل اسٹیو کو مذہب اسلام قبول کرانے کے بعد لاہور میں شادی کی تھی جس سے میرے والد شدید ناراض ہوئے اور ہم دونوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

افشاں صنم نے مزید کہا کہ میں نے والد کو اپنی پسند سے آگاہ کیا تھا لیکن وہ راضی نہیں ہوئے جس کے بعد میں لندن سے لاہور آئی اور شادی کرلی، میرے والد کو پتہ چلا تو وہ بھی پاکستان آگئے اور میرے سسرال آکر دھمکیاں دیں، میرے شوہر کیخلاف اغوا کا مقدمہ درج کرادیا۔

پاکستانی نژاد برطانوی لڑکی نے کہا کہ میرے والد کا تعلق میر پور کشمیر سے ہے اور وہ برطانیہ میں ٹیکسی چلاتے ہیں، انہوں نے آزاد کشمیر کے تحریک انصاف کے اپنے دوست کے ذریعے پنجاب حکومت کو میرے شوہر کیخلاف مقدمہ درج کرانے پر مجبور کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔