کراچی میں امن، ایک کڑا امتحان

ایڈیٹوریل  منگل 3 ستمبر 2013
کراچی کی سیاسی صورتحال کا جتنا گہرا ادراک نواز شریف اور ان کی حکومتی ٹیم کو ہے اس پر کوئی دو رائے نہیں ہوسکتیں۔ فوٹو: فائل

کراچی کی سیاسی صورتحال کا جتنا گہرا ادراک نواز شریف اور ان کی حکومتی ٹیم کو ہے اس پر کوئی دو رائے نہیں ہوسکتیں۔ فوٹو: فائل

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ وسیع تر قومی اتفاق رائے ہی ہمیں مسائل کے دیرپا حل کے قابل بنائے گا۔وزیراعظم 2 روزہ دورے پرکراچی پہنچ گئے ہیں ۔ دورے کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔ وزیراعظم کی آمد کراچی کے سیاسی، سماجی ، اقتصادی اور امن وامان کی بحالی کے حوالے سے عہد ساز اورانتہائی تاریخی اہمیت کی حامل ہے ۔

شہر قائد کی بربادی کی روک تھام اور دہشت گرد عناصر سے نمٹنے کے لیے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس بدھ کو ہورہا ہے۔ اجلاس میں گورنر ، وزیراعلیٰ سندھ ، آئی بی، آئی ایس آئی اور رینجرز کے ڈائریکٹر، آئی جی سندھ ، ایڈیشنل آئی جی سمیت تینوں زونز کے ڈی آئی جی شریک ہوں گے۔وزیر اعظم کو مختلف سیاسی جماعتوں کے اندر قائم دہشتگرد ونگز کے حوالے سے تفصیلات سے بھی آگاہ کیا جائے گا ۔

کراچی کو بدامنی ،ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری،اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین جرائم کی جس یلغار اور سیل خوں کا سامنا ہے اس سے وزیراعظم لا علم نہیں ہوں گے، کراچی کی سیاسی صورتحال کا جتنا گہرا ادراک نواز شریف اور ان کی حکومتی ٹیم کو ہے اس پر کوئی دو رائے نہیں ہوسکتیں، اسی لیے وزیر اعظم نے کراچی میں ٹارگیٹڈ آپریشن کی اجازت دیتے ہوئے وزیر داخلہ کو کہا کہ ٹارگٹ آپریشن کی کمانڈ صوبائی حکومت کو ہی سونپی جائے۔یہ وفاقی حکومت کا صائب فیصلہ ہے جس سے دہشت گردی کے خاتمے کی سمت حکومت کے اصولی انداز فکر کی عکاسی ہوتی ہے۔

کراچی کی ہولناک سماجی صورتحال کا تقاضہ ہے کہ ٹارگٹڈ یا سرجیکل آپریشن کے دوران کوئی ایسا ایڈونچر نہ ہو جس کے مضمرات طے شدہ قومی مفادات اور منی پاکستان میں امن کاز سے متصادم برآمد ہوں۔اس لیے پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی جہاں ضرورت ہے وہاں دہشت گردوں ، بھتہ خوروں ،اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگز میں ملوث عناصر کی سرکوبی ناگزیر ہے اور اگر وفاقی حکومت کسی الزام تراشی سے بچنے کے لیے آئین کے تحت امور سرانجام دے گی تو کسی کو بھی اس آپریشن اور کارروائی پر اعتراض نہیں ہوگا، کیونکہ سب کا مفاد امن سے مشروط ہے۔

قومی سلامتی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ قومی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل اور ذرایع استعمال ہونے چاہئیں۔ عملاًشہرقائد جرائم پیشہ عناصراور دہشت گردوں کی جنت بنا ہوا ہے، مختلف گینگز نے اپنی اپنی متوازی سلطنتیں قائم کررکھی ہیں، نو گو ایریاز ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ برطانوی اخبارا انڈیپنڈنٹ نے کراچی میں تشدد سے نمٹنے کی کارروائی کو نواز حکومت کے لیے کڑا امتحان قرار دیا ہے۔ اخبار کے مطابق کراچی میں مجرمانہ گینگز اور مسلح سیاسی گروپوں کو نشانہ بنایا جائے گا، جو شہر میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے قبضہ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

گزشتہ روز وزیر اعظم نے اسلام آباد میں قومی سلامتی سے متعلق ایک انتہائی اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی قوتیں قومی سلامتی کے لیے اٹھ کھڑی ہوں، سیاسی قیادت کے اتحاد سے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔ اجلاس میں قومی سلامتی سے متعلق ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام عباسی، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر اطلاعات پرویز رشید، مشیر امور قومی سلامتی سرتاج عزیز، معاون خصوصی طارق فاطمی بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کامیابی قومی اتفاق رائے سے مشروط ہے۔بعض ذرایع کے حوالے سے بتایا گیا کہ اجلاس میں فوج نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ کراچی آپریشن سے قبل وسیع تر قومی اتفاق رائے یقینی بنائے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی نے کہا کہ فوج کراچی میں قیام امن کے لیے سول انتظامیہ سے ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے تاہم انھوں نے واضح کیا کہ حکومت اگر امن وامان کی صورتحال کنٹرول میں لانا چاہتی ہے تو فوج کو فری ہینڈ ملنا چاہیے۔ اگر فوج کو کراچی میں کوئی مشن سونپا جاتا ہے تو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ آپریشن میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہ ہو۔

آرمی چیف سیاسی جماعتوں کے مبینہ عسکری ونگز کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں۔تاہم وفاقی وزارت داخلہ کے ترجمان نے اس امر کی وضاحت کردی ہے کہ کراچی کارروائی میں فوج شامل نہیں ہوگی اور کوئی فوجی آپریشن بھی زیر غور نہیں ہے، حکومت مجرموں کے خلاف پولیس ، رینجرز اور ایف سی کی مشترکہ کمانڈ میں نتائج کا حصول چاہتی ہے۔ ادھر وزیر داخلہ چوہدری نثار نے نواز شریف سے ملاقات کرکے انھیں کراچی میں امن و امان کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں پولیس اور رینجرز کو دیے جانے والے فنڈز، جدید ساز و سامان کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم کو اسلحے کے جاری لائسنسوں کی تفصیلات سے بھی آگہی دی جائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ پولیس اور رینجرز کو فری ہینڈ دیاگیا اور کسی قسم کی مصلحتیں پیش نظر نہیں رکھی گئیں تو کوئی وجہ نہیں کہ کراچی کو بدامنی سے نجات نہ دی جاسکے۔

دہشت گرد یا قانون شکن عناصر اس لیے دندناتے پھرتے ہیں کہ کوئی طاقت ان کو چیلنج کرنے کے لیے میدان میں اترنے کو تیار نظر نہیں آتی ۔ تھانے یرغمال ہیں، کرپشن اور رشوت نے مجرمانہ سنڈیکیٹس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میںخاموش مفاہمت اور دوستی کا دردناک ماحول پیدا کیا ہے۔ قانون کی حکمرانی کومذاق کا درجہ دیا گیا ہے۔ انارکی، بے یقینی اور درندگی کے باعث شہریوں کی زندگی کو کئی عذاب لاحق ہوچکے ہیں۔کاروبار ٹھپ، ٹرانسپورٹ کا نظام برباد، تعلیمی اداروں میں پڑھائی کا عمل متاثر، مہنگائی ،بیروزگاری، لوڈ شیڈنگ اوراسٹریٹ کرائم نے کراچی کا چہرہ مسخ کرلیا ہے۔

کراچی میں امن وامان کی خراب ترین صورتحال کے سبب درآمدکنندگان نے اپنے 1100 کنٹینرز کسٹمز کلیئرنس کے باوجود پورٹ سے نکالنے سے انکار کردیا ہے۔ اس بات کا انکشاف کسٹمز افسران نے چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ سے اجلاس کے دوران کیا، دوران اجلاس کسٹمز حکام نے بتایا کہ شہر کی سنگین صورتحال نہ صرف ٹریڈ سیکٹر کو بری طرح متاثر کررہی ہے بلکہ اس کا شکار اب کسٹم افسران بھی ہیں، اس لیے وہ رات گئے تک دفاتر میں خدمات انجام دینے سے کترا رہے ہیں۔

متعدد کنٹینرز بھی بندرگاہ سے نکلتے ہی گن پوائنٹ پر چھینے جاچکے ہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر قائم کردہ رمضان بھٹی کمیشن نے کنٹینراسکینڈل کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، سپریم کورٹ19ہزار کنٹینرز کے غائب ہونے پر کسٹم حکام سے باز پرس کررہی ہے۔مختلف مسلح گینگز پورٹ ایریا میں ملبوسات، چینی،فولاد، سیمنٹ، گھی،اور اسکریپس کے ٹرکس اغوا کرنے میں ملوث ہیں جب کہ ان گینگز کو سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہے ۔

وفاقی کابینہ کا مجوزہ اجلاس بلاشبہ کراچی میں امن کی بحالی اور دہشت گردی و قتل وغارت کی روک تھام میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔اسے اپنے دورس اثرات و نتائج کے اعتبار سے قومی امنگوں کی عکاسی کرنی چاہیے اور منی پاکستان کو امن کا ایسا تحفہ دینا چاہیے کہ عوام اپنے برس ہا برس کے دکھ درد بھول جائیں ۔

کراچی ملک کا اقتصادی حب اور اہل وطن کی محبتوں اور چاہتوں کا گلدستہ ہے ۔یہ سیاسی ، سماجی، ثقافتی اور کاروباری انجن ہے اور جو عناصر شہر کو امن سے محروم کررہے ہیں ان کے خلاف کارروائی نتیجہ خیز ہونی چاہیے ۔ان پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔اب امن سے کم کراچی کو کسی اور چیزکی ضرورت نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔