رحمت علی رازی صاحب مرحوم: چند یادیں، چند باتیں

تنویر قیصر شاہد  پير 17 جون 2019
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

معروف اخبار نویس اور پیارے دوست رحمت علی رازی صاحب اچانک ہمیں داغِ مفارقت دے گئے ہیں۔ آج انھیں دُنیا سے اُٹھے چوتھا دن ہے ۔ گزشتہ روزماڈل ٹاؤن میں اُن کے گھر کے نزدیکی پارک میں، اشکبار دوستوں اور عزیزوں کی دعاؤں میں الوداع کیا گیا ۔ اِسی گراؤنڈ میں اُنکی والدہ اور خوش دامن کے جنازے بھی پڑھے گئے تھے۔ اپنے بٹوے اور موبائل فون میں ہمیشہ اپنی والدہ مرحومہ کی تصویر سجانے والے رحمت علی رازی ہم سے رخصت ہوئے ہیں تو یقین ہی نہیں آرہا۔ دوست، احباب کی خوشی غمی میں ہمیشہ شرکت کرنیوالے رازی صاحب زندگی کے آخری سفر پر روانہ ہونے سے قبل بھی فیصل آباد میں اپنے ایک صنعت کار دوست کی بیٹی کی شادی میں شرکت کرنے گئے تھے۔

موٹر وے سے واپس لاہور آ رہے تھے کہ دل کا حملہ ہوا۔ جانبر نہ ہو سکے۔ وہاں کہاں طبی امداد مل سکتی تھی؟ ساتھ گئے بڑے بیٹے ، اویس رازی، نے ڈرائیور کو لاہور کی جانب بڑا دوڑایا لیکن زندگی کی ٹوٹی ڈور دوبارہ نہ جوڑی جا سکی۔ ہفتہ کی صبح اُنکے معاون نے مجھے میسج کیا تو میں نے سمجھا کسی سنگدل نے یہ کیا سفاک مذاق کیا ہے۔ ابھی گزری رات کے سات ساڑھے سات بجے تو اُن سے گفتگو ہو رہی تھی۔ ہمت نہیں ہو رہی تھی کسی سے تصدیق کرانے کی پھر اُنکے معروف صحافی بھتیجے احمد نورانی صاحب، کوجھجکتے جھجکتے فون کیا تو انھوں نے بھرائی آواز میں تصدیق کر دی۔ اللہ کریم اگلے جہان میں اُن پر اپنی رحمتوں اور مہربانیوں کی بارش فرمائے۔ آمین۔

دل پر عزیز دوست، رحمت علی رازی صاحب مرحوم، کی اچانک موت کا بوجھ پڑا ہے۔ وہ ہماری روزنامہ اور ہفتہ وار صحافت کا ایک بڑا نام تھے۔ رازی صاحب نے مسلسل سات بار صحافتی ایوارڈز جیتے۔ اُردو میں تحقیقاتی صحافت کو انھوں نے نئے معنوں سے متعارف کروایا۔ نوجوانی میں وہ ہماری پریس کلب سیاست کا ایک متحرک نام تھے۔ لاہور پریس کلب کے عہدیدار بھی منتخب ہوئے اور پی ایف یو جے میں بھی اپنا نام بلند کیا۔ قومی اخبارات کے مدیران اور بڑے چھوٹے قومی اخبارات کے مالکان کی تنظیموں (سی پی این ای اور اے پی این ایس) میں بھی نمایاں کردار کرتے رہے ان کی وفات پر ملک بھر کے اخبارات نے خبریں شایع کرتے ہوئے بجاطور پر اُن کی محنتوں اور کمٹمنٹ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ’’پیمرا‘‘ کے چیئرمین جناب سلیم بیگ سے بات ہوئی تو وہ کہہ رہے تھے: ابھی رات ہی کو فیصل آباد ایک شادی میں میری اُن سے ملاقات ہُوئی ہے، چنگے بھلے تھے۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ، صحابہ کرام اور برِ صغیر کے عظیم صو فیا کی تعلیمات اور شخصیات سے رحمت علی رازی صاحب کو بڑی محبت تھی۔ مجھے خود اس حوالے سے کئی مظاہر دیکھنے کو ملے ہیں۔ حیرت ہوتی تھی کہ کلین شیوڈ رازی صاحب باطنی طور پر دینِ اسلام سے اتنی گہری محبت اور رغبت رکھتے ہیں! نذیر انور صاحب ہمارے ایک قریبی خطاط دوست ہیں۔ وہ قرآنی خطاطی سے بھی شغف رکھتے ہیں۔ مَیں نے ایک روز اُن کا ذکر رازی صاحب سے کیا تو فوراً کہنے لگے: اُن سے ملاقات تو کروایے۔ چند روز بعد نذیر صاحب سے ملاقات ہوئی تو بڑے احترام سے کہنے لگے: یار، چار اشعار پر مشتمل ایک طغرہ تو لکھ دیجیے، یہ دراصل پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا ایک بہانہ ہے۔ نذیر انور صاحب نے بڑی محنت سے دیے گئے چار عربی اشعار کی چہار رنگی خطاطی کی۔ رازی صاحب کی مسرت اور خوشی دیدنی تھی۔

بڑے چاؤ اور عقیدت سے ایک بڑے چوبی فریم میں اسے سجایا اور اپنے دفترکی زینت بنایا۔ خطاط کی دل سے اتنی خدمت کی کہ وہ خوش ہو گئے۔ مرحوم رازی صاحب حضرت داتا گنج بخش ؒ سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے۔ داتا صاحب کے مزار پر اکثر حاضری دیتے اور اپنے بچوں کو بھی وہاں حاضر ہونے کا حکم دیتے رہتے تھے ۔ جس رات رازی صاحب ہم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہُوئے ہیں، اُن کا چھوٹا بیٹا، عمر رازی ، والد صاحب کے حکم پر داتا صاحب کے مزار شریف پر حاضر تھا۔ رازی صاحب کہا کرتے تھے: ’’داتا صاحب یہاں تشریف فرما نہ ہوتے تو شائد میں بہاولپور کے دیہاتی مضافات سے لاہور آ کر رُ ل ہی جاتا۔ داتا گنج بخش ؒ نے میری ہر طرح دستگیری فرمائی۔‘‘ وہ ان مہربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے تھے ۔ اِسی عقیدت کا ایک اور مظہر یوں بھی ہے کہ اُن کے ہفت روزہ جریدے ( عزم) کے سرورق پر ہمیشہ داتا صاحب کے مزار کا گنبد اور داتا صاحب کا کوئی سنہری قول ہر ہفتے شایع ہوتا ہے۔ اپنے اخبار ( طاقت) میں روزانہ ادارتی صفحے پر سیرت رسول ﷺ کا ایک منتخب حصہ شایع کرتے ۔ یہ سلسلہ اخبار مذکور کے اوّل روز سے اب تک جاری ہے۔

دل میں اسٹنٹ ڈلوانے کے بعدرازی صاحب مرحوم دفتر کے اندر ہی نمازیں ادا کرتے تھے۔ جمعہ کی نماز شادمان کی ایک مسجد میں ادا کرتے۔ اب کچھ عرصے سے فجر، شام اور عشاء کی نمازوں کے بعد تسبیح پھیرنے کا بھی اہتمام کرنے لگے تھے۔ اس دوران کبھی میں فون کرتا اور وہ اٹینڈ نہ کرتے تو تھوڑی دیر بعد فراغت حاصل کرتے ہی فون کرتے اور چہکتے ہوئے کہتے: ’’ معاف کرنا جناب کو انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی، دراصل میں تسبیح ’نکال‘ رہا تھا۔‘‘ اپنے بچوں سے اُردو میں گفتگو کرتے لیکن ہم دوستوں سے اکثر پنجابی میں۔ اُنکے دونوں بیٹے والد کے سامنے ہمیشہ بڑی تمیز سے بات چیت کرتے دیکھے گئے۔ لاریب رازی صاحب نے اپنے بچوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے کی پوری کوشش کی۔ اُنکی ایک صاحبزادی بہت اچھی مصورہ ہیں بیٹی کی بنائی دو پینٹگزاپنے کمرے کی دودیواروں پر آویزاں کررکھی تھیں۔ دونوں ہی میں دیہاتی زندگی کی عکاسی کی گئی ہے۔ ایک پینٹنگ، جس میں گرمیوں کی تپتی دوپہر میں سڑک کنارے چند درختوں کے نیچے بھینسیںآرام کررہی ہیں، دیکھنے والے کو مبہوت کر دیتی ہے۔ میں اکثر اس پینٹنگ کی تحسین کرتا تو ہر مرتبہ ہی پدرانہ شفقت سے اپنی بیٹی کا نام لے کر فخر سے بتاتے: یہ میری بیٹی نے بنائی ہے!!

صحیح معنوں میں رحمت علی رازی صاحب سیلف میڈ انسان تھے۔ جو بھی ناموری حاصل کی، اپنی محنت سے حاصل کی۔ صحافت کا آغاز لاہور کے دو تین چھوٹے اخبارات سے بطور رپورٹر اور فیچر رائٹر کیا۔ رفتہ رفتہ اُن کی رپورٹنگ کی دھوم مچی تو وہ لاہور کے دو بڑے اخبارات سے وابستہ ہوتے گئے۔ سول بیوروکریسی کی سرگرمیاںاُن کا مرغوب موضوع تھا۔ صوبائی اور وفاقی بیوروکریسی اور بیوروکریٹوں سے اُن کے قریبی تعلقات رہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران وہ لاہور سے شایع ہونے والے تین بڑے اخبارات میں کالم لکھتے رہے تھے۔

ان میں بیوروکریٹس کے بارے دی گئی خاص خبریں بڑی منفرد شئے ہوا کرتی تھیں۔ بیوروکریسی ان خبروں کی بنیاد پر اُن کا کالم پڑھنے کو ترجیح دیتی تھی۔ اُن کا کالم زرا طویل ہوتا تھا۔ دو یا ڈھائی ہزار الفاظ پر مشتمل جب کہ عام کالم تیرہ چودہ سو الفاظ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ دوستوں کی طرف سے کالم زرا چھوٹا کرنے کی بات انھوں نے کبھی نہیں مانی۔ اُن کے کالموں کے عنوانات اکثر کسی چنیدہ شعر پر مشتمل ہوتے تھے۔ 9جون کو شایع ہونے والارازی صاحب کی زندگی کا آخری کالم بھی دو ڈھائی ہزار الفاظ کو محیط ہوگا۔ اس کا عنوان بھی ایک شعر کی صورت میں ہے۔ اب تو اُن کا کالم اُن کے اپنے انگریزی اخبار میں بھی شایع ہوتا تھا۔ یا رب العالمین، رخصت ہونے والے رحمت علی رازی کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرما۔ آمین۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔