بھارت سے کشیدگی کے باوجود بہتر تجارتی روابط کو ترجیح دینگے، سیکریٹری تجارت

بزنس رپورٹر  بدھ 4 ستمبر 2013
حکومت وسط اور قلیل المدت اقدامات کے ذریعے برآمدات وتجارتی شعبے کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے، وفاقی سیکریڑی تجارت
  فوٹو: فائل

حکومت وسط اور قلیل المدت اقدامات کے ذریعے برآمدات وتجارتی شعبے کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے، وفاقی سیکریڑی تجارت فوٹو: فائل

کراچی:  وفاقی سیکریٹری تجارت قاسم ایم نیاز نے کہاہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں اگرچہ اتارچڑھاؤ ہے لیکن پاکستان خالصتا تجارتی فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کے ساتھ بہتر تجارتی روابط قائم کرنے کو ترجیح دے گا۔

منگل کو پی ایچ ایم اے ہاؤس میں کونسل آف آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کے ممبران پرمشتمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت وسط اور قلیل المدت اقدامات کے ذریعے برآمدات وتجارتی شعبے کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے، امن و امان کی خراب صورتحال اورمعاشی چیلنجز سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، یہی وجہ ہے کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کی غرض سے وزیر اعظم نوازشریف بھی کراچی آئے ہیں جن کے شیڈول میں کراچی کی تاجر برادری سے ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔

قاسم ایم نیاز نے کہا کہ موجودہ حکومت پر مالیاتی دباؤ ہے تاہم اس کے باوجود تاجروں کے مسائل ان کے بقایاجات کے حوالے سے ایف بی آر تک پہنچائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ 3 سال کی برآمدی پالیسی اپنی جگہ ہے تاہم اس کے ساتھ قلیل مدتی پالیسیوں کو بھی مدنظر رکھ کر کام کررہے ہیں تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔ قاسم ایم نیاز نے کہاکہ چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے کی تیاریاں جاری ہیں، اس سلسلے میں اسٹیک ہولڈرز سے مشاورتی عمل بھی شروع کر رکھا ہے اور دوسرے مرحلے میں تمام تجاویز پر بات کی جائے گی۔

بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے باوجود تجارت کے فروغ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تاجر ایک دوسرے سے تجارت کے خواہاں ہیں، بھارت سے کئی اشیا ایسی درآمد کی جاسکتی ہیں جو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم لاگت ہیں اور کم وقت میں پاکستان منگوائی جاسکتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی میں منظوری کے لیے جانی والی ہر تجویز کا علم متعلقہ وزارت کو ہوتا ہے لہٰذا وزارتوں کے درمیان آپس میں روابط نہ ہونے کی خبریں درست نہیں ہیں۔ ٹیکسٹائل نمائندوں نے سیکریٹری تجارت کو بتایا کہ اگر پیداواری لاگت میں کمی کے اقدامات کیے جائیں تو ملکی برآمدات 50 ارب ڈالر تک بھی لے جائی جا سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کا سب سے اہم مسئلہ پیداواری لاگت کا ہے جس میں گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ بھی شامل ہے ۔

جس سے پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات حریف ممالک بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا اور ویت نام کی مصنوعات سے مساقبت نہیں کر پاتیں، ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مسائل میں زیرو ریٹنگ، پھنسے ہوئے اربوں روپے کے ریفنڈ اور برآمدی مال کی روانگی میں کسٹم کی جانب سے تاخیر جیسے مسائل شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کی قلت اور امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث ٹیکسٹائل سیکٹر کے بینکوں کا ڈیفالٹ 270ارب روپے سے بھی تجاوز کرچکاہے، اس نادہندگی کی وجہ سے پوری ٹیکسٹائل چین متاثر ہوئی ہے جبکہ امن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے غیرملکی خریدار پاکستان آنے سے نہ صرف کتراتے بلکہ آڈر دینے میں بھی ہچکچاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بروقت آرڈرز کی تکمیل نہ ہونے کا فائدہ پاکستان کے حریف ممالک کو ہو رہا ہے، بدامنی کی وجہ سے مغربی ممالک نے پاکستان کے بارے میں سفری ہدایات جاری کر رکھی ہیں اور غیر ملکی خریدار پاکستان نہیں آرہے، پاکستانی برآمدکنندگان کو بیرون ملک جا کر خریداروں سے ملاقات کرنا پڑتی ہے اور یہ وجہ بھی پیداواری لاگت بڑھنے کی وجہ ہے۔ تاجروں نے کہا کہ چین سے فری ٹریڈ ایگریمنٹ میں ٹیرف کے ساتھ ساتھ نان ٹیرف بیریئر پر بھی بات کرنی چاہیے۔ اس موقع پر ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کے نمائندوں زبیر موتی والا، ایم جاوید بلوانی، مہتاب الدین چاؤلہ، نقی باڑی، رفیق گوڈیل، سلیم پاریکھ، ثاقب بلوانی اورجنید ماکڈا نے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مسائل پیش کیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔