اورنج ٹرین خواب بن گئی، آپریشن و دیگر ٹھیکوں میں تاخیر، لاگت بڑھنے کا خدشہ

افضال طالب  پير 17 جون 2019
افسران نیب کے ڈر سے بولی پر دستخط نہیں کر رہے، ذرائع، آپریشنز کی ذمے داری اتھارٹی کی ہے، ہم اپنا کام نومبر میں پورا کرلیں گے، ایل ڈی اے
فوٹو: فائل

افسران نیب کے ڈر سے بولی پر دستخط نہیں کر رہے، ذرائع، آپریشنز کی ذمے داری اتھارٹی کی ہے، ہم اپنا کام نومبر میں پورا کرلیں گے، ایل ڈی اے فوٹو: فائل

 لاہور:  اورنج لائن ٹرین کا چلنا خواب بن گیا،90 فیصد سے زائد کام مکمل ہونے کے باوجود ٹرین چلانے کیلیے آپریشن اینڈ مینٹیننس کا کنٹریکٹ نہیں دیا جا سکا، سپریم کورٹ نے احکام دیے تھے کہ20 مئی تک سول ورکس مکمل کیا جائے، کمپنیوں کی جانب سے میکینکل کام سست روی سے شروع کیا گیا۔جس کے باعث نومبر تک ٹرین آپریشنل ہوتی نظر نہیں آرہی۔

ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے پہلے30 مارچ پھر اگست میں ٹرین چلانے کا دعویٰ کیا گیا لیکن اس پر بھی عملدرآمد مشکل نظر آ رہا ہے، آپریشنز اور مینٹیننس کا ٹھیکہ نیلامی میں کامیاب ہونے والی کمپنی کو دینے کے بجائے پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے دوبارہ ٹھیکہ دینے کیلیے نیلامی کا عمل شروع کر دیا جس کیلیے اتھارٹی بورڈ کا اجلاس دوبارہ بلایا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹھیکے اور نیلامی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی وجہ سے منصوبے میں مزید 5 ماہ کی تاخیر ہو جائے گی اور خدشہ ہے کہ پیداواری لاگت میں مزید21 ارب کا اضافہ ہوگا، یہ منصوبہ250 ارب روپے کا تھا لیکن تاخیر کی وجہ سے تعمیراتی لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اتھارٹی کی جانب سے آپریشنز اینڈ مینٹیننس کیلیے 19 جنوری 2019 کو پیپرا رولز کے تحت مختلف اخبارات میں اشتہار دیا گیا جس کے مطابق نیلامی میں کامیابی حاصل کرنے والی کمپنی ٹرین آپریشنز چلائے گی۔

اس کے علاوہ وہ ٹریک اور ٹرین کی مرمت کرے گی، بجلی کی فراہمی، سگنل اور کمیونیکیشن سمیت سی سی ٹی وی اور دیگر سسٹم بھی کمپنی کے ذمے ہوگا، اس سلسلے میں 20 مارچ 2019 کو 2کمپنیوں نے نیلامی میں حصہ لیا لیکن ایک کمپنی کو تکنیکی بنیادوں پر فارغ کر دیا گیا جبکہ دوسری کو پیپرا رولز کے مطابق ٹھیکہ دیا جانا تھا، ذرائع کے مطابق کم بولی دینے کے باوجود بعض اعلیٰ حکام کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، اتھارٹی بورڈ کی جانب سے دوبارہ بولی کرانے کیلیے تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔