بھارت میں سکھ رکشا ڈرائیور پر پولیس کا انسانیت سوز تشدد

ویب ڈیسک / آصف محمود  پير 17 جون 2019
پولیس اہلکاروں نے سکھ ڈرائیور پر ہفتہ وار بھتہ نہ دینے کی پاداش میں تشدد کیا۔ فوٹو : ویڈیو گریب

پولیس اہلکاروں نے سکھ ڈرائیور پر ہفتہ وار بھتہ نہ دینے کی پاداش میں تشدد کیا۔ فوٹو : ویڈیو گریب

نئی دلی: بھارتی دارالحکومت کی پولیس نے سکھ رکشا ڈرائیور اور اس کے بیٹوں کو سڑک پر گھسیٹ کر ڈنڈوں، بوٹوں اور لاتوں سے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

بھارت میں جنونی نریندرا مودی کے دوبارہ اقتدارمیں آنے کے بعد سے جہاں مسلمانوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اسی طرح دیگر اقلیتیں بھی محفوظ نہیں، نئی دہلی پولیس نے سر راہ معمولی غلطی پر سکھ رکشا ڈرائیور اور اس کے بیٹوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر زیر گردش ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مکھرجی پولیس اسٹیشن کے اہل کارو ں نے سکھ رکشا ڈرائیور اور اس کے سات سالہ بیٹے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس سے باپ بیٹے کی حالت بگڑ گئی۔

انسانیت سوز تشدد پر مقامی سکھ رہنما منجیت سنگھ مظاہرین کے ہمراہ تھانے پہنچے اور پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس نے رکشا ڈرائیور کو بھتہ نہ دینے کی پاداش میں تشدد کا نشانہ بنایا۔

سوشل میڈیا پر صارفین اور سماجی تنظیموں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مودی حکومت اوردہلی پولیس پرشدید تنقید کی جب کہ سماجی تنظیموں نے تھانے کے سامنے مظاہرہ بھی کیا جس کے بعد حکام تشدد میں ملوث 3 پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے پر مجبور ہوئے۔

content.jwplatform.com

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔