سارے رنگ

رضوان طاہر مبین  اتوار 23 جون 2019

’’وہ‘‘ ہنس دیے۔۔۔ ’’وہ‘‘ چپ رہے۔۔۔!

ابھی ہم سنتے تھے کہ ’اپنا قائد صرف۔۔۔‘ کا نعرہ لگانے والوں کے لیے یہی نعرہ اس طرح برتا گیا کہ ’پابندی صرف۔۔۔‘ اُدھر 11 جون کو خبری چینلوں میں اچانک چھناکے گونجنے لگے کہ لندن۔۔۔! جی، جی لندن ہی میں پولیس نے ایک ’’60 سالہ پاکستانی نژاد‘‘ شہری کے گھر پر آکر کہا ہے ’’ہم کو منزل نہیں راہ نما چاہیے!‘‘ اور پھر ’’انہیں‘‘ اپنے ساتھ تھانے لے گئے ہیں۔۔۔ اس سے ایک روز پہلے ہی تو یہاں سابق صدر آصف زرداری دھر لیے گئے، نواز شریف پہلے ہی اندر ہیں اور 11 جون کو حمزہ شہباز کی ’رخصتی‘ نبٹی بھی نہ تھی کہ ہر طرف ’لندن ہی لندن‘ ہونے لگا۔۔۔ پھر اخبارات نے بھی ’اُن‘ کے نام کے ساتھ سرخیاں جمائیں۔۔۔ ورنہ ’اُن‘ پر تو اب ایسی کڑی پابندی کے دن ہیں کہ شہر کی کسی دیوار تک پر ’اُن‘ کا نام دکھائی دے جائے، تو اس لکھے کی سیاہی کے پیچھے چھپے ’سیاہ کار‘ کی ڈھونڈ پڑ جاتی ہے، کہاں پہلے صورت حال یہ ہوا کرتی تھی ؎

جس طرف آنکھ اٹھائوں تیری تصویراں ہے
نہیں معلوم یہ خواباں ہیں کہ تعبیراں ہے

خیر اس ’گرفتاری‘ سے اب تو بہت سے اسیر ہوئے ’جذبات‘ کو ایک بار پھر ’رہائی‘ ملی۔۔۔ کسی نے لکھا ’ایک پپی اِدھر ایک پپی اِدھر‘ کسی نے ’اُن‘ کے ’’تھے ہو گئے‘‘ والی بات سے اپنا عنوان سجایا ’ایک تھی ایم کیو ایم۔۔۔‘ دراصل یہ اعمال بھی تو انہی کے تھے، یہ الگ بات ہے کہ کہیں بہ ظاہر وسعت نظری بھی تنگی کا مظہر نکل آئی۔۔۔

وفاقی وزیر ’بحری امور‘ علی زیدی نے گرفتاریوں پر یوں چوٹ کسی کہ ‘کہنا ’خان آیا تھا۔۔۔!‘ پھر ’خان‘ نے بھی اخبار کی تین کالمی سرخی کے لیے فقرہ دیا کہ ’لگتا ہے خدا مہربان ہو رہا ہے۔۔۔‘ سازشی نظریے والوں نے لندن میں گرفتاری کو ہمارے بجٹ کے خلاف عالمی سازش کی لڑی میں ٹانک دیا۔۔۔

خدا جانے کہاں سے پتا چلتا ہے یہ سب کچھ۔۔۔ جب کہ ماجرا تو 2016ء کی متنازع تقاریر کا تھا، جس کی شکایت پچھلی حکومت نے کی تھی۔۔۔ تاہم اگلے روز ہی ’انہیں‘ گھر بھیج دیا گیا، وہ لوٹے تو یہاں ’بہادر آباد‘ میں کسی ’عارضی مرکز‘ پر مستقل ٹھیرے ہوئے ’بچوں‘ کا جی چاہا ہوگا کہ رقص کرنے لگیں۔۔۔ لیکن پھر (اُن سے بھی) ’بڑے ابو‘ یاد آگئے ہوں گے۔۔۔ ہمں ’ناقص ذرایع‘ سے پتا چلا ہے کہ ’پیر‘ صاحب کی گرفتاری پر ’پیر کالونی‘ میں رہائش پذیر ایک ’سابق نفیس‘ شخصیت ’پریس کانفرنس‘ کی تیاری کرنے لگی تھی، یہ کہنے کے لیے کہ ’آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔۔۔!‘ کہ اچانک انہیں بتایا گیا کہ ’بھیّے۔۔۔ بھول گئے کیا، آپ ہی کی ’قیادت میں تو ’ساتھی‘ تنگ آکر ’لندن‘ کی لائن کاٹے تھے!، پھر وہ ایک آہ بھر کر بولے ہوں گے جب سے ’بھائیوں‘ نے مجھے ’کٹایا‘ ہے، مجھے کچھ یاد نہیں رہتا۔۔۔ بس بیتے دنوں میں ہی محو رہتا ہوں۔

لندن میں ’اُن‘ کی واپسی کے بعد یہ اطلاعات آئیں کہ تفتیش کے لیے 30 گھنٹے ٹھیرائے گئے، مگر پولیس کے سوالوں کے جواب میں چُپ رہے؎

’وہ‘ ہنس دیے ’وہ‘ چُپ رہے۔۔۔

ہمیں خیال آیا کہ خطاب پر پابندی سے انہیں خاموشی کی عادت پڑ گئی ہو گی۔۔۔ پھر سوچا کہ لندن کی پولیس بھی تو اچھی خاصی ناکارہ نکلی، کراچی پولیس ہوتی تو 30 منٹ میں وہ ’’سب کچھ‘‘ قبول کروا لیتی، جو وہ 30 گھنٹے میں نہ اُگلوا سکے۔۔۔ بتایا یہ گیا ہے کہ ’’وہ‘‘ بالکل ہی خاموش نہیں رہے، بلکہ انہوں نے تین سوالوں کے جواب دیے، نام، تاریخ پیدائش اور پتا۔۔۔

انتہائی غیر مصدقہ ذرایع بتاتے ہیں کہ تین سوالوں کے بعد دراصل لندن پولیس ہی چُپکی ہو رہی۔۔۔ کیوں کہ پولیس نے پہلا سوال پوچھا، تو انہوں نے جواب کے ساتھ کہا ’’وآآآن۔۔۔!‘‘ دوسرا سوال پوچھا، اس کے جواب کے ساتھ وہ بولے ’ٹوووو۔۔۔!‘ تیسرا سوال کیا تو جواب کے ساتھ انہوں نے ’’تھری ی ی ی ۔۔۔۔!!‘ کی گرج لگا دی، پھر بقول شاعر؎

گھٹا چپ، زمیں آسماں چپ، کلی چپ، چمن چپ ہے اور کہکشاں بھی ہے چپ
اُدھر وہ بھی چپ ہیں اِدھر میں بھی چپ ہوں، الٰہی میری رات کیسے کٹے گی

آخر کو انہیں گھر بھیج دیا گیا، کچھ خوش ہوئے تو کچھ سوگوار ہوگئے، ’کہنا خان آیا تھا‘ کی جوابی پھبتیاں کسی جانے لگیں۔۔۔ کسی نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا کہ شکر ہے کراچی بند نہیں ہوا تو کوئی بولا کہ لطف تو یہ ہے کہ ’اُن‘ کے نام پر کسی ایک نے بھی یہ نہیں پوچھا کہ کون ہے یہ آدمی؟

۔۔۔

محبت دوبارہ تو ہو سکتی ہے مگر۔۔۔
اویس شیخ، ٹوبہ ٹیک سنگھ

تم جانتی ہو؟ پچھلے برس جون کی تپتی ہوئی دوپہر میں جب میں نے تمہیں پہلی دفعہ دیکھا، تو مجھے تمہارے چہرے پر چھائی رنجیدگی نے بے حد اداس کر دیا تھا۔ تمہاری جبین پر سلوٹیں دیکھ کر میں سوچتا رہا تھا کہ کیا تمہاری زندگی کی الجھنیں بھی اسی سلوٹوں کی مانند ہے، جو تمہیں ہمہ وقت پریشان کیے رکھتی ہیں۔

میں نے اس سوال کی تلاش میں تمہیں کھوجنا شروع کر دیا، تم مجھے کہیں بھی نہیں ملی تھیں، لیکن تم ایک روز مجھے خواب میں ملیں نیناں۔

اس خواب میں تم سے پوچھنے کے لیے بہت سے سوالات تھے، لیکن تم نے میرے لب ہلنے سے پہلے ہی مجھ سے کہنا شروع کر دیا اور کہا کہ ’’اگر تم مجھے پڑھنا چاہتے ہو، میرے حالات زندگی جاننا چاہتے ہو تو خلیل جبران کا ناولٹ ’’ٹوٹے ہوئے پر‘‘ پڑھو، تم مجھے جان جائو گے‘‘ میں نے تم سے پوچھا تھا ’’ٹوٹے ہوئے پر کیوں؟‘‘

لیکن موبائل فون کی گھنٹی نے ہمارے سلسلہ تکلم کو توڑ دیا اور میری آنکھ کھل گئی تھی۔ میں نے اس رات اٹھ کر ’’ٹوٹے ہوئے پر‘‘ پڑھنا شروع کیا، تو تمہاری اس التجا پر میری آنکھیں بھیگ گئی تھیں، پتا ہے تم نے مجھ سے کیا کہا تھا؟

تم نے مجھ سے کہا کہ ’’میری التجا ہے کہ تم میرے بدنصیب باپ کے غم گسار بن کر رہو، کوئی وقت جاتا ہے، انہیں مجھ سے چھین لیا جائے گا۔ ان کی جدائی مجھے نڈھال کر دے گی، ایسے میں صرف تم ہی میری دل جوئی کر سکو گے اور اس طرح مجھے تنہائی کے عذاب سے نجات مل جائے گی۔‘‘

میں نے جواب دیا تھا کہ ’’تمہاری یہ تشنہ آرزو میرے لیے مقدس حکم کا درجہ رکھتی ہے، میں تمہاری یہ خواہش ضرور پوری کروں گا‘‘

میں نے اس کو جتنی بار پڑھا اتنی بار ہی میری آنکھوں سے آنسو بہے تھے، کاش! نیناں۔۔۔ کاش۔۔۔ تم بھی مجھ کو بھی ایک آدھ بار پڑھنے کی کوشش کرتیں۔ کاش۔۔۔ تم نے مجھے دماغ کی بہ جائے دل سے سوچا ہوتا۔

کاش۔۔۔ تم نے مجھے بار بار آزمائش میں نہ ڈالا ہوتا، تم دماغ لڑاتی رہی اور میں دل لڑاتا ہے۔۔۔ بالآخر جیت تمہاری ہی ہوئی اور میں ہار گیا، میں فقط تم سے ہی نہیں ہارا، بلکہ اپنے مقدر سے بھی ہار گیا تھا۔ تم کو پوری طرح سے اس بات کا ادراک ہی نہیں ہو سکا تھا کہ یہ محبت نہیں تھی بلکہ محبت کی مثلث تھی۔

نیناں بولی ’’محبت کی مثلث؟ میں کچھ سمجھی نہیں۔‘‘
اس محبت کا تعلق خدا سے بھی تھا، اس کے عطا کردہ علم اور شعور سے بھی۔ جب بندے کے اندر علم و شعور بیدار ہوتا ہے، تو اس کو خدا کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے اور یہی معرفت بندے کو خدا سے ملا دیتی ہے اور دوسری محبت کا تعلق اس کائنات میں کھلنے والے رنگ برنگے خوش بو دار پھولوں سے ہے، میں ان پھولوں کی بات نہیں کر رہا ہوں، جنہیں ہم کتابوں میں رکھتے ہیں، بلکہ میں تو ان پھولوں کی ذکر کر رہا ہوں، جن کے بیج ہم بوتے تو اپنے تصورات میں ہیں، لیکن یہ کِھلتے دل کے آنگن میں ہیں، مگر ایک بات ہے کہ ان کے کِھلنے یا نہ کِھلنے کا فیصلہ محبت یا نفرت نہیں بلکہ دل کی آنکھیں کرتی ہیں، جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ تمہارے دل کی آنکھیں کبھی میرے لیے کھل ہی نہیں سکی تھیں، تمہاری طنز آمیز باتوں میں میرے لیے سوائے حقارت کچھ بھی تو نہیں تھا. تمہیں یہ بات ماننا پڑے گی نیناں!

نیناں بولی ’’مجھے معاف کر دو، کیا اب واپس نہیں پلٹ سکتے ہو؟ تمہیں جو میں نے اذیت اس کا کیسے مداوا کروں؟ کیا یہ محبت دوبارہ نہیں ہو سکتی بتاو کچھ؟‘‘

سنو! محبت کے بعد محبت ممکن ہے، لیکن یہ سچ ہے کہ ٹوٹ کر چاہنا صرف ایک بار ہوتا ہے۔ محبت میں کسی قسم کی امید نہیں رکھی جاتی ہے، بلکہ صرف چاہا جاتا ہے اور میں تمہیں صرف چاہا تھا۔ اب تو بہت دیر ہو چکی ہے۔ تمہارے سنگ دلانہ رویے ہم دونوں کے درمیان کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا۔

نیناں آب دیدہ ہو کر بولی ’’میں جانتی ہوں مجھ سے غلطی ہوئی اور بہت بڑی غلطی ہوئی، لیکن تم کیسے مان سکتے ہو؟ لیکن مجھے ٹھکراو مت، میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ورنہ میں اکیلی رہ جائوں گی۔

تم نے مجھے بہت اذیت دی ہے، جتنا تم آج تڑپ رہی اس سے کہیں اس وقت زیادہ میں تڑپ رہا تھا، لیکن تم نے اپنی جھوٹی انا کی تسکین کے لیے مجھے پلٹ کر بھی دیکھنا گوارا نہ کیا۔ تم میرا وہ خواب تھی، جس کی تعبیر اپنی تکمیل سے پہلے ہی مقدر سے مات کھا گیا۔ میں اب وقت، حالات، سماج اور دماغ میں مچلتی سوچوں کے بھنور کے ہاتھوں شکست کھا چکا ہوں۔ میں نے ہار مان لی ہے، تم بھی تو یہی چاہتی تھیں، جائو اب تم اپنی فتح کا جشن منائو!

میں اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمہاری زندگی دور جا رہا ہوں. تمہیں بھولنا بہت مشکل ہو گا، لیکن ناممکن نہیں! خدا تمہارا حامی و ناصر ہو!

۔۔۔

جمہوریت چپلی کباب نہیں ٹیڑھی کھیر ہے!
مرسلہ:سارہ شاداب،لانڈھی،کراچی
بھٹو صاحب نے کہا ہے کہ جمہوریت چپلی کباب نہیں ہے۔ پس جمہوریت اور آئین کو کھایا نہیں جا سکتا۔ اس پر ایک چٹورا ہونٹ چاٹتا ہمارے پاس آیا اور بولا کہ اگر جمہوریت چپلی کباب نہیں ہے تو پھر کیا ہے۔ ہم نے کہا کہ جمہوریت اصل میں جوتیوں میں دال بٹنے کا معاملہ ہے۔ اس پر چٹورا بھڑکا اور بولا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ آپ چپل سے چلے جوتی تک پہنچ گئے اور کباب سے چل کر دال پہ آرہے ہیں۔ میں نے آپ سے صرف اتنا پوچھا کہ جمہوریت اگر چپلی کباب نہیں ہے تو پھر کون سا کباب ہے۔
اس نے پھر پوچھا کہ ’ڈکٹیٹر شپ‘ کیا ہے۔ ہم نے کہا کہ کباب میں ہڈی۔۔۔! اس میں وہ سوچ میں پڑ گیا۔ پھر بولا کہ تمہیں یاد ہے کہ جب ایوب خان صاحب نے گول میز کانفرنس بلائی تھی تو لیڈر اچکنیں سلوا سلوا کر وہاں پہنچے تھے۔ وزارتوں کا اچھا خاصا نقشہ جم گیا تھا، مگر مولانا بھاشانی اڑ گئے کہ میں کانفرنس میں شامل نہیں ہوں گا۔ اس پس منظر میں ذرا سوچو کہ کباب میں ہڈی کون ہوا۔ ہم واقعی سوچ میں پڑ گئے۔ ٹالتے ہوئے بولے کہ یار یہ ٹیڑھی کھیر ہے، وہ تڑپ کر بولا، تمہارے منہ میں گھی شکر، اصل میں جمہوریت ٹیڑھی کھیر ہے۔
(انتظار حسین کی تصنیف ’قطرے میں دریا‘ سے ایک اقتباس)

۔۔۔

ایک بیاہی بیٹی کی
ماں کا گریہ۔۔۔!
مرسلہ:جاوید ستار،کولکتہ
صحیح کہتے تھے لوگ کنواری کھائے روٹیاں، بیاہی کھائے بوٹیاں۔۔۔ اِدھر ہمارا حلق تر نہیں ہو ریا، اُدھر سمدھیانوں کے پیٹ بھرے جائو۔۔۔! آئے کوئی انتہا تو ہو، سال کے سال بس ٹوکرے لاد کے بھیجے جائو۔۔۔ پھر بھی میری بچی کی جوتیوں میں دال بٹتی ہے۔۔۔ کوئی عزت نہیں کوئی حیثیت نہیں، کتنا بھی ناوا خرچ کر دو ان منحوسوں پہ۔۔۔ ایک نکھٹو داماد کی خاطر تجوریاں لٹا دیں، اس کی منتیں کب تک کرتی رووں، بڑا سونے میں لاد رکھا ہے نا میری بچی کو ۔۔۔!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔