پروڈکشن آرڈر پالیسی تضاد کا شکار کیوں ؟

مزمل سہروردی  جمعرات 20 جون 2019
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

کیا نیب سے گرفتار اراکین پارلیمنٹ کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے چاہئیں یا نہیں؟ کیا کرپشن کے الزام میں گرفتار ارکین پارلیمنٹ کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے چاہئیں؟ کیا پروڈکشن آرڈر اراکین پارلیمنٹ کا استحقا ق ہے یا بادشاہ سلامت کی رعایت، جب دل چاہادے دی جب نہ چاہا نہیں دی؟ کیا اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا اختیار کسی قاعدے اور قانون کے تحت ہے یا اسپیکر کی مرضی، چاہے تو کسی کے پروڈکشن آرڈر جا ری کر دے اور چاہے تو نہ کرے۔

مجھے ابھی تک تحریک انصاف کی پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے پالیسی سمجھ نہیں آئی ہے۔ اس پالیسی میں تضاد ہی تضاد ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ تحریک انصاف پروڈکشن آرڈر پر کوئی واضح پالیسی رکھنے کے  بجائے اس کو اپوزیشن کے ساتھ بار گین کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ماضی میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نیب ملزمان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے رہے ہیں تو اب کیوں نہیں کر رہے۔ سوال یہ ہے کہ جب شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جاتے رہے ہیں تو آج آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر کیوں جاری نہیں کیے جا رہے ۔

سوال تو یہ بھی ہے کہ خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے ہر سیشن میں ایک میوزیکل چیئر کیوں کھیلی جاتی ہے۔ کبھی جاری کر دئے جاتے ہیں اور کبھی جاری نہیں کیے جاتے۔ جب خواجہ سعد رفیق کو نیب نے گرفتار کیا تو تب اسپیکر قومی اسمبلی نے ان کے پروڈکشن آرڈر یہ کہہ کر جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ چونکہ ان کی عدالت سے ضمانت مسترد ہوئی ہے، اس لیے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیںکیے جائیں گے۔ جب کہ شہباز شریف کی ضمانت مسترد نہیں ہوئی تھی اس لیے ان کی پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے تھے حالانکہ قانون کے ماہرین نے اس منطق کو ناقابل فہم قرار دے دیا تھا۔

ایک طرف حکومت کے وزراء ٹی وی  ٹاک شوز میں ایک منطق کا ڈھول پیٹ رہے تھے تو دوسری طرف اسپیکر صاحب پر جب اپوزیشن کا دبائر بڑھ گیا یا جب سودے بازی ہو گئی تو انھوں نے خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیے۔ اب پھر نہیں جاری کیے جا رہے۔ کوئی پوچھ نہیں سکتا کہ پہلے کیوں جاری کیے تھے اور اب کیوں جاری نہیں کر رہے۔ جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی قانون ضابطہ نہیں ہے۔ بس حکومت وقت کی بادشاہت ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ ایک طرف قومی اسمبلی میں حکومت پروڈکشن آرڈر کے اختیار کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے تو دوسری طرف پنجاب میں پروڈکشن آرڈر جاری کیے جارہے ہیں۔ یہ تحریک انصاف کی کیسی حکومت ہے جس میں مرکز میں قومی اسمبلی میں تو پروڈکشن آرڈر نہ جاری کرنے کی پالیسی چل رہی ہے۔ جب کہ دوسری طرف پنجاب میں پروڈکشن آرڈر جاری کیے جارہے ہیں۔ اگر مرکز میں یہ پالیسی ہے کہ بجٹ اجلاس میں کسی نیب کے ملزم کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جائیں گے تو پنجاب میں کیوں جاری کیے جا رہے ہیں۔

اگر مرکز میں یہ پالیسی ہے کہ کسی نیب ملزم کو بجٹ اجلاس میں تقریر کی اجازت نہیں دی جا سکتی تو پنجاب میں حمزہ شہباز کیسے تقریر کر رہے ہیں۔ اگر مرکز میں یہ پالیسی ہے کہ نیب ملزمان کو پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کا کوئی حق نہیں ہے تو پھر پنجاب میں حمزہ شہباز کیسے شرکت کر رہے ہیں۔ بات صرف پنجاب اور مرکز کی بھی نہیں ہے ، آپ سینیٹ کو دیکھ لیں۔وہاں بھی پروڈکشن آرڈر جاری کیے جا رہے ہیں۔ حالانکہ سینیٹ میں بھی تحریک انساف کے حمائت یافتہ چیئرمین سینیٹ ہی بیٹھے ہیں۔ کیوں تحریک انصاف پنجاب میں اپنے حمائت یافتہ اسپیکر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنے حمائت یافتہ چیئرمین سینیٹ کو اپنی پالیسی پر عمل نہیں کروا سکی ۔ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی پالیسی ہے ہی نہیں۔

اگر تحریک انصاف واقعی پروڈکشن آرڈر کے قانون کے خلاف ہے تو کیا یہ حقیقت نہیں کہ پنجاب اسمبلی میں پروڈکشن آرڈر کا کوئی قانون نہیں تھا۔ یہ تحریک انصاف کی حکومت ہی ہے جس نے پنجاب اسمبلی میں پروڈکشن آرڈر کا قانون بنایا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کو پروڈکشن آرڈر کااختیار تحریک انصاف کے قانون پسند ارکین صوبائی اسمبلی کے ووٹوں سے حاصل ہوا ہے۔ ایک طرف تو تحریک انصاف پروڈکشن آرڈر کے قانون کے خلاف روز تقریریں کر رہی ہے دوسری طرف  پروڈکشن آرڈرز جاری بھی کیے جارہے ہیں، یہ تضاد کیوں ہے؟

اس تناظر میں دیکھا جائے تو تحریک انصاف کی پروڈکشن آرڈر پالیسی صرف ابہام ہی نہیں بلکہ کھلے تضاد کا شکار ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تحریک انصاف کی پرودکشن آرڈر پالیسی صرف اور صرف اپوزیشن کو بلیک میل کرنے کے لیے ہے۔ تحریک انصاف اس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ اس وقت یہ ماحول بن گیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اپوزیشن سے یہ بات منوانا چاہتی ہے کہ اپوزیشن وزیر اعظم کی تقریر خاموشی اور احترام سے سنے گی۔ اگر آج اپوزیشن یہ گارنٹی دے دے تو سارے پروڈکشن آرڈر بھی جاری ہو جائیں گے اور باقی رعاتیں بھی مل جائیں گے۔ کیونکہ اپوزیشن وزیر اعظم کی تقریر خاموشی اور احترام سے سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس لیے اپوزیشن کو دبانے کا ہر ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے۔

اگر تحریک انصاف حقیقت میں پروڈکشن آرڈر کے قانون کے خلاف ہے تو اسے قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور کے پی کی اسمبلی سے پروڈکشن آرڈر کا قانون فوری طور پر ختم کرنے کا قانون بنا نا چاہیے۔ قانون بنانا چاہیے کہ جو بھی پکڑا جائے گا اس کی رکنیت ختم ہو جائے گی۔ جب تحریک انصاف اپنی اکثریت کی حامل اسمبلی میں یہ قانون پاس کر لے گی تو باقی پر دباؤ ٖڈال سکے گی کہ وہ بھی پروڈکشن آرڈر کا قانون ختم کریں۔ لیکن ابھی تو تحریک انصاف خود بھی اپنے ارکان کو اس قانون سے فائدہ اٹھانے کا بھر پور موقع دیتی ہے۔ ایسے میں اپوزیشن پر تنقید کیسے جائز قرار دی جا سکتی ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ تحریک انصاف کی پروڈکشن آرڈر پالیسی بلیک میلنگ اور تضاد سے بھر پور ہے۔ اس میں کوئی سچ نہیں ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔