پاکستان کرکٹ کے نشریاتی حقوق کا میچ بھی ’’فکسڈ‘‘

سلیم خالق  جمعرات 5 ستمبر 2013
آخری لمحات میں بڈز سے دستبردار ہونے والے پی ٹی وی کے سابق ایم ڈی نے نجی ادارے کی مشاورت کے فرائض نبھائے۔    فوٹو:  فائل

آخری لمحات میں بڈز سے دستبردار ہونے والے پی ٹی وی کے سابق ایم ڈی نے نجی ادارے کی مشاورت کے فرائض نبھائے۔ فوٹو: فائل

کراچی: پاکستان کرکٹ کے نشریاتی حقوق کا میچ بھی ’’فکسڈ‘‘ ہوگیا، پاک سری لنکا سیریز کے رائٹس ملکی نجی ٹی وی چینل کو مل گئے۔

واضح رہے کہ نگران چیئرمین پی سی بی کا تعلق بھی اسی ادارے سے ہے، سابق براڈ کاسٹر کو جنوبی افریقہ سے سیریز کے میچز دکھانے کے حقوق ملے، آخری لمحات میں بڈز سے دستبردار ہونے والے پی ٹی وی کے سابق ایم ڈی نے اس پراسس میں نجی چینل کی مشاورت کے فرائض نبھائے، بورڈ نے تمام تفصیلات گورننگ باڈی ارکان کو منظوری کیلیے ارسال کر دیں، جلد باقاعدہ اعلان بھی کر دیا جائے گا، ڈی آر ایس کے استعمال کو بھی معاہدے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 140.5 ملین ڈالر کے عوض پاکستان کرکٹ کے نشریاتی حقوق کا 5 سالہ معاہدہ کچھ عرصے قبل اختتام کو پہنچا تھا، خاصی تاخیر سے پی سی بی نے صرف 2 سیریز کیلیے پیشکشیں طلب کیں، چند روز قبل ویب سائٹ پر اشتہار بھی دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق 7 اداروں نے دستاویزات وصول کیں مگر صرف 2 نے ہی بڈنگ میں حصہ لیا، ان میں سے ایک ملکی نجی اسپورٹس چینل جبکہ دوسرا غیرملکی چینل سابقہ معاہدے کا حامل تھا، پاکستان ٹیلی ویژن کے آفیشلز اسلام آباد سے لاہور آئے اور خاصی دلچسپی بھی دکھائی مگر حیران کن طور پر آخری لمحات میں دستبردار ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق ملکی نجی چینل کی بڈ تیار کرنے میں اہم کردار پی ٹی وی کے ایک سابق منیجنگ ڈائریکٹر نے ادا کیا، سرکاری چینل کے لوگ 2 گروپس میں تقسیم ہو گئے بعض غیرملکی چینل کے ساتھ بڈنگ میں شریک ہونا جبکہ سابقہ ایم ڈی کے زیراثر کچھ لوگ ملکی نجی ٹی وی کی شراکت چاہتے تھے، یہ جھگڑا پراسس سے دورہونے پر ہی ختم ہوا۔

فیصلہ کیا گیا کہ جو بھی جیتا اسی کے ساتھ منسلک ہو جائینگے، غیر ملکی براڈ کاسٹر نے مالی طور پر زیادہ منافع بخش جنوبی افریقہ سیریز کو ترجیح دی، پی سی بی نے دونوں سیریز میں ڈی آر ایس کو بھی شامل کیا ہے۔ دریں اثنا کرکٹ بورڈ نے نشریاتی حقوق کے معاہدوں کی منظوری کیلیے گورننگ باڈی ارکان کو تفصیلات فراہم کر دی، تمام کا جواب آنے کے بعد ہی حتمی اعلان کیا جائے گا، واضح رہے کہ بڈنگ پراسس کیلیے سابق صدر احسان مانی کی زیرسربراہی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔