چوہدری نثار کے لیے

جاوید چوہدری  جمعرات 5 ستمبر 2013
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

آپ اگر کراچی میں ہیں تو آپ کو اصل خطرہ قاتلوں‘ ڈکیتوں اور جرائم پیشہ لوگوں کے بجائے موٹر سائیکل سے ہو گا‘ کراچی شہر میں بیس لاکھ موٹر سائیکل ہیں‘ پندرہ لاکھ رجسٹرڈ اور پانچ لاکھ ان رجسٹرڈ‘ا سمگلڈ‘ چوری شدہ یا پھر دوسرے شہروں کی نمبر پلیٹ یافتہ۔ یہ موٹر سائیکل شہر کی نوے فیصد وارداتوں میں استعمال ہوتے ہیں‘ کراچی میں ٹریفک کاایشو رہتا ہے‘ شاہراہوں پر کسی بھی وقت ٹریفک پھنس جاتی ہے اور یہ ٹریفک پانچ پانچ گھنٹے الجھی رہتی ہے چنانچہ جرائم پیشہ افراد گاڑی استعمال نہیں کرسکتے‘ یہ جانتے ہیں‘ یہ واردات کے بعد فرار ہونے کی کوشش کریں گے‘ گاڑی کسی بڑی شاہراہ پر پہنچے گی اور اس دوران اگر ٹریفک بلاک ہو گئی تو یہ پکڑے جائیں گے لہٰذا موٹر سائیکل ان کے لیے جرم کا مفید ترین ذریعہ رہ جاتا ہے‘ یہ دو دو‘ تین تین کی ٹولیوں میں موٹر سائیکلوں پر آتے ہیں۔

کسی بھی سڑک پر ٹارگٹ کو روکتے ہیں‘ اسے گولی مارتے ہیں‘ موٹر سائیکل پر سوار ہوتے ہیں اور کراچی کی گلیوں میں غائب ہو جاتے ہیں‘ یہ لوگ کریکر‘ بم اور گرنیڈ بھی موٹر سائیکلوں کے ذریعے پھینکتے ہیں‘ یہ بازاروں‘ مارکیٹوں‘ شاپنگ سینٹروں‘ مسجدوں اور امام بارگاہوں میں فائرنگ بھی موٹر سائیکلوں کے ذریعے کرتے ہیں‘ یہ موٹر سائیکل پر آتے ہیں‘فائرنگ کرتے ہیں اور موٹر سائیکل پر سوار ہو کر غائب ہو جاتے ہیں‘ کراچی کی نوے فیصد بینک ڈکیتیاں اور موبائل فون‘پرس اور گاڑیاں چھیننے کی وارداتیں بھی موٹر سائیکلوں کے ذریعے ہوتی ہیں‘ اغواء برائے تاوان کے مجرم بھی موٹر سائیکل پر آتے ہیں‘ یہ لوگ دو تین موٹر سائیکلوں پر آتے ہیں‘ مغوی کو اس کی اپنی گاڑی میں بٹھاتے ہیں‘ دو لوگ اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں‘ گاڑی چل پڑتی ہے اور موٹر سائیکل سوار گاڑی کے دائیں بائیں چلتے رہتے ہیں۔

یہ لوگ اس وقت تک سڑک پر اس طرح پھرتے رہتے ہیں جب تک یہ خطرے سے باہر نہیں ہو جاتے‘یہ لوگ خطرے سے باہر نکلنے کے بعد مغوی کو اپنی گاڑی میں ڈالتے ہیں اور یہ اسے اپنے خفیہ ٹھکانے پر لے جاتے ہیں‘ تاوان کی رقم بھی موٹر سائیکلوں پر وصول کی جاتی ہے‘ ایک ٹیم رقم وصول کرتی ہے‘ یہ راستے میں رقم دوسری موٹر سائیکل ٹیم کے حوالے کر دیتی ہے‘ دوسری ٹیم پانچ دس کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے یہ رقم تیسری ٹیم کے حوالے کر دیتی ہے اور یوں تاوان کی رقم موٹر سائیکل پر سفر کرتی ہوئی شہر کے تیسرے چوتھے حصے میں غائب ہو جاتی ہے اور پرس نکلوانے‘ جیبیں خالی کروانے‘ خواتین سے زیور اتروانے اور لوگوں کے شاپنگ بیگ چھیننے کی وارداتیں بھی موٹر سائیکل کے ذریعے ہوتی ہیں‘ کراچی میں اندازے کے مطابق روزانہ ایسی پندرہ سو وارداتیں ہوتی ہیں چنانچہ حکومت اگر صرف موٹر سائیکل کو کنٹرول کر لے تو یہ کراچی میں امن قائم کر سکتی ہے مگر سوال یہ ہے حکومت موٹر سائیکل کو کنٹرول کیسے کرے گی‘ ہم اس کے لیے ایمسٹرڈیم اور کوپن ہیگن ماڈل سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ہالینڈ کے سب سے بڑے شہر ایمسٹرڈیم میں ساڑھے پانچ لاکھ اور ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں اڑھائی لاکھ سائیکل ہیں‘ یہ سائیکل عام سڑکوں پر چلتے تھے اور یہ روزانہ حادثوں کا باعث بنتے تھے‘ حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے ملک کی تمام بڑی شاہراہوں کے ساتھ سائیکل ٹریک بنا دیے اور سائیکل سواروں کو پابند کر دیا یہ صرف اس ٹریک پر سائیکل چلائیں گے‘ یہ ٹریک سے باہر نکلیں گے اور نہ ہی کوئی گاڑی سائیکل ٹریک پر آ سکے گی‘ ایمسٹرڈیم اور کوپن ہیگن میں اس قانون پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے‘ ہم کراچی شہر میں بھی اس ماڈل سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘ ہم تمام مرکزی اور چھوٹی سڑکوں کی ایک لین موٹر سائیکلوں کے لیے وقف کر دیں‘ ہم کنکریٹ کی تین تین فٹ اونچی رکاوٹوں کے ذریعے اس لین کو مرکزی شاہراہ سے الگ کر دیں‘ موٹر سائیکل لین کے شروع اور آخر میں کیمرے لگا دیے جائیں‘ یہ کیمرے ہر موٹر سائیکل اور موٹر سائیکل سوار کو مانیٹر کریں۔

موٹر سائیکل لین کے آخر میں ٹرننگ پوائنٹس ہوں‘ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے ٹریفک سگنلز میں فاصلہ ہو‘ گاڑیاں موٹر سائیکل کے ٹرننگ پوائنٹس سے کم از کم سو فٹ پیچھے رکیں‘ موٹر سائیکلوں کے اشارے پہلے کھلیں‘ یہ ٹرننگ پوائنٹس سے پہلے گزریں اور گاڑیوں کے سگنلز ان کے گزرنے کے بعد کھلیں‘ کراچی شہر میں کوئی شخص ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر موٹر سائیکل نہ چلا سکے‘ جو اس قانون کی خلاف ورزی کرے‘ اس کا موٹر سائیکل ضبط کر لیا جائے‘ نادرا موٹر سائیکلوں کے لیے خصوصی کارڈ جاری کرے‘ یہ کارڈ ہر موٹر سائیکل پر آویزاں ہو‘ یہ چپ کی شکل میں موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ پر بھی لگایا جا سکتا ہے‘ اس کارڈ یا چپ میں موٹر سائیکل اور موٹر سائیکل سوار دونوں کا ڈیٹا موجود ہو‘ کیمرے یہ ڈیٹا پڑھ سکتے ہوں‘ شہر میں موجود موٹر سائیکلوں کی غیر قانونی مارکیٹیں فوراً بند کر دی جائیں اور موٹر سائیکلوں کی غیر قانونی تجارت‘ چوری اور اسمگلنگ کی سخت سزائیں طے کر دی جائیں اور جو شخص ان جرائم میں گرفتار ہو جائے اسے ہر صورت سزا ملے‘ حکومت اگر یہ کر لے تو کراچی میں بڑی حد تک امن قائم ہو سکتا ہے۔

موٹر سائیکل کے بعد موبائل فون سمز اور اسلحہ بھی کراچی میں بدامنی کے ذرایع ہیں‘ آپ ملک میں کسی بھی جگہ سے کسی بھی نیٹ ورک کی سم خرید سکتے ہیں‘ یہ سہولت دنیا کے کسی دوسرے ملک میں موجود نہیں‘ آپ وہاں جب تک اپنا اصل شناختی یا پاسپورٹ پیش نہیں کرتے‘ آپ کو موبائل فون کی سم نہیں ملتی اور آپ ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ دو سمز رکھ سکتے ہیں مگر پاکستان میں آپ جتنی چاہیں سمز خرید لیں آپ کو کوئی نہیں پوچھتا‘ آپ کسی دوسرے کے نام سے سم خریدیں اور استعمال کرنا چاہیں تو بھی کوئی آپ کو نہیں روکے گا‘ دنیا میں ایسا نہیں ہوتا‘ آپ وہاں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ دو موبائل فون سمز ایکٹو کروا سکتے ہیں اور آپ اگر کسی دوسرے کے نام سے سم حاصل کریں یا استعمال کریں تو آپ کو جرمانہ ادا کرنا پڑ جاتا ہے یا موبائل فون کمپنی آپ کو دوبارہ سم جاری نہیں کرتی‘ ہم پاکستان میں بھی ایسا بندوبست کر سکتے ہیں‘ ہم کڑا قانون بنائیں‘ ون سم‘ ون پرسن‘ ون ٹائم کا ضابطہ بنائیں اور کبھی کبھی استعمال ہونے والی تمام سمز بند کر دیں‘ ہم قانون بنا دیں جو سم پندرہ دن تک استعمال نہیں ہوگی یا جو موبائل فون دن میں ایک آدھ کال کے لیے کھلے گا اور پھر بند کر دیا جائے گا وہ مانیٹرنگ میں چلا جائے گا اور موبائل کمپنیاں اس کا ڈیٹا وزارت داخلہ سے شیئر کریں گی۔

کراچی شہر میں چالیس لاکھ غیر قانونی سمز ہیں‘ حکومت فوری طور پر یہ سمز بند کر دے ‘ حکومت دوسرے موبائل یا دوسری سم پر ٹیکس بھی لگا دے‘ یہ اقدامات موبائل فونز اور سمز کو ضابطے میں لے آئیں گے‘ آپ اسی طرح اسلحے کے لیے بھی کڑے قوانین بنائیں‘ کراچی کے تمام اسلحہ لائسنس منسوخ کردیں‘ سیکیورٹی کمپنیوں اور گارڈز کو لائسنس جاری کیے جائیں اور اس کے لیے بھی ان کے پاس شوٹنگ سر  ٹیفکیٹ ہونا چاہیے‘ پاکستان کے 95 فیصد گارڈز نے زندگی میں کبھی رائفل نہیں چلائی ہوتی‘ یہ صرف کندھے پر رائفل لٹکا کر گھروں اور دفتروں کے باہر بیٹھے رہتے ہیں اور یہ اسے ڈیوٹی کہتے ہیں‘ ملک میں آئے روز ایسے حادثے ہوتے رہتے ہیں جن میں گارڈز سے غلطی سے رائفل یا ریوالور چل جاتا ہے اور کوئی عام شہری گولی کی زد میں آ جاتا ہے یا گارڈز ہنگامی حالات میں رائفل کو ڈنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے کیوں؟ کیونکہ اس بے چارے کو رائفل چلانی نہیں آتی اور اگر آتی بھی ہو تو ملک کی زیادہ تر رائفلوں میں گولیاں نہیں ہوتیں یا پھر یہ سال سال بھر چلا کر چیک نہیں کی جاتیں۔

اگر گارڈز کے لیے شوٹنگ سر  ٹیفکیٹ ضروری ہو گا تو اس سے ملک میں روزگار کے نئے ذرایع بھی پیدا ہوں گے‘ گارڈز کی اہلیت میں بھی اضافہ ہو گا اور اسلحہ بھی کنٹرول ہو جائے گا‘ ملک میں غیر قانونی اسلحہ کے خلاف کڑی سزائیں بھی طے کی جائیں گی‘ ہم اگر غیر قانونی اسلحے کو دہشت گردی کے زمرے میں لے آئیں اور ان مجرموں کا فیصلہ بھی دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں کریں تو اس سے بھی اسلحہ کنٹرول ہو جائے گا‘ ملک میں اسلحے کی نمائش پر سخت پابندی ہونی چاہیے‘ سرکاری ملازم اور سیکیورٹی فورسز بھی اسلحے کو غلاف میں چھپا کر رکھیں‘ اس سے لوگوں میں اسلحے کی ترغیب ختم ہو جائے گی اور ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا جرم کو بہرحال پولیس ہی کنٹرول کر سکتی ہے۔

آپ رینجرز اور فوج کو لاکھ اختیارات دے دیں مگر جرم روکنے کا کام یا ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ذمے داری بہرحال پولیس ہی کو ادا کرنا پڑتی ہے‘ رینجرز اور فوج حملہ کر سکتی ہے‘ اسے قانون‘ دفعات اور عدالتی نظام کا علم نہیں ہوتا چنانچہ یہ مجرم کو مارنے یا گرفتار کرنے کے بعد پھنس جاتی ہے‘ آپ پولیس پر فوکس کریں‘ آپ پولیس کو اچھے سربراہان دیں اور یہ سربراہان پروفیشنل سطح پر پولیس کی ٹریننگ اور احتساب کریں‘ پولیس اچھی ہو گی تو ملک میں امن قائم ہو جائے گا اور اگر پولیس اچھی نہیں ہو گی تو رینجرز اور فوج پورے اختیارات کے باوجود جرم ختم نہیں کر سکے گی کیونکہ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ملک میں چار مارشل لاء ناکام نہ ہوتے‘ امریکا  عراق اور افغانستان میں پولیسنگ سسٹم بنانے پر مجبورنہ ہوتا‘ ہم رینجرز اور فوج کے ذریعے کراچی کوزیادہ دیر تک سنبھال نہیں سکیں گے چنانچہ آپ وہ کریں جو دنیا کر رہی ہے‘ وہ نہ کریں جس میں دنیا ناکام ہو چکی ہے اور یہ میری چوہدری نثار صاحب سے درخواست ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔