ضیاء سرحدی اصولوں پر سمجھوتے کے قائل نہیں تھے

کلچرل رپورٹر  جمعـء 6 ستمبر 2013
’’من موہن‘‘ کی کہانی کے علاوہ اس کے مکالمے اور گیت بھی ضیاء سرحدی ہی نے تحریر کیے تھے۔ فوٹو: فائل

’’من موہن‘‘ کی کہانی کے علاوہ اس کے مکالمے اور گیت بھی ضیاء سرحدی ہی نے تحریر کیے تھے۔ فوٹو: فائل

لاہور: علم وادب فکر ونظر ، شعروسخن اور فلم وفن کے حوالے سے برصغیر ہندوپاک کی معروف ، باکمال اور پروقار شخصیت ضیاء سرحدی اپنے مخصوص سیاسی نظریات کے باوجود ارباب لوح وقلم میں ہمیشہ معتبر ومحترم رہے ۔

ان کی شخصیت کا ایک اہم اور نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ اصولوں پر کسی قسم کی مصلحت پسندی یا سمجھوتے کے قطعا قائل نہیں تھے۔ 1914ء میں پشاور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم آبائی شہر ہی میں حاصل کی لیکن گریجوایشن لاہورمیں پنجاب یونیورستی سے کی ۔کالج کے طالب علم کی حیثیت سے جامعہ پنجاب سے زمانہ طالب علمی ہی میں مارکسزم سے رغبت اور وابستگی ہوئی ۔انشا پردازی اور شاعری کی طرف بھی رحجان کچھ زیادہ ہی تھا اسی شوق کی تکمیل کے لیے بمبئی روانہ ہوگئے۔ ایسٹ انڈیا فلم کمپنی میں کچھ عرصہ ملازم رہے پھر ساگر موویٹون کے شعبہ اسکرپٹ، رائٹنگ اور مکالمہ نویسی سے وابستگی اختیار کرلی ۔ ساگر موویٹون سے اپنی وابستگی کے دوران ہدایتکار محبوب سے ان کی گہری رفاقت رہی ۔ 1936ء میں ساگر کے لیے ’’من موہن‘‘لکھی جس کی ہدایات محبوب نے دی تھیں۔اسی فلم میں ضیاء سرحدی نے ایک کردار بھی کیا تھا۔

’’من موہن‘‘ کی کہانی کے علاوہ اس کے مکالمے اور گیت بھی ضیاء سرحدی ہی نے تحریر کیے تھے۔ 1938ء میں ’’مدھر ملن‘‘ اور ’’پوسٹ مین‘‘ دو فلموں کی ہدایتکاری بھی کی ۔1939ء میں ’’بھولے بھالے‘‘ اور ’’شو راج‘‘نامی فلموں کی کہانیاں اور نغمات بھی لکھے ۔1940ء میں ساگر موویٹون کو چھوڑ دیا اور سن رائز پکچرز سے وابستہ ہوگئے اور فلم ’’ سپنا‘‘ لکھی اور ڈائریکٹ بھی کی ۔ مہیشوری پکچرز سے ’’راوی پار‘‘ نامی ایک فلم کی ڈائریکشن کے لیے معاہدہ ہوا اور لاہور آئے مگر ابتدائی مراحل ہی کے دوران اختلافات پیدا ہونے کے باعث فلم ادھوری چھوڑ کر واپس بمبئی چلے گئے اور اسے شنکر مہتہ نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ 1943ء میں ’’نادان‘‘ ڈائریکٹ کی جس میں ملکہ ترنم نورجہاں اور مسعود نے مرکزی کردار ادا کیے تھے ۔

1945ء میں ’’یتیم‘‘ بنائی جس کی موسیقی خورشید احمد انور نے مرتب کی تھی ۔ اسی دوران ’’بڑی ماں‘‘ ،’’اعلان‘‘ کے علاوہ ہدایتکار محبوب کی ’’انوکھی ادا‘‘ کی کہانی اور گیت بھی ان ہی کے تحریر کردہ تھے۔ 1948میں ایک اور مشہور فلم ’’انوکھا پیار‘‘ کی کہانی اور گیت اور مکالمے لکھے جس کے مرکزی کردار نرگس اور دلیپ کمار نے ادا کیے تھے۔ ہدایتکار وجے بھٹ کی مشہور فلم ’’بیجوباورا‘‘ کے مکالمے بھی ضیاء سرحدی نے لکھے تھے ۔1951 ء میں فلم ’’ہم لوگ‘‘ بنائی جس کا ایک ڈائیلاگ’’ اس دیے کو جلنے کا کوئی ادھیکار نہیں جس میں تیل نہ ہو ‘‘ ۔1953 ء میں فلم ’’فٹ پاتھ‘‘ ڈائریکٹ کی جس کے مصنف بھی وہ خود ہی تھے (مینا کماری اور دلیپ کمار ) نے مرکزی کردار اداکیے تھے۔1956ء میں محبوب پروڈکشنز کے لیے ’’آواز‘‘ نامی فلم لکھی اور ڈائریکٹ کی۔ 1958ء میں پاکستان چلے آئے۔یہاں ایک فلم ’’آخر شب‘‘ شروع کی جس میں دو اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں ضیاء محی الدین اور اسد جعفری کو متعارف کرایا۔

فلم کی پبلسٹی بڑے زوروشور سے ہوتی رہی لیکن وہی ان کے ’’غیر لچکدار‘‘ رویئے اور اپنے موقف پر کسی قسم کی مصلحت نہ کرنے کی وجہ سے یہ منصوبہ ادھورا ہی رہ گیا وہ فلم پھر کبھی بھی پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکی ۔1959ء میں چوہدری عید محمد کے ادارے ایورگرین پکچرز کے لیے ’’راہ گذر‘‘ بنائی ۔ ایک اور فلم ’’رم جھم‘‘ شروع کی مگر فلمساز سے اختلافات پیدا ہونے پر انھوںنے علیحدگی اختیار کرلی۔ اس فلم کو پھر قمر زیدی نے ڈائریکٹ کیا۔ اس کے بعد بیرون ملک چلے گئے جہاں سے آفتاب منگھی کی فلم ’’شہرا ورسائے‘‘ کے لیے وطن واپس آئے اور فلم کی تکمیل کے بعد60کی دہائی میں ہی واپس اسپین چلے گئے۔اس کے علاوہ انھوں نے ’’اعلان‘‘ ، ’’کافر‘‘ ،’’لاکھوںمیں ایک ‘‘ ، ’’ بالم ‘‘ ،’’نیا سورج‘‘ اور ’’سرحد‘‘ کے اسکرپٹ لکھے ۔ 27 جنوری 1997ء کو میڈرڈ(اسپین) میں انتقال کرگئے ۔ ٹی وی کے معروف اداکار خیام سرحدی ان کے بیٹے تھے ۔ ضیاء سرحدی معروف گلوکار ،موسیقار اور اداکار رفیق غزنوی کے داماد تھے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔