نوابشاہ کے مزید5 معروف ڈاکٹرزکودھمکی آمیز ٹیلی فون

اسماعیل ڈومکی  جمعـء 6 ستمبر 2013
 ابھی تک کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی دیگر کسی ڈاکٹر کو سیکیورٹی دی گئی ہے، ڈاکٹر علی اکبر

ابھی تک کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی دیگر کسی ڈاکٹر کو سیکیورٹی دی گئی ہے، ڈاکٹر علی اکبر

نوابشاہ:  پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نوابشاہ کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر شمس شیخ کے بیٹے شجاع شیخ کے اغوا کو 20 روز گزرجانے کے باوجود پولیس مغوی کو بازیاب نہیں کرا سکی۔

جبکہ ذرائع کے مطابق نامعلوم ڈاکوئوں نے نواب شاہ شہر کے5 معروف ڈاکٹرز کو بھی ٹیلی فون کر کے اغوا کی دھمکیاں دیتے ہوئے تاوان ادا کرنے کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے جن ڈاکٹروں کو دھمکی آمیز ٹیلی فون کال موصول ہوئی ہیں۔ ان میں مشہور سرجن و پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نواب شاہ کے سرجری فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر علی اکبر گھمرو اور آنکھوں کے سرجن پروفیسر ڈاکٹر خان محمد منگریجو شامل ہیں۔ ایکسپریس کے رابطہ کرنے پر ڈاکٹر علی اکبر گھمرو نے دھمکی آمیز ٹیلی فون کال موصول ہونے کی تصدیق کی اور بتایا کہ انھوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو آگاہ کیا اور ایک حساس ادارے نے مذکورہ دھمکی آمیز فون کال ٹریس کی تو معلوم ہوا کہ وہ کال کراچی کے علاقے ہاکس بے سے کی گئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ انہیں ابھی تک کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی دیگر کسی ڈاکٹر کو سیکیورٹی دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دھمکی آمیز ٹیلی فون کال ڈاکٹر شمس شیخ کے بیٹے شجاع شیخ کے اغوا کیے جانے کے واقعہ کے بعد موصول ہوئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ پروفیسر ڈاکٹر خان محمد منگریجو کو بھی دھمکی آمیز فون کال موصول ہوئی جبکہ انھوں نے دیگر 3 ڈاکٹروں کے نام بتانے سے گریز کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پیپلز میڈیکل کالج اسپتال مختلف شعبوں کے سربراہان، اسپیشلسٹ ڈاکٹروں نے عدم تحفظ کے باعث میڈیکل یونیورسٹی سے مستعفی ہوکر بیرون ملک منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ڈی ایس پی سٹی اعجاز ترین نے ایسے کسی واقعہ سے لاعلمی کا کیا اور کہا کہ ڈاکٹر علی اکبر گھمرو اور ڈاکٹر خان محمد منگرجو نے کسی بھی قسم کی دھمکی آمیز ٹیلی فون کال موصول ہونے کے حوالے سے پولیس کو نہیں بتایا اگر وہ تحریری طور پر سیکیورٹی کے لیے درخواست دیں گے تو انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔