چلی:جنرل پنوشے کے دور آمریت میں اپنے کردار پر عدلیہ نے معافی مانگ لی

نیٹ نیوز  جمعـء 6 ستمبر 2013
جنرل پنوشے1973ء میں چلی کے سوشلسٹ حکمران سیلواڈور الندے کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہوگئے تھے۔ فوٹو : فائل

جنرل پنوشے1973ء میں چلی کے سوشلسٹ حکمران سیلواڈور الندے کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہوگئے تھے۔ فوٹو : فائل

سنتیا گو:  لاطینی امریکا کے ملک چلی میں عدلیہ نے 1970ء اور 80ء کی دہائی میں فوجی آمر جنرل اگاستو پنوشے کے دور حکومت میں اپنے فیصلوں اور اقدامات پر معافی مانگی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ چلی میں ججوں نے فوجی آمریت کے مظالم میں برابر کے شریک ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ چلی میں عدلیہ کی نمائندگی کرنے والے ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل پنوشے کے دور میں اس وقت کے ججوں نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے محافظ ہونے کا اپنا اصل کردار ہی ترک کیے رکھا تھا۔

جنرل پنوشے1973ء میں چلی کے سوشلسٹ حکمران سیلواڈور الندے کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہوگئے تھے اور 1990ء تک اقتدار پر قابض رہے۔ جنرل پنوشے کے دور اقتدار میں ان پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات لگتے رہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔