بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کے بہیمانہ تشدد سے مسلم نوجوان جاں بحق

ویب ڈیسک  پير 24 جون 2019
تبریز انصاری سے جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگوائے گئے۔ فوٹو:انٹرنیٹ

تبریز انصاری سے جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگوائے گئے۔ فوٹو:انٹرنیٹ

جمشید پور: بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ میں مسلم نوجوان کو بدترین تشدد کرکے قتل کردیا گیا۔

ضلع کھرسانواں میں انتہا پسند ہندوؤں نے تبریز انصاری پر موٹر سائیکل چوری کا الزام لگاکر بدترین تشدد کیا۔ وہ مظلوم چیختا رہا کہ اس نے چوری نہیں کی۔ ظالموں نے تبریز انصاری کو ستون سے باندھ کر ڈنڈوں اور لاٹھیوں کی بارش کردی۔

تبریز انصاری کو باندھ کر 7 گھنٹے تک تشدد کیا جاتا رہا اور اس سے جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگوائے گئے۔  شدید زخمی تبریز انصاری کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کرکے اسے جیل بھیج دیا گیا۔ طبیعت بگڑنے پر اسے اسپتال لے جایا گیا۔ جب اہل خانہ اس سے ملاقات کے لیے پہنچے تو پولیس نے انہیں تبریز سے یہ کہہ کر ملنے سے روک دیا کہ تم چورسےملنےآئےہو۔ تبریز کئی گھنٹے تک موت و زندگی کی کشمکش میں رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

تبریز کے لواحقین نے اس پر عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا پہلے سے کوئی مجرمانہ رکارڈ نہیں تھا، اس کا جرم مسلمان ہونا ہے، اگر وہ مسلمان نہ ہوتاتوزندہ ہوتا۔ بھارتی پولیس نے تبریز کی موت پر مقدمہ درج کرکے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔

آل انڈیا انجمن اتحاد المسلمین کےسربراہ اسدالدین اویسی نے بی جےپی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جےپی مسلمانوں کےخلاف نفرت انگیز جذبات پھیلا رہی ہے، کیا یہ نیا بھارت ہے،جو بھارتی وزیراعظم چاہتے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔