میگا منی لانڈرنگ کیس؛ فریال تالپورکے جسمانی ریمانڈ میں 14 روزکی توسیع

ویب ڈیسک  پير 24 جون 2019
تفتیش میں غیرضروری لوگوں کو ہراساں نہ کیا جائے، احتساب عدالت فوٹو: فائل

تفتیش میں غیرضروری لوگوں کو ہراساں نہ کیا جائے، احتساب عدالت فوٹو: فائل

 راولپنڈی: احتساب عدالت نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں فریال تالپورکے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی۔

راولپنڈی کی احتساب عدالت میں میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی، فریال تالپورکوسخت سیکیورٹی میں عدالت لایا گیا۔ نیب پراسیکیوٹرنے موقف اختیار کیا کہ فریال تالپورنے اویس مظفرکورقوم منتقل کیں اوردوران تفتیش اس کا اعتراف کیا ہے، فریال تالپورنے کہا کہ یہ رقوم عبدالغنی مجید نے دی تھیں، انہیں معلوم نہیں تھا کہ اکاؤنٹس جعلی ہیں، انہوں نے مشتاق احمد اورزین ملک کے مشترکہ اکاؤنٹ سے بھی لاعلمی کا اظہارکیا ، پہلے یہ کہتے تھے اومنی گروپ سے گنے کی فروخت کے بدلے رقوم آئیں اوراب ان کا کہنا ہے انہیں یہ بھی معلوم نہیں کس شوگرمل نے انہیں رقم بھیجی۔

فریال تالپورکے وکیل لطیف کھوسہ سے کہا کہ فریال تالپورکے زرداری گروپ میں ایک فیصد سے بھی کم شیئرزہیں، پارک لین میں بھی فریال تالپورکا کوئی کردارنہیں، پارک لین نے نجی بینک سے قرضہ لیا، نیب والے کچھڑی بنا رہے ہیں، نیب ماشاءاللہ بہت شفاف کام کررہا ہے، اللہ ان کومزید شفاف کام کرنے کی ہدایت دے، گھڑلیں جوکچھ گھڑنا ہے، ہم بیس سال سے یہ سہہ رہے ہیں، انہوں نے بی بی شہید کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا، علیمہ باجی کا انہیں کچھ کیوں نظرنہیں آتا۔

عدالت نے فریال تالپورکے جسمانی ریمانڈ میں 14 روزکی توسیع کرتے ہوئے انہیں 8 جولائی کودوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے نیب حکام کو ہدایت کی کہ اپنی تحقیقات جعلی اکاؤنٹس تک محدود رکھیں، تفتیش میں غیر ضروری لوگوں کو ہراساں نہیں کرنا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔