سندھ میں ایک لاکھ اساتذہ استاد کہلانے کے لائق نہیں، وزیر تعلیم

اسٹاف رپورٹر  منگل 25 جون 2019
ہماری شناخت پر بات مت کرو، چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں، خواجہ اظہار۔ فوٹو: فائل

ہماری شناخت پر بات مت کرو، چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں، خواجہ اظہار۔ فوٹو: فائل

کراچی:  سندھ کے وزیرتعلیم سردار شاہ نے انکشاف کیا کہ سندھ میں ایک لاکھ 34ہزار اساتذہ ہیں لیکن ان میں سے ایک لاکھ ٹیچرز کہلانے کے لائق نہیں، انہیں پڑھاناہی نہیں آتا۔

سندھ اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر جاری اپنی تقریر کے دوران وزیرتعلیم سردار شاہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن وعدہ کرے کہ نہ پڑھانے والے اساتذہ کو نکالنے پر احتجاج نہیں کیا جائے گا تو ہم ان کا دوبارہ ٹیسٹ لے کر ایسے لوگوں کو نکال دیں گے جو پڑھانا نہیں جانتے۔

بجٹ پر حکومت اور اپوزیشن کے متعدد ارکان نے اظہار خیال کیا۔ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جب وفاق میں برسراقتدار ہوتی ہے تو وہ خود کوچاروں صوبوں کی زنجیر کہلواتی ہے لیکن وہاں حکومت میں نہ ہو تو وفاق کو آنکھیں دکھاتی ہے۔

تحریک انصاف کے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ عمران خان سلیکٹڈ ہیں مگر انہیں اللہ اور عوام نے سلیکٹ کیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے سندھ کو تباہ کردیا۔تحریک لبیک کے مفتی قاسم فخری اور دیگر ارکان نے بھی حصہ لیا۔

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے اراکین سندھ اسمبلی کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اراکین بجٹ پر تقاریر کے دوران غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال سے گریز کریں۔انہوں نے تنبیہ کی کہ کسی رکن نے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کیے تو پوری تقریر حذف کرا دونگا اسپیکر نے حکومتی اور اپوزیشن اراکین کو وارننگ بھی دی۔

سندھ کے وزیر تعلیم سردار شاہ نے اپنے خطاب میں بڑے واشگاف الفاظ میں کہا کہ جو سندھ دھرتی ماں کے بٹوارے کی بات کریگا اس سے ہماری جنگ ہے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے دیہات میں سیکنڈری اور ہائی اسکولزنہیں نہیں ہیں،بچیوں کے لیے سیکنڈری ہائی اسکول نہ ہونے کے سبب داخلوں کی شرح کم ہوتی رہی ہے۔ ہم کراچی کو سندھ کاحصہ سمجھتے ہیں،تعلیم وصحت پر سیاست نہیں کرینگے بہتری لائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں اساتذہ کی کمی نہیں ہے ،محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی تعنیاتی میں خامیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ میںنے اپنی بیٹی کو سرکاری اسکول میں داخل کراکے کوئی احسان نہیں کیا۔

سردار شاہ نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں مختلف یونینز مافیابنی ہوئی ہیں،تجویز زیرغور ہے کہ اساتذہ کادوبارہ ٹیسٹ لیاجائے ،جو ٹیچر ٹیسٹ پاس کر ے اسکو ملازمت پربرقرار رکھا جائے۔سندھ میں سرکاری اساتذہ کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 34ہزار ہے جس میں سے ایک لاکھ اساتذہ پڑھاتے نہیں ہیں۔

اپنی بجٹ تقریر میں ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ آج کل حالات ایسے ہیں کہ دعائوںکی ضرورت ہے۔ ٹِیکسز اور غیرترقیاتی بجٹ میں اضافہ کرکے کہتے ہیں عوام دوست بجٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کی شناخت پرانگلی مت اٹھائو۔آپ کون کہتے ہیں ہماری شناخت پرانگلیاں اٹھانے والے ؟ہم تو پہلے کہتے تھے کہ چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں،ہمیں اپنے آپکو پاکستانی اورمہاجر ہونے پر فخر ہے۔وزیراعلی ٰکا اپنے ارکان کی اشتعال انگیزی پر کنٹرول نہیں،بلاول بھٹو اور آصف زرداری اپنی پارٹی کے ارکان کی اشتعال انگیزی کوروکیں،ہم آج کے بعد اپنی شناخت پر کوئی بات نہیں سنیں گے۔

خواجہ اظہار الحسن کے ریمارکس پر پیپلزپارٹی ارکان کی جانب سے احتجاج اور شور شرابہ کیا گیا۔ جس پر خواجہ اظہار نے کہا کہ میں آپکی فضولیات سننے نہیں آیاہوں۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی میں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ تو حل نہیں کرسکی لیکن آن لائن ٹیکسی پر 13 فیصد ٹیکس لگادیا۔خواجہ اظہار کی تقریر طوالت اختیار کرگئی تو پینل آف چیئرمین کے گھنور اسران نے انہیں تقریر ختم کرنے کی ہدایت کی لیکن انہوں نے اپنی بات جاری رکھی جس پر ان کا مائیک بند کردیا گیا۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور احتجاج کیا۔

تحریک لبیک کے رکن مفتی قاسم فخری نے کہا کہ ملک مقروض ہے اور ہم قرض پر قرض لیتے جارہے ہیں۔پیپلز پارٹی کے غلام قادر چانڈیو نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام کو بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں دیا لیکن ان مشکل حالات میں سندھ حکومت نے بہتر اور متوازن بجٹ پیش کیا ہے۔

تحریک انصاف کے رکن شاہ نواز جدون نے سندھ کے بجٹ کو اعدادو شمار کا ہیر پھیر قراردیا۔ جی ڈی اے کے رکن نند کمار گوکلانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم کہتے تھے وزیر اعلیٰ پیپلز پارٹی نہیں پورے سندھ کے ہوتے ہیں مگر وزیر اعلی نے تو ثابت کردیا کہ وہ صرف اپنے لوگوں کے ہیں۔انہوں نے نصرت سحر عباسی کے شوہر کے او پی ایس پر تبادلہ کرنے کی مذمت کی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔