پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں

ایڈیٹوریل  جمعـء 6 ستمبر 2013

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے جمعرات کو اسلام آباد میں اپنے اجلاس میں اس عزم کی تجدید کی کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے مکمل طورپر محفوظ ہیںاور ان کا انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں جانے کا کوئی امکان نہیں، اس حوالے سے عالمی برادری کے تمام تر شکوک و شبہات بے بنیاد ہیں۔ اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل خالد قدوائی نے اجلاس میں ملک کی ایٹمی تنصیبات اور اثاثوں کی سلامتی اور تحفظ کے بارے میں کیے گئے اقدامات سے متعلق بریفنگ دی۔اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور وفاقی وزرا چوہدری نثار علی خان، اسحٰق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز اور اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن کے سربراہ خالد قدوائی شریک ہوئے۔

پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے مغربی ذرائع ابلاغ میں اکثر اوقات منفی پروپیگنڈا ہوتا رہتا ہے۔ جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کے نظام پر بھی تحفظات ظاہر کیے جاتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات میں کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جس سے یہ تاثر ملے کہ یہ غیر محفوظ ہیں۔ اس کے برعکس روس ‘جاپان اور بھارت میں ایسے واقعات ہوئے ہیں جب وہاں کی ایٹمی تنصیبات سے تابکاری وغیرہ خارج ہوئی۔جہاں تک انتہا پسندوں کا تعلق ہے ‘اس بارے میں حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں انتہا پسند قوتیں اتنی طاقتور نہیں ہیں کہ وہ ریاست پر قبضہ کر سکیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈے کا مقصد عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی حال ہی میں سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن کی لیک کی گئی خفیہ دستاویزات اور امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کی ’بلیک بجٹ‘ نامی دستاویزات کے اقتباسات شائع کیے تھے۔ ان خفیہ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی سیکیورٹی اور اس سے جڑے دیگر مواد کے بارے میں معلومات میں کمی ہونا انٹیلی جنس کی خامی ہے۔ اس قسم کے پروپیگنڈے کا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ پاکستان کو ایٹمی حوالے سے دبائو میں لایا جائے۔اب گزشتہ روز نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور انتہا پسندوں کے ہاتھ لگنے کا کوئی خطرہ نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔