افغان ٹرانزٹ اسکینڈل، کسٹمز ایجنٹس کا 10 ستمبرسے ہڑتال کا اعلان

بزنس رپورٹر  ہفتہ 7 ستمبر 2013

کراچی: محکمہ کسٹمز پورٹ قاسم کلکٹریٹ کی جانب سے کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹس، بارڈر ایجنٹس کو نوٹسز جاری کرکے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اسکینڈل میں ملوث کرنے کے خلاف ملک بھرکے کسٹمز ایجنٹس نے منگل 10 ستمبرسے غیرمعینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ محکمہ کسٹمز کی جانب سے 3 او این اوز کے ذریعے1129 کسٹمز، بارڈر ایجنٹس، این ایل سی اورافغان درآمدکنندگان کونوٹسز جاری کیے گئے ہیں جس پر کسٹمزکلیرنگ ایجنٹس میں اضطراب کی لہر دوڑگئی ہے اور انہوں نے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے 10 ستمبر 2013سے غیرمعینہ مدت کے لیے کسٹمزکلیرنس بند کرکے ملک گیرہڑتال کرنے کا فیصلہ کیاہے، جمعہ کی شام کراچی پریس کلب میں کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدرسیف اللہ خان اور آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید شمس احمدبرنی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ کسٹمز ایجنٹس 70فیصد ریونیو کی وصولی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ایف بی آرحکام نے ہمیشہ کی طرح کسٹمزایجنٹس کو تختہ مشق بنانے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اسکینڈل میں کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس کو بلاجواز ملوث کیا جا رہا ہے حالانکہ محکمہ کسٹمز کے پبلک نوٹس نمبر 16 اور 5 کے تحت کسٹمزایجنٹس کی حدودوذمہ داریاں پہلے سے ہی متعین ہیں کہ وہ صرف افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنسائمنٹس کو کلیئر کروا کر نیشنل کیریئرکے حوالے کردے جس کے بعد کسٹمزایجنٹس کی ذمہ داری ختم ہوجائے گی اورافغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنسائمنٹس کو باحفاظت مقررہ منزل تک پہنچانے کی ذمہ داری نیشنل کیریئر جن میں پاکستان ریلوے اورنیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) شامل ہیں پر عائد ہوتی ہے لیکن اس حقیقت کے برعکس محکمہ کسٹمزصرف اپنے متعلقہ افسران کے بچاؤ کے لیے لائسنس یافتہ کسٹمزایجنٹس کوملوث کرنے کی کوششیں کر رہاہے تاکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اسکینڈل کی تحقیقات کا رخ دوسری جانب موڑا جا سکے اور اصل قومی مجرم بھی بچ جائیں۔

سیف اللہ خان نے دعویٰ کیا کہ میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہ رہاہوں کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اسکینڈل میں کوئی بھی کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹ ملوث نہیں ہے اوراگرایف بی آرکے پاس کسی بھی کلیئرنگ ایجنٹس کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں تو وہ اسے قرارواقعی سزادے اور شواہد کی بنیاد پر کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن بھی ایف بی آرکا ساتھ دے گی، کسٹمز کلیرنگ ایجنٹوں کی 10ستمبرسے ملک گیرہڑتال کے سبب تمام درآمدوبرآمدی سرگرمیاں معطل ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ صرف کراچی کی دونوں بندرگاہوں سے متعلقہ کسٹمز کلکٹریٹ میں درآمدات کی یومیہ 1200 تا1500 جبکہ برآمدات کی800 تا 1000 گڈز ڈیکلریشنز داخل کرائی جاتی ہیں، دریں اثنا فرنٹنیر کسٹمز ایجنٹس گروپ کے چیئرمین ضیاالحق سرحدی اور پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے نائب صدر انجینئرداروخان نے مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔