غیر رجسٹرڈ انعامی بانڈز کی فروخت پر پابندی، عوام پریشان

احتشام مفتی  بدھ 26 جون 2019
 پرانے انعامی بانڈز31 مارچ 2020 کے بعد کیش نہیں ہوں گے نہ اب قرعہ اندازی ہوگی
 فوٹو: فائل

 پرانے انعامی بانڈز31 مارچ 2020 کے بعد کیش نہیں ہوں گے نہ اب قرعہ اندازی ہوگی فوٹو: فائل

کراچی:  اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا40ہزارروپے مالیت کے غیر رجسٹرڈ پرانے انعامی بانڈز کی24 جون سے فروخت روکنے کے احکام کے بعد بولٹن مارکیٹ کی پرائز بانڈ مارکیٹ میں 40ہزارمالیت کے انعامی بانڈز فروخت کرنے والوں کی لائنیں لگ گئیں۔

40ہزارمالیت کے انعامی پرائزبانڈز فروخت کرنے والے اور لکی پرائزبانڈز کی پرچیاں بیچنے والے ڈیلرز بھی اضطراب سے دوچارہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ 40ہزارروپے کا انعامی بانڈز نہ صرف غیرقانونی ادائیگیوں میں استعمال کیا جاتا تھا بلکہ متوازی معیشت میں یا بلیک اکانومی میں بھی اس بڑی مالیت کے بانڈز کا بے دریغ استعمال کیا جاتا تھا۔

غیررجسٹرڈ پرانے 40ہزار کے انعامی بانڈز فروخت کرنے والوں میں اکثریت عمررسیدہ اور ریٹائرڈ افراد کی ہے جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے چھوٹی چھوٹی بچتیں کرکے انعام اور بچت کی خاطر 40ہزارمالیت کے انعامی بانڈز خریدے تھے جو اسٹیٹ بینک کی اچانک بندش سے ان کے لیے کاغذ کے ٹکڑے بن گئے ہیں۔

مارکیٹ میں40ہزارکا ایک پرائز بانڈ فروخت کرنے کے خواہشمند نے ایکسپریس کو بتایا کہ وہ اپنے بچے کے فرسٹ ائیر میں داخلے کے لیے بانڈ فروخت کرنے آیا ہے، یہاں آکر معلوم ہوا کہ اسٹیٹ بینک نے بانڈ کی فروخت پرپابندی عائد کردی ہے، اس صورتحال سے وہ پریشان ہوگیا ہے۔

پرائزبانڈزاور انعامی پرچی کے ایک ڈیلرعبدالعزیز کا کہنا تھاکہ 40ہزاروالے بانڈز کی رجسٹریشن کے بغیر فروخت پر پابندی کی خبر کے بعد آج صبح سے ہی 40ہزار والے غیررجسٹرڈ پرانے بانڈز فروخت کرنے آرہے ہیں۔

بیشتر فروخت کنندگان کا کہنا ہے کہ وہ بینکوں میں جاکر مایوسی کے بعد پرائز بانڈ کی مارکیٹ آئے ہیں اور ان کا کوئی بینک اکاؤنٹ بھی نہیں ہے تو اسٹیٹ بینک انھیں کس طرح ان کے بانڈکے عوض رقم فراہم کرے گا۔

عبدالعزیز نے بتایا کہ پاکستان میں پہلے ہی بچت کی شرح انتہائی کم ہے لہذا اس نوعیت کے یک جنبش قلم اقدامات سے پرائز بانڈز کے ذریعے قومی بچت کا نظام تباہ ہوجائے گا اور لوگ نظام پر عدم اعتماد کرتے ہوئے آئندہ پرائز بانڈز میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے۔ واضح رہے منگل کو پرائز بانڈ مارکیٹ میں بعض ڈیلرز ضرورت مندوں سے40ہزار روپے کا ایک بانڈ38ہزار روپے اور بعض ڈیلرز37ہزار روپے میں خرید رہے ہیں۔

پیر کو اسٹیٹ بینک کے کرنسی منیجمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تمام بینکوں کے صدور کو بھیجے گئے خط میں کہاگیا ہے کہ40ہزار کے پرانے انعامی بانڈز 31 مارچ 2020 کے بعد نہ کیش ہوںگے اور نہ ہی ان کی اب کوئی قرعہ اندازی کی جائے گی البتہ 40ہزارروپے کے پرانے انعامی بانڈز کو40ہزارکے پریمیم پرائز میں تبدیل کیا جاسکے گا۔

خط میں کہاگیا ہے کہ بانڈ ہولڈزپرانے 40ہزار کے انعامی بانڈز قومی بچت کے سرٹیفیکٹ میں تبدیل کراسکیں گے۔31 مارچ 2020 تک بانڈز صارفین اسٹیٹ بینک کے اور 6کمرشل بینکوں سے40 ہزار کے بانڈز کو پریمیم انعامی بانڈز میں رجسٹرڈ کراسکیں گے۔

اگر بانڈ ہولڈرز کو اپنے انعامی بانڈز کوکیش کرانا ہو تو فارم بھر کر بانڈز کے مالک کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی جاسکے گی۔اس طرح سے اگلے سال یکم اپریل سے40ہزار کے پرائز بانڈ کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہ ہوگی۔ پرائز بانڈز صارفین 40 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈز میں کی گئی اپنی سرمایہ کاری کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ 31 مارچ 2020 تک بانڈز صارفین اسٹیٹ بینک سمیت نیشنل بینک، ایچ بی ایل، ایم سی بی، یو بی ایل، اے بی ایل اور بینک الفلاح سے40 ہزار کے بانڈز کو پریمیم انعامی بانڈز میں رجسٹرڈ کراسکیں گے۔ کیش کرانے کی صورت میں فارم بھر کر بانڈز کے مالک کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی جاسکے گی۔اس کے علاوہ بانڈ ہولڈرز 40ہزار کے انعامی بانڈز قومی بچت کے سرٹیفیکٹ میں بھی تبدیل کراسکیں گے۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 40 ہزار روپے کے بانڈز پر پابندی کا فیصلہ منی لانڈرنگ اور کالے دھن کی حوصلہ شکنی کے لیے کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔