پاکستان میں فن پہلوانی کےعروج و زوال کا قصہ

غلام محی الدین  پير 9 ستمبر 2013
ماضی میں راجے مہاراجوں کی سرپرستی نے دیسی کشتی کو برصغیر کا مقبول ترین کھیل بنا دیا تھا۔ فوٹو: فائل

ماضی میں راجے مہاراجوں کی سرپرستی نے دیسی کشتی کو برصغیر کا مقبول ترین کھیل بنا دیا تھا۔ فوٹو: فائل

اسلام آ باد:  تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں دیسی کشتی کے فن کو پنجاب کی دھرتی نے خاص جلا بخشی اور پاکستان کے دو شہروں لاہور اور گوجرانوالہ اِس فن کے گڑھ قرار پائے۔

گوجرانوالہ کو تو پہلوانوں کا شہر بھی کہا گیا اور اس کی یہ عرفیت آج بھی برقرار ہے۔ دیسی کشتی کے معدوم ہوتے ہوئے اِس روایتی کھیل اور فن پر ابھی تک سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر کوئی مستند کتاب لکھی گئی ہے اور نہ ہی کوئی تحقیقی مقالہ۔ بس اِس کھیل کے عروج اور زوال کے قصے سینہ بہ سینہ محفوظ چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد سے اب تک یہ قصے اِس حد تک دھندلا چکے ہیں کہ اب اِن کو تاریخی سطح پر مستند قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دیسی کشتی کے پہلوانوں کو خطاب کے ساتھ گرز دینے کی روایت پاک و ہند میں تقریباً 400 سال پرانی ہے۔ برصغیر کے صدیوں پرانے روایتی کھیلوں میں دیسی کشتی کو آج بھی ایک خاص مقام حاصل ہے مگر یہ کھیل جس تیزی کے ساتھ زوال پذیر ہے اس کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ بہت جلد ناپید ہو جائے گا حال آں کہ اس کھیل کو نسل در نسل منتقل ہونے والا فن کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایک عرصے سے روایتی کشتی کے اکھاڑے ویران ہو رہے ہیں، شاید اس کی وجہ وہ ہی ہے جو موجودہ عہد کے معروف پہلوان شاہد کھوئے والے نے بتائی تھی ’’ کشتی کا کھیل بہت منہگا ہو چکا ہے۔

پہلوان بننے کے لیے بہت زیادہ خوراک کی ضرورت ہوتی ہے اور منہگائی کے سبب یہ شوق اب عام آدمی کے بس کی بات نہیں، پھر اس کھیل کو دوسرے کھیلوں کی طرح سرکاری سر پرستی بھی حاصل نہیں‘‘۔ بھارت کے پہلوان ستندر سنگھ کا کہنا کچھ یوں تھا ’’بھارت میں یہ کھیل اب بھی کافی مقبول ہے تاہم مٹی کے اکھاڑے سے زیادہ اب یہ میٹ پر لڑی جاتی ہے، دیسی کشتی اب صرف دیہات تک محدود ہو چکی ہے‘‘۔

غربت اور حکومتی سر پرستی نہ ہونے کی وجہ سے اب تو پاکستانی پہلوانوں کا تاب ناک ماضی بھی لوگوں کی یادوں سے مٹتا جا رہا ہے۔ وہ اکھاڑے جو ہزاروں کا مجمع کھینچتے تھے، اب ویران ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں اس کھیل کے نام ور بھولو گھرانے کے آخری شہرۂ آفاق پہلوان جھارا کے بھائی عابد اسلم بھولو کا کہنا ہے ’’میں کْشتی کے بارے میں بات نہیں کر سکتا کیوں کہ یہ میرے لیے تکلیف دہ ہے‘‘۔ 1991 میں 31 سال کی عمر میں جھارا کے انتقال کے ساتھ ہی بھولو خاندان کی میراث بھی گْم ہوگئی کیوں کہ ان کے چھوٹے بھائی عابد نے پہلوانی کے تاریک مستقبل کو دیکھتے ہوئے تجارت شروع کردی۔عابد اسلم بھولو کے مطابق ’’ کْشتی کا تاب ناک ماضی گْم ہو چکا اب میرے لیے سنہری دنوں کی یادیں بھی تکلیف دہ ہیں، پہلوانوں کی کوئی عزت نہیں، نہ ہی اس پیشے میں روٹی روزی ہے، ایسے میں کسی کو کیا پڑی کہ وہ کْشتی کی طرف آئے‘‘۔

بھولو خاندان 1850 سے فن پہلوانی میں نام ور تھا۔ بھولو خاندان کی دھاک بٹھانے والی نسل کو اس خاندان کی گولڈن جنریشن کہا جا سکتا ہے، ان میں بھولو برادران، اعظم، اسلم، اکرم اور گوگا شامل تھے۔ یہ عظیم پہلوان مینار پاکستان کے سامنے حضرت گنج بخش ہجویری کے مزار کے عقب میں واقع اکھاڑے میں کسرت اور تیاری کیا کرتے اور عالمی سطح پر چیمپیئن تسلیم کیے جاتے تھے۔ پاکستان میں کْشتی کے حوالے سے اس معروف خاندان کا اکھاڑا اس فن کے نام ور پہلوان پیدا کرتا رہا تاہم اب یہ اکھاڑا قبرستان کا روپ دھار چکا ہے۔ فن پہلوانی کے زوال کی یہ محض ایک علامت ہے۔

بھولو برادران برگد کے صدیوں پرانے ایک درخت کے نیچے دفن ہیں، جو ان کے سابق اکھاڑے کے کنارے کھڑا ہے۔ صفائی کرنے والے کارکن قبرستان کی صفائی تو کرتے ہیں مگر کچا اکھاڑا اور اس کے قریب ہی ورزش کے لیے بنائے گئے جِم اور چھوٹے سے اجاڑ باغیچے پر ہر وقت ایک پراسرار خاموشی طاری رہتی ہے۔ بھولو پہلوان نے 1953 میں امریکی پہلوان Thesz Louاور بھارتی پہلوان دارا سنگھ کو چیلنج کیا تھا تاہم اس وقت کے عالمی چیمپیئن دونوں پہلوانوں نے ان کا چیلنج قبول نہیں کیا۔ انہوں نے 1967 میں عالمی سطح پر بھولو کی جانب سے یہ چیلنج دیا کہ جو کوئی بھی انہیں ہرائے گا وہ انہیں پانچ ہزار برطانوی پاؤنڈ انعام دیں گے، اسی برس انہوں نے اینگلو فرنچ ہیوی ویٹ چیمپئن ہنری پیری Perry Henryکو لندن میں پچھاڑ کر ورلڈ ہیوی ویٹ کا ٹائٹل جیتا۔

برصغیر میں فنِ پہلوانی مغلوں کی آمد کے ساتھ وارد ہوا اور جلد ہی اس نے عوام میں مقبولیت حاصل کر لی۔ تقسیم کے بعد پاکستان میں پہلوانی کا مرکز لاہور بنا، جہاں تقریباً 600 اکھاڑے تھے جہاں دس ہزار کے قریب نوجوان تربیت حاصل کیاکرتے تھے۔ ان نوجوانوں کو تربیت دینے والے نام ور پہلوان اور خلیفے ہوا کرتے تھے۔ پہلوانوں کی تربیت اوائل عمر سے ہی شروع ہو جاتی اور 20 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے نوجوان اپنی مضبوط جسامت سے پہلوان معلوم ہوتا۔ ان پہلوانوں کو دن میں کم ازکم پانچ گھنٹے کسرت کرائی جاتی جو بالعموم سہ پہر تین بجے شروع ہوتی اور بعدازاں دو گھنٹے انہیں اکھاڑے میں زور کرنا ہوتا تھا۔ اگرچہ پوری دنیا میں کشتی کا انداز بدل چکا ہے اور آج امریکا اور مغرب میں فری سٹائل ریسلنگ کا دور دورہ ہے تاہم آج بھی بڑے بوڑھے دیسی کشتی میں کشش محسوس کرتے ہیں۔

پاکستان نے دنیا کے چند عظیم ترین پیدا کیے جن کے سرخیل بھولو برادران ہیں۔ انہوں نے دیسی کشتی کے میدان میں اپنی کام یابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ بھولو پہلوان شاید دنیا کے بہترین پہلوان تھے۔ پھر بھولو پہلوان کے بھائی اسلم پہلوان، اعظم پہلوان چیمپیئن آف فار ایسٹ، اکرم پہلوان چیمپیئن آف مڈل ایسٹ اینڈ سنگاپور اور ان کے سب سے چھوٹے بھائی گوگا پہلوان آل ایشیئن چیمپیئن خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ بھولو برادران کے بڑے مخالف پہلوانوں کا تعلق پاکستان اور بھارت سے ہی تھا۔ ان میں حاجی افضل پہلوان اور بھولا گاڈی پہلوان خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ بھولو برادران نے جن غیر ملکی پہلوانوں کو شکست دی ان میں مایہ ناز برطانوی ریسلر برٹ اسیراتی، کینیڈا کے جارج گورڈیانکو اور پال واشن (بْچر)، مسٹر یونیورس ارل مینارڈ اور آسٹریلوی ریسلر رائے ہیفرنان خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔گوگا پہلوان نے ہی بھارتی چیمپیئن گنپت اندراکر کو 55 منٹ کے مقابلے میں شکست دی تھی۔ دیگر نام ور پہلوانوں میں یونس گوجرانوالیہ، یاسین شریف، حاجی افضل، ازل پہلوان فرزند گونگا پہلوان اور کالا پہلوان قابلِ ذکر ہیں۔

برصغیر کے عظیم پہلوان
غلام محمد (گاما)اور امام بخش پہلوان
بر صغیر کے شہرۂ آفاق گاما پہلوان کا اصل نام غلام محمد تھا۔ انہیں ’’رستمِ زماں‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ 1880 میں امرتسر میں پیدا ہوئے، قدیم فنِ پہلوانی کے پاس بانوں سے تھے۔ 15 اکتوبر 1910 کو انہیں جنوبی ایشیائی سطح پر ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن شپ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ پہلوانی کی تاریخ میں وہ واحد پہلوان ہیں جنہیں 50 سال سے زیادہ عرصہ پر محیط کیریئر میں کوئی بھی چِت نہیں کر سکا۔ گاما کا تعلق کشمیری بٹ خاندان سے تھا۔

غیر منقسم ہندوستان میں ریاست ’’دتیا‘‘ کے حکم ران بھوانی سنگھ نے نوجوان گاما اور ان کے بھائی امام بخش کی سرپرستی کی۔ گاما کو اصل شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے 19 سال کی عمر میں 7 فٹ بلند قامت انڈین ریسلنگ چیمپیئن رحیم بخش سلطانی والا کو چیلنج کیا، جو خود بھی گوجرانوالہ کا بٹ تھا جب کہ گاما محض 5 فٹ 7 انچ قد کا حامل تھا۔ یقین تھا کہ وہ گاما کو سیکنڈوں میں چت کردے گا لیکن تھا وہ ادھیڑ عمر اس کا مقابل گاما نوجوان تھا اور بے انتہا دم خم رکھتا تھا سو مقابلہ برابر رہا۔ 1910 تک سوائے رحیم بخش کے وہ ہندوستان کے تمام نامی گرامی پہلوانوں کو شکست دے چکے تھے۔

بعد ازاں مغربی پہلوانوں کا مقابلہ کرنے وہ اپنے بھائی کے ساتھ بحری جہاز کے ذریعے انگلستان پہنچے، ان کا پہلا مقابلہ امریکی پہلوان بنجامین رولر عرف ’’ڈوک‘‘ سے ہوا جسے اِنہوں نے پہلی بار ایک منٹ 20 سیکنڈ میں اور دوسری بار 9 منٹ 10 سیکنڈ میں زیر کیا۔ دوسرا مقابلہ اسٹینی سیلس زبسکو سے 17 ستمبر 1910 کو ہوا جسے شکست دے کر گاما نے نہ صرف 250 پاؤنڈ کی انعامی رقم اور ’’جون بُل بیلٹ‘‘ جیتی بل کہ ’’رستمِ زماں‘‘ یا ورلڈ چیمپئن کا خطاب بھی حاصل کیا۔ انگلستان کے دورے میں انہوں نے یورپی چیمپیئن سوئٹزرلینڈ کے جویان لیم، عالمی چیمپیئن سوئیڈن کے جیس پیٹرسن اور فرانس کے مورس ڈیریاز کو بھی شکست سے دوچار کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ لاہور چلے آئے جہاں انہوں نے اپنے بھائی امام بخش اور بھتیجوں بھولو برادران کے ساتھ باقی زندگی گزاری۔

گاما پہلوان 21 مئی 1960 کو لاہور میں انتقال کر گئے، وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز رشتے میں گاما پہلوان کی نواسی ہیں۔ گاما کے والد عزیز بخش پہلوان اپنے زمانے کے بہت نام ور پہلوان تھے، ان کی وفات کے وقت گاما پانچ سال کا تھا۔ گامے نے اپنے ماموؤں کے پاس پہلوانی کی تربیت حاصل کی۔ ریاست جودھ پور کے راجا نے ایک عظیم الشان کسرتی مقابلے کا انعقاد کیا جس میں شرکت کے لیے گامے کا چھوٹا ماموں بوٹا پہلوان تیاری کرنے لگا، گاما بھی ان کے ساتھ چلا گیا۔

وہاں پہنچ کر گاما نے مقابلے میں شرکت کی ضد کی، مختصر یہ کہ کافی بحث و مباحثہ کے بعد بوٹے پہلوان نے یہ سوچ کر کہ یتیم بچہ رنجیدہ نہ ہو جائے، ریاست کے راجا سے گامے کی شرکت کی سفارش کی، دربار میں موجود ہر شخص یہ سن کر ہنسا، بوٹے پہلوان نے بتایا کہ یہ عزیز بخش کا بیٹا ہے اور شاید مقابلے میں شرکت سے اس کا حوصلہ بڑھے اور آئندہ ایک اچھا پہلوان بنے۔ راجا نے، خود عزیز بخش کا پرستار تھا، اس بات پر گامے کو اجازت دے دی۔ اس مقابلے میں شرکت کے لیے ہندوستان کے گوشے گوشے سے 400 پہلوان آئے ہوئے تھے، مقابلہ دیکھنے کے لیے عوام بھی دور دور سے پہنچے تھے۔ مقابلہ کی پہلی اور آخری شرط یہ تھی کہ جو پہلوان سب سے زیادہ ’’بیٹھکیں‘‘ لگائے گا، جیت جائے گا۔

کھیل شروع ہوا، ہر پہلوان نے اپنے دم خم کا خوب مظاہرہ کیا، تھک جانے والے پہلوان کو صرف چند منٹ دم لینے کو دیے جاتے، آہستہ آہستہ پہلوان مقابلہ سے نکلنے لگے، 200 پہلوانوں کے مقابلہ سے نکل جانے کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ ایک بچہ اکھاڑے سے نکل جانے والوں میں شامل نہ تھا، جوں جوں وقت گزرتا گیا، پہلوانوں کی تعداد میں کمی آتی گئی، اس طرح 300 پہلوان میدان سے باہر ہوگئے لیکن وہ بچہ (گاما) اب بھی بیٹھکیں لگا رہا تھا۔ اب سب کی نظر گاما پر مرکوز ہوگئی، ہر طرف سے آفرین کی صدائیں بلند ہورہی تھیں۔

آخرکار چودہ پندرہ پہلوان رہ گئے تو راجا نے مقابلہ روکنے کا حکم دے دیا اور آگے بڑھ کر گامے کو سینے سے لگا لیا۔گامے کی اس فتح پر ہندوستان بھر کے اکھاڑوں میں، راجاؤں کے درباروں میں گامے کے چرچے ہونے لگے۔ یہاں سے گامے کی شہرت کا آفتاب طلوع ہوا۔ اس مقابلہ کے بعد کم عمر گامے کے جسم کے پٹھے اور رگیں ایسی کھنچیں کہ کئی ہفتے چارپائی سے اٹھ نہ پایا لیکن جب اْٹھا تو یوں کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔ امام بخش پہلوان ، رستم ہند (1887-1977 )رستم زمان گاما پہلوان کے چھوٹے بھائی تھے۔ انھوں نے لاہور میں کالیا پہلوان اور الٰہ آباد میں حسین بخش ملتانیا جیسے مشہور پہلوانوں کو پچھاڑا اور برصغیر کے طول و عرض میں کئی تاریخی کشتیوں میں کام یابی حاصل کی۔

منظور حسین عرف بھولو پہلوان
بھولو کا اصل نام منظور احمد تھا۔ 1927 میں بھارت کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئے۔ رستم ہند امام بخش کے بڑے بیٹے اور رستم زماں گامے پہلوان کے بھتیجے تھے۔ والد اور چچا کی نگرانی میں کشتی کی ترتیت حاصل کی۔ 1994 میں یونس پہلوان کو ہرا کر ’’رستم پاکستان ‘‘ کا اعزاز حاصل کیا اور اس وقت سے روایتی گرز جو اکھاڑے کی بادشاہت کا نشان ہوتا ہے، بھولو پہلوان کی تحویل میں رہا۔ گامے کے انتقال کے بعد انہوں نے دنیا بھر کے پہلوانوں کو کشتی لڑنے کا چیلنج دیا لیکن جن پہلوانوں نے ان کا چیلنج قبول کیا ان سے کہا گیا کہ صرف وہی شخص ان سے کشتی لڑ سکتا ہے جو پہلے ان کے پانچوں بھائیوں کو باری باری پچھاڑ ے گا چناں چہ دنیا کا کوئی بھی پہلوان بھولو سے مقابلے کا اعزاز حاصل نہ کرسکا۔

دسمبر 1963 میں ان کو گامے کا جانشین مقرر کیا گیا۔ ان کو گامے کا گرز، سونے کی پیٹی اور زری پگڑی دی گئی۔ گرز 1922 میں گامے کو ایڈورڈ ہشتم نے پیش کیا تھا۔ 1976 میں بھولو پہلوان نے اپنے بھائیوں کے ہم راہ انگلستان کا دورہ کیا اوروہاں کئی غیر ملکی پہلوانوں کو ہرا کر پاکستان کا نام روشن کیا۔ انگلستان سے واپسی پر صدر ایوب نے بھولو برادران کو دو لاکھ روپے انعام دیا۔ 10 ستمبر 1976 کو کراچی میں انہیں سونے کا تاج پہنایا گیا۔ 8 مارچ 1985 میں انتقال ہوا۔
٭٭٭
پہلوانوں کا شہر
گوجرانوالہ پاکستان کا ساتواں بڑا شہر ہے، پہلوانوں کا شہر کہلاتاہے۔ آزادی کے بعد تمام نام ور پہلوانوں کا قیام پاکستان میں رہا اور عمر کا بڑا حصہ لاہور اور گوجرانوالا میں ہی گزارا۔ صنعت و حرفت، ثقافت و سیاست، فنون لطیفہ اور تمدن کے حوالے سے اپنی آغوش میں کئی ایک زورآور ناموں کی فہرست اس شہر سے موسوم ہے۔ جب بھی اِس شہر کا نام کوئی اچھے حافظے والا سنتا ہے تو کھلے اکھاڑوں میں ڈھول کی ڈھما ڈھم پر ایک دوسرے کو اکھاڑتے پچھاڑتے کسرتی شانے بازوؤں والے گبھرو شعور کی سکرین پر لازم و ملزوم ہو جا تے ہیں۔

گوجرانوالہ اب ایک بوڑھا پہلوان ہے جو کبھی دِن بھر کسرت اور کشتی کرتا تھا، دودھ مکھن سے جان بناتا اور ڈنڑ پیل کر چھاتی تھپتھپاتا اور شام پڑے شعر و سخن اور رقص و موسیقی کی آغوش میں مزاج کو سرشار رکھتا مگر اب پہلوانوں کی اولادیں لنگوٹے چھوڑ، رنگلی ٹائیاں باندھے اکاؤنٹینسی اور آئی ٹی پڑھنے میں لگے ہیں۔ دست و بازو کی طاقت کو پروان چڑھانے والی کسرت، تن سازی اور جسمانی ریاضتوں کی ثقافت نے پنجاب کے روایتی چکنے اور لحمیاتی کھانوں کی روایت کو گوجرانوالہ میں ایک منفرد انداز بخشا تھا۔ دودھ، گھی، گوشت، مکھن اورخشک میووں سے بنے دَم دار کھاجے اور مشروب یہاں کی خاص شناخت تھے۔

تیز مصالحوں کو یہاں بہت بعد میں شرفِ قبولیت ملا لیکن اب یہ ہر ڈھابے کے باورچیوں کی ترکیب میں شامل ہیں۔ بھنے ہوئے بٹیر، چِڑے اور مرغ تیار کرنے اور کھانے کھلانے میں یہاں کے باسیوں کے ذوق پر اہلِ لاہور تک رشک کرتے ہیں۔ دَنگل اور اکھاڑوں میں یہ شہر لاہور کے پہلوانوں کے لیے برابر کی ٹکر رکھتا ہے۔ اس کھیل میں لاہور اور امرتسر اس کے روایتی حریف رہے ہیں لیکن پہلوانوں کا شہر کہلانے کا اعزاز اسی شہر کے حصے میں آیا۔

روایتی پہلوان چوں کہ بچپن ہی سے لنگوٹ باندھ کر صبح شام اکھاڑے میں ڈنڈ بیٹھکوں اور داؤ پیچ کے شغل میں رہتے تھے، اس لیے یہ کام سماجی طور پر ایک طرح کے تیاگ کا کام سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ پہلوانوں کی اکثریت جسمانی طور پر جتنی قوی اور ناقابلِ تسخیر ہوتی، ان کی باطنی شخصیت اتنی ہی کھری اور سادہ ہوتی تھی۔ گوجرانوالہ کے ایک ڈھابے میں بٹیر کھاتے ہوئے ایک جدید وضع کے نوجوان سے جب کسی نے ‘‘پہلوانوں کے شہر’’ کا ذکر چھیڑا تووہ بے زار ہو کر کہنے لگا ’’یہاں اب ماضی جیسے بڑے پہلوان پیدا نہیں ہوتے اور پہلوان تو دوسرے شہروں میں بھی رہے ہیں، اسے صرف انسانوں کا شہر کہا جائے، پہلوانوں کا نہیں‘‘۔

سُچا پہلوان ولایت کے درجے پر فائز ہوتا ہے
بابا جی رحمت پہلوان


پاکستان میں دیسی کشتی یعنی فن پہلوانی ملک سے دھیرے دھیرے کس طرح اور کیوں ختم ہوا، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، منہگائی، سرکاری سطح پر عدم سرپرستی، کھیل میں گلیمر کی کمی اور بہت سے دیگر عوامل نے اس کھیل کے کلاسیکل حسن کو جس طرح گہنا کر رکھ دیا ہے، اس کے بعد آج کا نوجوان دیسی پہلوان بننے کی بجائے باڈی بلڈر، کرکٹر، یا کچھ اور بننے کو ترجیح دیتا ہے۔ نوجوانوں کی اِس کھیل سے عدم دل چسپی گزشتہ چار دہائیوں کا قصہ ہے جس کو پڑھ کر یا سن کر سمجھ میں آتا ہے کہ اِس کھیل کی جڑوں کو دیمک نے کیوں چاٹا ؟۔

تین سال قبل معروف پہلوان رحمت پہلوان عرف بابا جی رحمت علی سے ملاقات کا اتفاق ہوا تھا۔ درویش صفت اسی سالہ بزرگ پہلوان کا بچپن، جوانی، بھارت سے پاکستان ہجرت، پاکستان میں پہلوانی کے فروغ کے لیے ان کی کوششوں اور بڑھاپے میں دنگل کے منصف کی حیثیت سے فرائض پر مشتمل ان کی یادوں کو ذیل میں اختصار سے پیش کیا جا رہا ہے جس سے آج کی نئی نسل کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کس طرح پہلوانی کے فن نے دم توڑا ؟

’’ جب ہندوستان کا بٹوارہ ہوا تو میں انبالہ (بھارت) چھاؤنی کے اندر موجود سرکاری ٹکسال میں بہ طور سرکاری پہلوان ملازمت کیا کرتا تھا، سرکار کی طرف سے تنخواہ کے علاوہ دس ایکڑ زمین بھی ملی ہوئی تھی تاکہ پہلوانی کے لیے خوراک اور کسرت کا معقول انتظام ہو سکے۔ آبائی زمین کے علاوہ سرکاری زمین کے باعث گھر میں خوش حالی تھی، میرے بڑے بھائی آٹھ جماعتیں پاس کرنے کے بعد قرآن حفظ کر چکے تھے اور چھوٹا بھائی زمینوں کا انتظام کیا کرتا تھا۔

سرکاری پہلوان کی حیثیت سے میں اپنی ٹکسال کے لیے کشتی کے پندرہ میں سے 14ریاستی مقابلے جیت چکا تھا اور لوگ دور دور سے میری کشتی اس لیے دیکھنے آتے تھے کہ میں عام پہلوانوں کی طرح موٹا تازہ ہونے کی بجائے، اکہرے جسم کا تھا، دیسی گھی کے بہ جائے سرسوں کا تیل میری خوراک کا حصہ ہوتا تھا اور گوشت کی بجائے میں نے ہمیشہ چھوٹے گوشت کا قیمہ استعمال کیا، کسرت کے دوران ہمیشہ کچا دودھ پیتا اور اُس زمانے میں ہرا قہوہ میری روزمرہ خوراک کا لازمی جزوتھا، پہلوانی میں میرے استاد ایک برطانوی گورا مسٹر براؤن تھے، جو خود بھی ڈیل ڈول سے پہلوان دکھائی نہیں دیتے تھے البتہ میں پہلوانی کے لیے کسرت ہمیشہ دیسی اکھاڑے ہی میں کیا کرتا تھا، ٹیکسال کے اکھاڑے کی تربیت مسٹر براؤن کی زیرنگرانی ہوتی تھی جب کہ گاؤں (خان پور) اکھاڑے میں خلیفہ غلام صابر کسرت کراتے تھے۔

اُس زمانے میں اکھاڑے خلیفوں کی زیر نگرانی چلا کرتے تھے، پہلوانی امور کے یہ ماہر جن کو عرف عام میں ’’خلیفہ جی‘‘ کہا جاتا تھا، وہ لوگ ہوتے تھے جن کے دم سے یہ فن اب تک زندہ رہا ۔ خلیفہ ایک ٹائٹل ہوتا ہے، جو پہلوانوں کی خوراک، ہڈیوں کی نشوونما، ہڈیوں کو جوڑنے، پہلوانوں کو لاحق بیماریوں کی دیسی ادویات تیار کرنے، کشتی کی تیاریوں کے مختلف مراحل، اکھاڑے کی مٹی اور کسرت کے اوزار کی تیاری، لنگوٹ کی حفاظت (جنس مخالف)، شیخی بگھارنے کی عادت سے چھٹکارا اور غصے پر قابو پانے کی عادت کے خاتمے کے ہنر سے واقفیت ، کن ٹٹوں، بدمعاشوں اور چور اچکوں کو قابو میں رکھے اور خواتین کو دیکھ کر نظروں کو جھکائے رکھنے جیسے اخلاق سکھاتا تھا۔ خلیفہ کا لقب اُس شخص کو دیا جاتا تھا، جس کی بات پہلوان ٹال نہیں سکتے تھے اور اُسے باپ کادرجہ دیتے تھے۔ خلیفہ ہی نئے پہلوان کو کسی بڑے پہلوان کا شاگرد بنانے کی رسم ادا کرتا تھا، گو وہ خود پہلوان نہیں ہوتا مگر ’’پہلوان گر‘‘ ضرور ہوتا ہے۔

پاکستان بنا تو میں اپنے خاندان کے ہم راہ پیدل قافلے کے ساتھ پاکستان آ گیا، انبالے سے قصور تک کا پیدل سفر 27 دنوں میں طے ہوا، اِس دوران ہونے والے فسادات میں میرا ایک بیٹا، بیٹی اور بیوی بلوائیوں کے ہاتھوں مارے گئے جن کو بغیر کفنائے بنا دفن کیا اور یوں میں اور میرا خاندان کسم پرسی کی حالت میں قصور کے مہاجر کیمپ میں پہنچا۔ طاقت ور اور پہلوان سمجھ کر قافلے والوں نے مجھے سالار مقرر کر رکھا تھا تاکہ میں سکھوں اور ہندو انتہا پسندوں کا مقابلہ کروں، میرے پاس واحد ہتھیار ڈانگ تھی جس سے میں قافلے کے 60 سے زیادہ لوگوں کو قصور تک لانے میں کام یاب ہوا جب کہ اتنے ہی لوگ راستے میں بیماریوں اور زخموں کی وجہ سے اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔

پاکستان آ کر چند سال لاہور میں خاندان سمیت رہا اور اسی دوران رستم زماں گاما پہلوان کا باقاعدہ شاگرد ہوا، میں نے اپنے اسی سالہ زندگی میں استاد محترم گامے پہلوان سے زیادہ زور آور اور سُچا پہلوان نہیں دیکھا، پہلوانی میں تین سو ساٹھہ داؤ ہیں اور ھر داؤ کا الگ انداز، طاقت قوت اور بے مثال مہارت کا ایک نام رستم زماں گاما تھا۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں گامے کا شاگرد ہوا، ان کی تھپکیاں آج بھی اپنے جسم پر محسوس کرتا ہوں۔

جب وہ اس دار فانی سے رخصت ہو گئے تو لاہور سے دل اچاٹ ہو گیا، پھر رزق کی تلاش فیصل آباد لے آئی وہاں سے ملتان سے جھنگ جاتے ہوئے سلطان باہو کے شہر شورکوٹ میں خاندان سمیت مستقل آباد ہو گئے، یہاں محنت مزدوری سے زندگی کا آغاز کیا، مقامی آبادی کے رعب و دبدبے کو ختم کرنے کے لیے ایک نامی گرامی مقامی پہلوان کو اکھاڑے میں شکست دی اور یوں علاقے میں رحمت پہلوان کے نام سے پہچان بنائی، پچاس کی دہائی کے وسط میں قبرستان غازی پیر میں اپنا اکھاڑہ قائم کیا اور علاقے کے دیگر پہلوانوں کے تعاون سے نئے بچوں کو اِس فن کی طرف راغب کرنے کی ٹھانی، جوان ہونے کے باوجود دوبارہ شادی اس لیے نہ کی کہ اکھاڑے پر توجہ نہیں دے سکتا تھا، سیکڑوں نوجوانوں کو پہلوانی کی تربیت دی اور ان کو اپنی اولاد کی طرح پالا پوسا۔ 70 کی دہائی تک پنجاب بھر کے مختلف چھوٹے بڑے دنگلوں میں میرے شاگردوں نے خوب نام کمایا، صدر ایوب خان کا دور حکومت پہلوانی کا سنہرا دور تھا، اُس کے بعد اس فن پر زوال آنے لگا۔

منہگائی سے پہلوان کے اخراجات بڑھتے گئے اور جب ذوالفقار علی بھٹو کا دور حکومت آیا تو نوجوانوں پر پہلوان بننے کی بجائے ملک سے باہر جا کر کمائی کرنے کا بھوت سوار ہو گیا، یوں صحت مند، توانا اور گبھرو جوانوں کی جگہ چھوٹے قد، کم زور اور لاغر جسم کے جوانوں نے لے لی۔ پڑھے لکھے بچے فٹ بال، ہاکی اور والی بال کی طرف متوجہ ہونے لگے اور جو باقی رہ گئے وہ پہلوانی کے بہ جائے کبڈی کے میدان میں اتر گئے، پھر کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کا دور شروع ہوا تو رہی سہی کسر بھی نکل گئی۔

جب دیسی اور خالص خوراک کی جگہ بازاری کھانوں اور خوراک نے لی اور خاص طور پر دودھ میں گندے پانی کی ملاوٹ، دیسی گھی کی جگہ ڈالڈا، صحت مند جانوروں کے گوشت کی جگہ لاغر جانوروں کا گوشت اور دیسی انڈوں اور مرغیوں کی جگہ برائلر مرغیاں کھائی جانے لگیں تو کشتی کا فن دم توڑ گیا، مغزیات خالص ہوتے تھے مگر منہگائی اتنی کہ پہلوان کی خرید سے باہر ہوتے۔ آخری ظلم یہ ہوا کہ پھل، سبزیوں اور دالوں کے ولایتی بیج آ گئے، قوت اور لذت ہی جاتی رہی، پہلے نوجوان سائیکل چلاتے تھے جب موٹر سائیکل عام ہوئی تو صحت کا معیار مزید گر گیا۔

90 کی دہائی تک 100 میں سے کسی ایک بھی بچے یا نوجوان کا جسم ایسا نہیں ہوتا تھا کہ وہ اکھاڑے کی کسرت اور محنت برداشت کر سکے۔ اِس دوران جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب پاکستان میں لسانی، گروہی اور فرقہ وارانہ فسادات کی لہر چلی تو میلے ٹھیلوں پر سال بعد ہونے والی کشتیوں کا رواج بھی دم توڑ گیا اور اسلحے کی ریل پیل ہو گئی، اگر کہیں کشتی کے مقابلوں کا اہتمام ہوتا بھی تو منصفوں کے فیصلے اسلحے کے زور پر بدلنے کی کوشش کی جاتی، غلط بات تسلیم نہ کرنے پر چاقو، چھریاں، بندوق اور پستول چلنے لگتے اور یوں یہ فن اپنی موت آپ مر گیا، پھر دیسی کشتی کے اکھاڑے ویران اور نوجوان نشے کی لعنت کا روگ لگا کر والدین کے لیے آزمائش بن گئے۔

میں نے ساری زندگی پہلوانی کی، آج کے بچوں کو پہلوانی کا علم ہی نہیں کہ یہ فن ہے کیا؟ یہ فن خدا سے قرب کا سب سے اعلیٰ اور صحت مند ذریعہ ہے۔ دیسی کشتی کا خالص اور کھرا پہلوان تو ولایت کے مرتبے پر فائز ہوتا ہے، وہ طاقت کا پہاڑ بن کر عجز اور انکساری کا پتلا بن جاتا ہے، جب وہ اپنے لنگوٹ کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے اندر نفس امارہ کو مارتا ہے تو کسی ولی اللہ سے کم نہیں ہوتا، جب غصہ اُس کے سامنے سر جھکا دیتا ہے تو اُس جیسا کوئی بہادر نہیں ہوتا، جب پہلوان خاتون کے احترام کو ہر حال میں اپنے اوپر لازم قرار دے دیتا ہے تو وہ خدا کے اسرار ’’عورت‘‘ سے بھی مکمل واقف ہو جاتا ہے، جب وہ پو پھٹنے سے قبل اٹھ کر اکھاڑے میں اترنے سے قبل خدا کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے اور توبہ کرتا ہے تو اس کی یہ توبہ فوراً قبول ہو جاتی ہے، یہ راز کی بات ہے۔ سچے اور کھرے پہلوان کی توبہ ہمیشہ قبول ہوتی ہے، یہ فن صرف کھانے پینے اور ورزش کرنے کا نام نہیں، یہ اللہ کے سامنے خود کو مٹانے کا نام ہے۔

میاں نواز شریف لاہوریے ہیں، مجھے بڑی امید تھی کہ وہ دیسی کشتی کودوبارہ زندہ کریں گے مگر بہت مایوسی ہوئی، پھر بھٹو کی بیٹی آئی مگر وہ عورت ذات اِس فن کی نزاکتوں کو کیوں کر سمجھتیں؟ مشرف آیا تو اس وقت تک زمانہ ہی بدل چکا تھا۔ کشتی اکھاڑے سے گدے پر پہنچ چکی تھی، کشتی کا جو مزہ کھلی فضا، ڈھول کی تھاپ اور دیسی اکھاڑے میں آتا ہے، وہ بند ہال نما کمروں میں کہاں؟ گزرا وقت واپس نہیں آتا لیکن نہ جانے کیوں میرا دل اب بھی گواہی دیتا ہے کہ دیسی کشتی کا فن پھر سے عروج پائے گا، میں اور میرے جیسے شیدائی نہیں ہوں گے لیکن یہ فن باقی رہے گا ، میری بڑی خواہش ہے کہ میرے خاندان کا کوئی بچہ دیسی کشتی کے میدان میں اتر کر عظیم گامے کی یاد تازہ کر دے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔