صدر ڈاکٹر محمد مرسی کس جرم میں مارے گئے؟

عبید اللہ عابد  اتوار 30 جون 2019
مصری تاریخ کے پہلے منتخب جمہوری صدرکے ایوانِ اقتدار میں داخلے سے نکالے جانے تک کی مکمل کی کہانی

مصری تاریخ کے پہلے منتخب جمہوری صدرکے ایوانِ اقتدار میں داخلے سے نکالے جانے تک کی مکمل کی کہانی

ڈاکٹرمحمد مرسی اور ان کی جماعت کیسے برسراقتدارآئی؟یہ ایک طویل کہانی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ انھیں ایوان اقتدارکی طرف بڑھنے سے کیسے روکنے کی کوشش کی گئی ، تاہم جب وہ تمام تر رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے ملک کی زمام کارسنبھالنے میں کامیاب ہوئے تو اقتدارپسندفوجی جرنیلوں نے جمہوریت کے نعرے لگانے والے سیکولراورلبرل طبقہ کو استعمال کرتے ہوئے کیسے ملک کو ایک بارپھر آمریت کی راہ پر ڈال دیا۔

ملک کی سب سے بڑی جماعت اخوان المسلمون اور دیگر انقلابی گروہوںکی بھرپورجدوجہد کے نتیجے میں عشروں سے اقتدارپر مسلط ڈکٹیٹر حسنی مبارک فروری2011ء میں ایوان اقتدار سے نکل بھاگے تو فوج کی سپریم کونسل نے عبوری اقتدارسنبھال لیا۔

فوجی سپریم کونسل نے پہلے مرحلہ میں ایوان زیریں اور ایوان بالاکے انتخابات منعقد کرائے، یہ جنوری2012ء میں مکمل ہوئے ۔ دونوں ایوانوں میںقریباً تین چوتھائی سیٹیں اسلام پسند اخوان المسلمون اور النور کے حصے میں آئیں جبکہ سیکولر و لبرل جماعتیں مکمل طورپر ناکام رہیں۔حسنی مبارک کے ساتھیوں نے بھی انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی کامیاب نہ ہوسکا۔

مئی2012ء میں صدارتی انتخاب منعقد ہوا جس میں اخوان المسلمون کے سیاسی بازو فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے سربراہ ڈاکٹرمحمد مرسی نے51 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ صدارتی انتخاب دومراحل میں ہوا۔ پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار 50فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہ کرسکا، رن آف الیکشن سرفہرست ڈاکٹرمحمدمرسی اور حسنی مبارک دور کے آخری وزیراعظم احمدشفیق کے درمیان ہوا۔صدارتی نتائج آنے کے فوری بعد عسکری کونسل نے1981ء سے مسلط ایمرجنسی ختم کردی۔

مئی2012ء ہی میں حسنی مبارک کو مظاہرین کے مقدمہ قتل میں عمر قیدکی سزاسنادی گئی جبکہ جولائی میں اعلیٰ ترین آئینی عدالت نے پارلیمان کے بعض ارکان کا انتخاب غیرقانونی قراردے کر پارلیمان تحلیل کرنے کا حکم دیدیا۔ فوجی کونسل نے عدالتی حکم پر فی الفور عمل درآمد کرتے ہوئے حکم نامہ جاری کردیا۔ اس سے ملک میں سیاسی بحران پیداہوگیا۔ ماہرین حیران تھے کہ پارلیمان کے بعض ارکان کے انتخاب کے غیرقانونی ہونے سے پوری پارلیمان کیسے تحلیل ہوسکتی ہے؟

بعض حلقوں کاخیال تھا کہ ملک کی اصل مقتدر فوج اور حسنی مبارک کے بنائے ہوئے ججز کواسلام پسندوں کی اکثریت کی حامل پارلیمان قبول نہیں، اس لئے وہ سارے نظام کو رول بیک کرناچاہتے ہیں۔ اس وقت تک صدرمرسی کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنا کردار اداکرنے کی کوشش کی لیکن وہ پھڑپھڑانے سے زیادہ کچھ نہ کرسکے کیونکہ فوجی کونسل ہی سارے فیصلے کرنے پر تلی ہوئی تھی، حتیٰ کہ وہ صدرمملکت کو سپریم کمانڈر ماننے کو بھی تیارنہ تھی۔

اگست میں صدرمرسی نے حکومت سازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہاشم قندیل کو وزیراعظم مقررکیا جنھوں نے ٹیکنوکریٹس، اسلام پسندوں، سیکولر اور لبرل افراد پر مشتمل اپنی کابینہ تشکیل دی۔دوسری طرف فوج کی طرف سے پہلے سے’’حکم‘‘ آچکاتھا کہ وزیردفاع فوجی کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل حسین طنطاوی ہی ہوںگے۔

٭اقتدارپسند جرنیلوں کی برطرفی

صدرمرسی کے حکومت سازی کرنے کے بعد فوج نے نہ صرف ملک پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے اورصدرمرسی کو مجبورمحض بناکر رکھنے کا فیصلہ کیا۔ فوج چاہتی تھی کہ نیا صدر فوجی سپریم کونسل کی ہدایا ت پر عمل کرے، اس کی طرف سے آنے والے فیصلوں پر محض دستخط کرے۔ چنانچہ پہلے دن سے ہی فوج اور صدرمرسی کے درمیان کشمکش شروع ہوگئی۔ آنے والے حالات نے ثابت کیا کہ ڈاکٹرمحمدمرسی جرنیلوں ہی کو فیصلہ کن طاقت تسلیم کرلیتے،خود رسمی طورپرصدر بنے رہتے تو وہ کبھی صدارتی محل سے نہ نکالے جاتے۔ تاہم جس دن صدرمرسی نے اقتدارپسند جرنیلوں کو ہٹایااور طاقتور سربراہ مملکت بنے، اسی روزسے فوج اور ججز انھیںہٹانے کے لئے ماحول بنانے میں جُت گئے۔

پھراگست ہی میں صحرائے سینا میں ایک فوجی چوکی پر شدت پسندوں کے حملہ کا واقعہ پیش آیا جس میں 16فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ واقعہ غیرمعمولی اور حیران کن نتائج لے کر سامنے آیا۔صدرمرسی نے فی الفور انٹیلی جنس چیف جنرل موافی اور متعلقہ صوبہ کے گورنر کو برطرف کردیا۔ بعدازاں وزیردفاع اور آرمی چیف طنطاوی، چیف آف سٹاف سمیع عنان سمیت تینوں افواج کے چھ اعلیٰ افسران کوبھی فارغ کردیا۔یادرہے کہ یہ سارے فوجی افسران حسنی مبارک کے قریبی ساتھی شمار کئے جاتے تھے۔

صدرمرسی کے عملاً سپریم کمانڈر بننے کے بعد حسنی مبارک دور کی پیداوار ججز تنہا ہوکے رہ گئے تھے ۔ تاہم وہ ’انقلاب 25 جنوری‘ کے ساڑھے آٹھ سو شہدا کے قاتلوں کو ایک ایک کرکے رہا کررہے تھے۔ان کے فیصلوں سے واضح ہورہاتھا کہ وہ انقلاب کو رول بیک کرناچاہتے ہیں۔

٭آئینی ریفرنڈم

نومبر 2012 میں آئین ساز اسمبلی نے آئینی مسودہ منظورکرلیا، صدرمرسی نے مسودے پر دستخط کرکے اسے منظوری کے لئے عوامی ریفرنڈم کا اعلان کردیا۔ اپوزیشن نے ریفرنڈم منسوخ کرانے کی بھرپورکوشش کی تاہم صدرمرسی اپنے فیصلے پر قائم رہے۔ ان کاکہناتھا کہ آئینی مسودہ کو منظور یا مسترد کرنے کا حتمی اختیار عوام ہی کے پاس ہے، اس لئے وہ ریفرنڈم بہرحال کرائیں گے۔ ریفرنڈم کی نگرانی ججز کو کرناتھی تاہم ملک کے مجموعی21000ججز میں سے 12000 نے اپنے فرائض منصبی اداکرنے سے صاف انکارکردیا۔ ایسے میں صدرمرسی نے ریفرنڈم کو دوحصوں میں منعقد کرنے کا پروگرام بنایا۔ پہلے مرحلے میں قاہرہ سمیت ملک کے 27صوبوں میں سے 10 صوبوں میں15دسمبرکو ووٹنگ ہوئی جبکہ دوسرا مرحلہ22دسمبر کو منعقد ہوا۔ پہلے مرحلے میں57 فیصد جبکہ دوسرے مرحلے میں64 فیصد لوگوں نے ’’ہاں‘‘ پر مہرلگائی۔ اپوزیشن نے بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کئے لیکن آئینی ریفرنڈم کے نتائج تسلیم کرلئے۔

٭صدرمرسی کے دور رس اقدامات

تمام تر مخالفتوں کے باوجود ڈاکٹرمرسی نے اپنے پہلے سال کیا خدمات سرانجام دیں؟ اس کا جواب لبنان سے تعلق رکھنے والے معروف تجزیہ نگار ’قطب العربی‘ یوں دیتے ہیں:

’’ ڈاکٹرمحمد مرسی کا سب سے بڑی کارنامہ ( جو انقلاب روم کے نصف کے برابر ہے) فوج اور شہریوں کے درمیان اقتدار کے دوہرے پن کو ختم کرنا ہے تاکہ ساٹھ کے عشرے میں متعارف کردہ فوجی نظام حکومت کے بعد مصر خالص شہری سٹیٹ بن سکے۔ فوجی کونسل نے اس دعویٰ سے کہ اس نے انقلاب25جنوری کے دوران عوام کی حفاظت کی تھی، اس کے خلاف ہتھیار استعمال نہیں کئے تھے اور پبلک اور پرائیویٹ اداروں کی حفاظت کی تھی، قوم پر اپنے اس ’’احسان‘‘ کے بدلے میں اس نے خود ہی اپنے آپ کو انقلاب پر وصی مقرر کر لیا تھا، پھر حسنی مبارک کے جانے کے بعد وہی عملاً مصر کی حاکم بن بیٹھی تھی، حتیٰ کہ صدرمحمد مرسی نے 12اگست کو اپنے انقلابی اقدامات کے ذریعے فیلڈ مارشل حسین طنطاوی، کرنل سمیع، ملٹری کونسل کے دیگرنمایاں کمانڈرون کو برطرف کرکے نئے وزیردفاع، چیف آف آرمی سٹاف اور بنیادی شعبوں کے کمانڈروں کو مقررکیا، پھر نئے وزیردفاع نے سابق نظام حکومت سے وابستہ 70 فوجی افسران کو ریٹائر کیا‘‘۔

قطب العربی کا کہناتھا:’’صدرمرسی نے قرضوں میں پھنسے ہوئے ہزاروں کسانوں کو معافی دی، ملازمین اور پنشنروں کو پندرہ فیصد الاؤنس دیا، اجتماعی انشورنس کی رقم میں ماہانہ تین سو پونڈ کا اضافہ کیا، ہزاروں عارضی ملازمین ومزدوروں کو مستقل کیا، شمالی مغربی خلیج سوئس کے غیرسنجیدہ سرمایہ کاروں سے24ملین میٹر مربع زمین واپس لی، اس کے علاوہ پورٹ سعید کے مشرق میں اکتالیس ملین میٹر مربع زمین واپس لینے کے احکام صادر کئے، تمام ضلعوں اور سرکاری اداروں میں شکایات سیل قائم کئے(جہاں لوگ ان کے خلاف شکایات درج کراتے ہیں اور جن پر ایکشن ہوتاہے)، دومراحل میں سیاسی قیدیوں کو رہاکیا،سابق نظام سے مربوط افسران کی تطہیر کا عمل بھی جاری رکھا۔دوسری طرف سرکاری اور عوامی سطح پر صفائی اور تزئین و آرائش کی ایک وسیع مہم جاری ہے، جس کی بدولت سڑکوں اور میدانوں سے ٹنوں کوڑاکچرا اٹھایاگیا، بجلی کی کمی پر فوری طورپر قابوپالیا گیا، گیس پائپ لائن کا مسئلہ ختم ہوگیا، روٹی بحران اور اس کی لمبی قطاریں بھی غائب ہوگئیں‘‘۔

ڈاکٹرمرسی نے خطے میں مصر کی صحیح معنوں میں قیادت بحال کی، سعودی عرب، ایتھوپیا، چین، ایران، اٹلی اور بروکسل میں یورپی یونین کے دوروں میں کئی ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے۔ صدرمرسی برسراقتدار رہتے تو مصر، ترکی اور قطر کا ایک نیااتحاد پروان چڑھتا جو خطے میں خاصی اہمیت کا حامل ہوتا۔انھوں نے برسراقتدار آتے ہی اس اتحاد کی کوششیں شروع کردیں تھیں۔اس سے پہلے ترکی اور قطر مشرق وسطیٰ میں زیادہ متحرک نہیں تھے جبکہ مصر سابق صدر حسنی مبارک کے دور میں مختلف حکمت عملی اختیارکئے ہوئے تھا جس سے اسرائیلی مفادات کو زیادہ فائدہ پہنچتاتھا جبکہ فلسطینی بے بس تھے۔یادرہے کہ صدر ڈاکٹرمحمد مرسی اسی اخوان المسلمون کے تربیت یافتہ تھے جس نے فلسطین کی تحریک حریت ’’حماس‘‘ کو جنم دیاتھا، پال پوس کے بڑا کیاتھا۔ظاہر ہے کہ مرسی کے اقتدار میں اسرائیل ایسا کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھاسکتاتھا جو اسے اب تک مل رہے تھے۔

٭اپوزیشن اتحاد کی تشکیل

صدرمرسی جس رفتار سے اقدامات کررہے تھے، کوئی بھی سوچ سکتاہے کہ وہ اپنی مدت پوری کرتے تو مصر کو کس قدر ترقی، خوشحالی اور استحکام ملتا۔ یہی چیز اقتدارپسند فوجی جرنیلوں، مخالف سیکولر اور لبرل جماعتوں کو بے چین کررہی تھی۔ فوج کو کون سا درد بے چین کررہاتھا، وہ سابقہ سطور میں بیان ہوچکاہے تاہم سیکولر اورلبرل حلقے مضطرب تھے کہ اسلام پسند ملک کے سیاسی منظرنامے پراسی طرح آگے بڑھتے رہے تو ان کے لئے کوئی جگہ نہیں بچے گی۔ صدرمرسی کی حکومت قائم ہونے کے بعد سیکولر اور لبرل حلقے ’نیشنل سالویشن فرنٹ‘ کے نام سے متحد ہوگئے۔وہ صدر مرسی کو پریشان کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے تھے، وہ ایک شکست کے بعد اگلے معرکے کیلئے سڑکوں پر نکل آتے تھے۔

مخالف کیمپ میں صرف حسنی مبارک کے حامی نظرآتے تو قابل فہم بات تھی لیکن وہاں تو حسنی مبارک کے خلاف کامیاب انقلابی تحریک میں شامل ہونے والے لبرل اور سیکولر انقلابی بھی نظرآرہے تھے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ وہ اس پراسیکیوٹرجنرل عبدالمجیدمحمود کی برطرفی کا صدارتی فیصلہ تسلیم کرنے سے بھی انکاری تھے جس پرالزام تھا کہ اس نے شہدائے انقلاب کے قاتلوں کے خلاف شفاف تحقیقات کے بجائے انھیں رہاکرانے میں زیادہ سرگرمی دکھائی تھی۔

صدرمرسی کے مخالفین میں صحافی بھی شامل تھے، حالانکہ انھیں نصف صدی سے زائدعرصہ میں پہلی بار آزادی نصیب ہوئی تھی۔ واضح رہے کہ صدر مرسی نے برسراقتدارآکر صدر کی ہتک کا قانون سرے سے ہی ختم کردیا تھا۔ صحافیوں کو اس قدر آزادی نصیب ہوئی کہ نیوزکاسٹر بھی ٹی وی سکرین پر آکر خبریں پڑھنے کے بجائے صدرکے خلاف تقریریں کرنے لگیں۔

٭مصری سلفیوں کے سرپرست ملک کا مسئلہ

جون2011ء میں مختلف سلفی گروہ النور کے نام سے اکٹھے ہوئے تھے اور عمادالدین عبدالغفور سربراہ بن گئے ۔ حسنی مبارک کے بعد منعقد ہونے والے پہلے عام انتخابات میں النور دوسری بڑی جماعت بن کے ابھری تھی۔ اس نے 75لاکھ 34 ہزار 266 ووٹ (27.8فیصد)حاصل کرکے پارلیمان کی مجموعی498نشستوں میں سے 127سیٹیں حاصل کی تھیں۔ ڈاکٹرمحمد مرسی نے صدمنتخب ہونے کے بعد عمادالدین عبدالغفور کو اپنا مشیر مقررکرلیا۔ ان کا یہ اقدام مصری سلفیوں کو ایک مہرہ کے طور پر استعمال کرنے والے ایک ملک کو پسند نہ آیا، اسے خدشہ لاحق ہوگیا کہ مصری سلفی اسی طرح صدرمرسی کے قریب ہوتے چلے گئے تو وہ اس سے دور ہوجائیں گے،چنانچہ صدرمرسی کا اقتدار اس کے لئے ناقابل برداشت ہوگیا۔نتیجتاً پہلے مرحلے پر سلفیوں کو تقسیم کیاگیا۔ اغلب خیال ہے کہ یہ تقسیم ان کے سرپرست ایک عرب ملک کا منصوبہ تھا۔

٭صدرمرسی کیخلاف تحریک چلانے کا بہانہ کیابنا؟

ڈاکٹرمحمد مرسی پر ان کے مخالفین صدارتی مہم سے لے کر تادم آخر مسلسل حملے کرتے رہے۔ صدارتی مہم کے دوران انھیں امریکی شہری قراردے کرنااہل کرانے کی کوشش کی گئی تاہم یہ حملہ معمولی ہی ثابت ہوسکا۔ صدارتی انتخاب کے موقع پر فوجی جرنیل ان کی راہ میں رکاوٹ بننے لگے تھے، انھوں نے حسنی مبارک کے آخری وزیراعظم احمد شفیق کی جیت کے تمام تر انتظامات مکمل کرلئے تھے، حتیٰ کہ انتخابی نتائج میں آخری لمحے پر بھی ردوبدل کی کوشش کی گئی لیکن ڈاکٹرمرسی کی جماعت فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی (اخوان المسلمون کے سیاسی بازو) نے ہرپولنگ سٹیشن کے سرکاری مصدقہ نتائج کی نقول حاصل کرکے، انھیں ایک کتاب کی صورت دے کر پورے ملک میں تقسیم کردیا۔ فوجی جرنیلوں نے ان اعدادوشمار کو جمع کرتے ہوئے ہیراپھیری کرنی تھی لیکن فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے اپنی چال چل کر فوجی جرنیلوں کو بے بس کردیا۔ یوں الیکشن کمیشن کو ڈاکٹرمرسی کی کامیابی کا اعلان کرناہی پڑا۔

بعدازاں فوجی جرنیلوں کی کونسل نے اپنے آپ کو صدرمرسی پر بالادست قراردیدیا۔اس مہم میں حسنی مبارک کے متعین کردہ ججز کی عدلیہ بھی فوجی کونسل کے ساتھ تھی۔ یوں محسوس ہورہاتھا، جیسے صدر مرسی کو نام نہاد صدر کے طورپر ہی زندگی بسرکرناہوگی تاہم پھر ایک روز صدر مرسی نے اچانک فوجی کونسل کے سربراہ سمیت تمام افواج کے سربراہان کو برطرف کردیا اور اپنی بالادستی ثابت کردی۔ یہ اقدام اس قدراچانک اور حیران کن تھا کہ برطرف ہونے والے جرنیلوں کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ اگلے ہی لمحے نئی تعیناتیاں کردی گئیں۔

٭باقاعدہ لڑائی کا آغاز

اب تک کی کہانی سے آپ کو اندازہ ہوچکاہے کہ صدرمرسی کے خلاف میدان کیسے تیارکیاگیا۔ پھرباقاعدہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب صدر مرسی نے پراسیکیوٹرجنرل عبدالمجید محمود کو ان کے عہدے سے برطرف کرتے ہوئے ان سرکاری اہلکاروں کے دوبارہ ٹرائل کاحکم جاری کیا جوحسنی مبارک کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران انقلابیوں کی ہلاکتوں میں ملوث سمجھے جاتے تھے۔ یادرہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ساڑھے آٹھ سومظاہرین ہلاک ہوئے تھے۔ پراسیکیوٹرجنرل کی برطرفی کا سبب یہ بیان کیاگیا کہ اس نے انقلاب کے دوران میں ہونے والی ہلاکتوںکی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کے بجائے ذمہ دار اہلکاروں کو سزا سے بچانے میں زیادہ سرگرمی دکھائی۔

اپنے صدارتی فرمان میں جہاں ڈاکٹرمرسی نے طلعت ابراہیم عبداللہ کو نیاپراسیکیوٹر جنرل مقررکیا، وہاں دستورساز اسمبلی کی مدت میں دوماہ کی توسیع کا اعلان بھی کیا۔ ساتھ یہ بھی قراردیاکہ صدر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد جو بھی فیصلے کئے ، قوانین اور اعلامیے منظورکئے، انھیں عدلیہ سمیت کوئی بھی اتھارٹی منسوخ نہیں کرسکتی اور نہ ہی ان کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے۔ فرمان میں یہ بھی شامل تھا کہ مصر کی دستورساز اسمبلی اور پارلیمان کے ایوان بالا شوریٰ کونسل کو عدلیہ سمیت کوئی بھی اتھارٹی تحلیل نہیں کرسکتی۔

پراسیکیوٹر جنرل کی برطرفی پر ججز نے صدرمرسی کے متعین کردہ نئے پراسیکوٹرجنرل طلعت ابراہیم عبداللہ پر اس قدرزیادہ دباؤ بڑھایا کہ انھوں نے ازخود استعفیٰ دیدیا۔اپوزیشن جماعتیں ڈاکٹر مرسی کے اقدامات کو مطلق العنان بننے کی کوشش سے تعبیر کر رہی تھیں، عدلیہ نے بھی ابتدائی طورپر اسے اپنی آزادی پر حملہ قرار دیا اور ججز نے ہڑتال کردی۔

٭عدالتی اصلاحات بھی مسئلہ بن گئیں

مصری صدر عدالتی اصلاحات متعارف کرانا چاہتے تھے جن کے مطابق ریٹائرمنٹ کی حد عمر 70 سال سے کم کر کے 60 سال کی جاتی۔نتیجتاً 3000 ہزار سے زیادہ جج خود بخود سبکدوش ہوجاتے، ججز کلب نے ان اصلاحات کی شدیدمخالفت کی۔ جبکہ سلفیوں کی جماعت ’’النور‘‘ نے بھی یہ کہہ کر اصلاحات کو مسترد کردیاتھاکہ آئین کے تحت قانون میں ترمیم سے قبل عدلیہ سے وسیع تر مشاورت کی ضرورت ہے۔ قاہرہ میں عدالت عالیہ کے باہر مٹھی بھر افراد نے مظاہرہ کیا اور انھوں نے عدلیہ کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے جبکہ اسلامی جماعتوں نے عدلیہ کی تطہیر کے عنوان سے مظاہرے کیے تھے۔

اس کے لئے صدر محمد مرسی اور اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان پر مشتمل کونسل کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں عدالتی نظام کے مستقبل کے عنوان پر ایک کانفرنس بلانے پر اتفاق کیاگیا تاکہ دونوں فریقوں کیلیے قابل قبول اصلاحات وضع کی جائیں۔ اس کے بعد صدر مرسی اس کانفرنس میں منظور کردہ مجوزہ قوانین سے متعلق تمام سفارشات کو اختیار کرتے ہوئے انھیں حتمی منظوری کیلیے مجلسِ شوریٰ (پارلیمان کے ایوان بالا) میں پیش کرتے۔

٭صدرمرسی اور ان کی جماعت کا موقف

اس مرحلے پر ڈاکٹر مرسی کاکہناتھا:’’ مصرآزادی اور جمہوریت کی راہ پر گامزن ہے۔ میں ملک میں سیاسی، معاشی اور سماجی استحکام کیلئے کام کررہاہوں۔ میں نے ہمیشہ عوام کی نبض پر ہاتھ رکھا اورعوام کی منشا کو پہچاناہے اوران شاء اللہ مستقبل میں بھی ایساہی کروں گا۔کوئی بھی ہماری آگے کی طرف پیش قدمی کو روک نہیں سکتا۔ میں اللہ اور قوم کے سامنے سرخرو ہونے کیلئے اپنے فرائض سرانجام دے رہاہوں اور میں نے ہرکسی سے مشاورت کے بعد فیصلے کئے ہیں۔انھوں نے کہاکہ کسی بھی قیمت پر قانون کا نفاذ کیاجائے گا اورمیں ان لوگوں کے خلاف ثابت قدم رہوں گا جو مصر کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اوراس کی جمہوری جدوجہد کی راہ میں رکاوٹیں ڈالناچاہتے ہیں۔ میں نے جو بھی اقدامات اور فیصلے کئے ہیں ، ملکی مفاد میں کئے ہیں اوران کا کسی بھی طرح یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اپنے آئینی اختیارات میں اضافہ کرناچاہ رہا ہوں۔ میں جب بھی ملک اورانقلاب کوخطرے میں دیکھتا ہوں تو صورتحال میں مداخلت کرنے اور قانون کی عملداری کا پابند ہوں‘‘۔

جبکہ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے ایک اعلیٰ رہنما جہاد حداد کاکہناتھا کہ ’’انقلاب کو بروئے کار لانے کیلئے ڈاکٹرمرسی کے حالیہ فیصلے ضروری تھے کیونکہ مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث وزارت داخلہ کے اہلکاروں کے خلاف نئے سرے سے قانونی کارروائی کیلئے کوئی چارہ کارنہیں رہاتھا۔ مظاہرین کی ہلاکتوں میںملوث اہلکاروں کے خلاف ناقص تفتیش کی گئی اوران کے خلاف شواہد کو ضائع کردیاگیا یاانھیں چھپادیاگیا۔جس کی وجہ سے بہت سے اہلکاروں کو ان مقدمات سے بری کیاجاچکاہے‘‘۔

٭اورپھراحتجاج شروع ہوگیا

سن2013ء میںصدر مرسی کی صدارت کا پہلا سال مکمل ہونے پر اپوزیشن اور حکمران جماعت، دونوں نے مظاہروں کا اعلان کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے پُرامن مظاہروں کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مسلح افراد نے حکمراں جماعت اخوان المسلمون کے ہیڈ کوارٹرز پر دھاوا بولنے کے بعد اسے نذرآتش کردیا، مظاہرین وہاں سے سامان لوٹ کر لے گئے،اس پر اخوان المسلمون کے رہنماؤں نے سکیورٹی فورسز کے کردار پر کڑی تنقید کی کہ وہ اخوان کے ہیڈ کوارٹرز کو تحفظ مہیا کرنے میں ناکام رہیں۔

٭اپوزیشن کی طرف سے فوج کو اقتدارسنبھالنے کی دعوت

یہ بھی کم بدقسمتی نہ تھی کہ جمہوریت کے ایک بڑے موید اور بائیں بازو کے رہنما حمدین صباحی نے واضح طورپر فوج کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی۔انھوں نے کہا:’’اگر صدر مرسی عوامی امنگوں کا احترام کرتے ہوئے اقتدار سے الگ نہیں ہوتے تو فوج مداخلت کر کے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرے۔‘‘

پختہ جمہوری سوچ کے حاملین سیاست میں کسی بھی صورت میں فوج کو دخل دینے کی اجازت نہیں دیتے، چاہے آسمان ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑے لیکن یہ آسمان نہیں ٹوٹا تھا بلکہ مصر ترقی، خوشحالی اور استحکام کی راہ پر چلنے لگاتھا۔ بدقسمتی سے مصر کے لبرل اور سیکولر حلقوں کے بارے میں یہ تاثر مضبوط ہواکہ وہ کسی ایسی جمہوریت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں جس کے نتیجے میں حکومت کسی اسلامی ذہن رکھنے والے فرد کو مل جائے۔

٭صدرمرسی کے خلاف احتجاج کی بنیادیں

جرنیل، ججز اور سیکولر، لبرل حلقے صدرمرسی کے خلاف احتجاج کے تین اسباب بیان کرتے تھے:

اول: جب صدرمرسی نے اقتدارپسند فوجی قیادت کو ان کے مناصب سے فارغ کیا اور نئے جرنیلوں کوذمہ داریاں تفویض کیں تو حمدین صباحی اور محمد البرادعی جیسے اپوزیشن رہنماؤں نے صدارتی اقدام کو غلط قراردیا۔ حالانکہ دنیا کے ہرجمہوری ملک کا آئین ملک کے سربراہ کو حق دیتاہے کہ وہ فوجی قیادت کو تبدیل کرسکتاہے حتیٰ کہ بلاجواز بھی ایسا کرسکتاہے۔

دوم:دوسری بنیاد 22نومبر2012ء کا جاری کردہ صدارتی فرمان تھا جسے عدلیہ کی آزادی ختم کرنے کی کوشش کے طورپر سمجھاگیا۔ حالانکہ ڈاکٹرمرسی نے یہ فرمان آئین ساز اسمبلی کے تحفظ کے لئے جاری کیاتھا اور قراردیاتھا کہ عدلیہ اس کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی ۔ساتھ ہی اسمبلی کی مدت میں دو ماہ کا اضافہ کردیا۔ فرمان میں یہ بھی کہاگیا تھا کہ کوئی بھی ادارہ صدارتی اقدامات کو کالعدم قرار نہیں دے سکتا۔ فرمان میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف انقلابی تحریک کے دوران ہلاکتوں کے واقعات کی ازسرنو تحقیقات کی بات بھی کی گئی تھی ۔

سوم: صدرمرسی نے ملک کو ایک نیاآئین دیا، لبرل اور سیکولرحلقوں نے اسے ملک میں اسلامی شریعت نافذ کرنے کی ایک کوشش قراردیا۔ جب صدرمرسی نے اسے قوم سے منظوری دلانے کے لئے ریفرنڈم منعقد کرانے کا اعلان کیا، اس پر سیکولرحلقے سڑکوں پر آگئے، ان کا مطالبہ تھا کہ ریفرنڈم منسوخ کیاجائے۔ دوسری جانب ججز نے اس ریفرنڈم کے انعقاد کے موقع پر نگرانی کے آئینی فرائض ادا کرنے سے انکار کردیا۔ انہی دنوں(8دسمبر2012ء کو) فوج کی طرف سے پہلابیان سامنے آیا جس میں عزم ظاہر کیاگیا کہ وہ حالات کو گھمبیر نہیں بننے دے گی۔آنے والے دنوں نے اس فوجی بیان کی معنویت کو پوری طرح کھول کر رکھ دیا۔

٭فوجی جرنیلوں کے عزائم

اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے دوران فوجی جرنیلوں کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات سے واضح طور پر محسوس ہوا کہ وہ مصری صدر کے خلاف اس احتجاج پر خاصے خوش اور پرجوش ہیں۔ پھرایک روز مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے تمام سیاسی قوتوں کو کسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے 48گھنٹے کا الٹی میٹم دیا اور کہا کہ اگر وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچتے تو پھر انھیں مستقبل کے لیے فوج کے نقشہ راہ کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس میں ہر کوئی شامل نہیں ہوگا۔ جنرل السیسی نے صدر مرسی کے خلاف ریلیوں کو عوام کی رائے کا ایک بے مثال مظاہرہ قرار دیا۔ جب اپوزیشن کے مظاہرین سڑکوں پر تھے، فوجی ہیلی کاپٹران کے اوپر پروازیں کرتے اور مظاہرین پرمصری پرچم نچھاور کرتے رہے۔

اس موقع پر ڈاکٹرمرسی فوجی عزائم کے سامنے ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑے ہوئے۔ انھوں نے فوج کی طرف سے کسی قسم کے الٹی میٹم کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہ ’’وہ قانونی طور پر ملک کے صدر منتخب ہوئے ہیں اور کسی بھی دباؤ کے نتیجے میں مستعفی نہیں ہوں گے اور وہ حکومت مخالف مظاہروں کے باوجود اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔انھوں نے یہ بھی کہاکہ وہ مرتے دم تک اپنے آئینی عہدے کا دفاع کریں گے۔‘‘

٭امریکا اور اسرائیل کا ردعمل

مصرکے سیاسی بحران پر امریکہ کی طرف سے سامنے آنے والا ردعمل بھی خاصا معنی خیز ہے۔ امریکی حکام واضح طورپر اپوزیشن کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال رہے تھے۔ اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے صدر مرسی پر زور دیاکہ وہ اپنے خلاف مظاہرے کرنے والوں کے تحفظات کا خیال رکھیں۔اس وقت کے امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بھی مصری صدرکو مشورہ دیا کہ وہ عوام کے مطالبات تسلیم کریں۔ اسرائیل نے بھی ان مظاہروں کے بعد سکھ کا سانس لیا، وہ خطے میں ’سٹیٹس کو‘ کا حامی تھا، تاہم عرب بہار نے اسے خاصا پریشان کردیا تھا۔ عرب انقلابات کے نتیجے میں خطے میں اسرائیل کی اجارہ داری مکمل طورپر ختم ہوکے رہ گئی تھی۔ اس کے لئے حسنی مبارک جیسے حکمران ہی مفید تھے جو اپنے اقتدار کے نشے میں ہی مست رہتے تھے۔

٭جرنیل مافیا نے اقتدار پھر سنبھال لیا

تین جولائی 2013ء کو مصر ایک بار پھر اسی فوج کے جرنیلوں کے ہاتھ میں واپس چلا گیا، نئے مقتدر جرنیلوں نے حسنی مبارک ہی کے متعین کردہ ایک جج عدلی منصور( سپریم کورٹ) کوملک کا عبوری صدر بنایا، یہ انہی ججز میں شامل تھا جنھوں نے حسنی مبارک کے ساتھی احمد شفیق کو صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی حالانکہ حسنی مبارک کا اقتدار ختم ہونے کے بعد مقتدر فوجی کونسل نے جو قانون نافذ کیا تھا، اس میں بھرپور عوامی دباؤ کے نتیجے میں یہ شق بھی شامل تھی کہ حسنی مبارک کے کسی بھی ساتھی کو صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ ہوگی۔

٭فوجی انقلاب کیخلاف صدرمرسی کی جماعت کا ردعمل

جرنیل مافیا کی مداخلت پرحکمران جماعت اخوان المسلمون نے سخت مزاحمت کا اعلان کیااورکہاکہ وہ منتخب رہنما کے خلاف فوجی بغاوت کی صورت میں ٹینکوں کے سامنے کھڑے ہوں گے اور شہادت کو ترجیح دیں گے۔ نتیجتاً انھوں نے قاہرہ کے الرابعہ سکوائر میں بڑے پیمانے پر دھرنا دیا۔اس موقع پر اخوان المسلمون کے مرشدعام (سربراہ) ڈاکٹرمحمد بدیع نے فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’تم ملک کی سب سے بڑی سیکورٹی طاقت ہو لیکن تم نے یہ طاقت اخوان المسلمون کے نہتے لوگوں پر آزمائی ہے۔ تمہارا کام سرحدوں پر ملک کی حفاطت کرنا ہے اور ہمارا کام یہ کہ ملک کو ایک منتخب قیادت دیں۔ آپ واپس لوٹ جاؤ اور ہمارے منتخب صدر کو صدارت واپس لوٹا دو، تم ہمیں ٹینکوں سے ڈراتے ہو ، تو سن لو یہ ناممکن ہے۔ہم تہماری گولیوں اور ٹینکوں سے زیادہ طاقتور ہیں‘‘۔

اخوان المسلمون نے اپنے مذکورہ بالا عزائم کو سچ ثابت کردیا۔ اس کے 2600 سے زائد ارکان فوج کی گولیوں کا نشانہ بنے ، ان میں سے بہت سی خواتین اور بچے بھی تھے ۔

٭اور پھرمرسی کے مخالفین پچھتانے پر مجبورہوگئے

صدرمرسی کے خلاف مظاہروں میں شریک افراد کو بعدازاں شدیدپشیمانی کا احساس ہونے لگا کہ ان کی وجہ سے حسنی مبارک کے ساتھیوں کا دور واپس آگیا اور ایک بار پھر آمریت قائم ہوگئی ۔ڈاکٹر مرسی کے خلاف احتجاجی مہم چلانے والی تمرد (باغی) تحریک جنرل السیسی کی مقررکردہ عبوری حکومت کے ابتدائی دنوں میں احتجاج پر مجبور ہوگئے۔ انھوں نے عبوری صدر عبدلی منصور کے اعلان کردہ آَئینی اعلامیے کو’’آمرانہ‘‘ قرار دے کر مسترد کیا۔ اور کہا کہ’’ہم فوج کے مقرر کردہ عبوری صدر کے حوالے ہوجائیں گے‘‘۔ دوسری طرف جامع الازہر کے علما بھی صدرمرسی کے خلاف اقدامات پر تقسیم ہوگئے۔

شیخ الازہر کے مشیر ڈاکٹر حسن الشافعی کا بیان بھی سامنے آیا کہ ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف روز اول سے ہی سازشیں تیار کی جا رہی تھیں اور مارشل لاء بھی ان میں ایک تھا۔ انھوں نے ہزاروں اخوانیوں کو شہید کرنے کے واقعہ کے بعد ریکونسیلیشن(مصالحتی) کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا تھااورکہا:’’اخوان کے لوگوں کوگھر بھیجنے کا یہ طریقہ انتہائی غیر انسانی تھا۔ سب سے عجیب بات کہ ان پر دوران نماز فجر گولیاں پرسائی گئیں۔ تشدد اور دباؤ سے اسلام پسندوں کو گھر بھیجنا، اس سے بڑی بھول اور کوئی نہیں‘‘۔

انھوں نے فوجی جرنیلوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: تم فوجی صرف موقع کی تاڑ میں رہتے ہو اور صرف اقتدار کے بھوکے ہو۔ ان کاکہناتھا : ’’لوگوں میں خوف اور دباؤ کی ایسی کیفیت کم سے کم ڈاکٹر محمد مرسی کے ہوتے ہوئے نہیں تھی۔ اس وقت رائے کی آزادی تھی‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’ 25 جنوری کے انقلاب کے بعد دیکھا جائے تو مصر نہیں بدل سکا۔ایک بار پھر وہی تشدد پسند اور کرپٹ عناصر اقتدار پر قبضہ کر چکے ہیں اور عوام کے ووٹوں کو ذرا حیثیت نہیں دی گئی‘‘۔ ان کاکہناتھا:’’دنیا کو اب دیکھ لینا چاہیے کہ تشدد پسند اور دہشت گرد مذہب نہیں بلکہ برداشت سے دور لبرل طبقہ ہے‘‘۔

۔۔۔

صدرمرسی کے خلاف عالمی طاقتوں کارندوں کا کردار
صدرمرسی کے خلاف شروع دن سے دو کردار متحرک رہے، ایک محمد البرادعی تھے اور دوسرے عمروموسیٰ۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حسنی مبارک کے بعد امریکا نے مصر کی سیاست پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے ان دونوں شخصیات کو متحرک کیا۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سابق سربراہ محمد البرادعی کے بارے میںعمومی تاثر ان کے امریکی وفادار ہونے کا ہے۔ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکی مہم میں کلیدی کردار اداکرتے رہے۔ انہی کے عہد میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے امریکی جھوٹ کاحصہ بنی، بعدازاں جب امریکی قیادت میں غیرملکی افواج نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی تو معلوم ہوا کہ عراق میں کہیں سے بھی ایسا کوئی ایک ہتھیار بھی برآمد نہیں ہوا۔ پھر امریکی قیادت نے بھی مان لیا کہ اس نے عراق پر جنگ مسلط کرنے کے لئے جھوٹ گھڑا تھا۔

وہ حسنی مبارک کے خلاف انقلابی تحریک کے دوران میں ملک میں اترے تھے اوراپنے آپ کو متبادل رہنما کے طورپر پیش کرنے لگے تاہم لوگوں نے انھیں انقلابی تحریک کی قیادت بھی نہیں کرنے دی۔ یہی وجہ ہے کہ انھوںنے آنے والے دنوں میں صدارتی انتخاب میں شرکت کا ارادہ بھی ختم کردیا حالانکہ انھوں نے سب سے پہلے صدارتی امیدوار ہونے کا اعلان کیاتھا۔

عمرو موسیٰ عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل ہیں۔ انھیں بھی ڈاکٹر محمد مرسی کے مقابل صدارتی انتخاب میں شکست کا سامنا کرناپڑاتھا۔ انھیں مشرق وسطیٰ میں امریکی کھیل کا حصہ سمجھاجاتارہا۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل بننے سے پہلے وہ بھی سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کے اہم ترین ساتھی اور وزیرخارجہ رہے ہیں۔

اپنے مہروں کے پٹ جانے کے بعد امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی طاقتوں کے لئے حسنی مبارک کے بعد قائم ہونے والا سیٹ اپ قابل برداشت نہیں تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپوزیشن تحریک کا بھرپور ساتھ دیا، صدرمرسی کا تختہ الٹنے والی فوج کے سرپر دست شفقت رکھا۔ ذرا! دیکھئے کہ جنرل السیسی کو اقتدار سنبھالنے کے بعد ہرقدم پر کیسے مغربی امداد ملی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔