ہپناٹزم اور ترغیب پذیری

شایان تمثیل  ہفتہ 7 ستمبر 2013

اکثر قارئین کا شکوہ ہے کہ ہمارے کالم میں شامل بعض اصطلاحات اور فلسفہ ان کی سمجھ سے بالا ہے۔ ہم اپنی سی پوری کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے کالم عام فہم ہوں لیکن جہاں تک اصطلاحات یا ٹرمز کی بات ہے تو ہر مضمون کی اپنی مخصوص اصطلاحات ہوتی ہیں، جیسے میڈیکل کی مخصوص اصطلاحات انجینئر نہیں سمجھ پاتا، یا بینکنگ کے شعبے میں جن ٹرمز کا استعمال ہوتا ہے وہ ایک ڈاکٹر نہیں پہچان سکتا، ایسا ہی نفسیات ومابعد نفسیات کے موضوعات کے ساتھ بھی ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم تمام اصطلاحات کی نفس مضمون کے ساتھ وضاحت بھی کرتے چلیں تاکہ قارئین کو بات سمجھنے میں دقت پیش نہ آئے۔ آپ کی ای میلز اور خطوط متواتر ہم تک پہنچ رہے ہیں جس میں مختلف مضامین پر قلم اٹھانے پر اصرار کیا جارہا ہے۔

ہر موضوع کو ایک ہی کالم میں سمیٹنا مشکل ہوتا ہے، ہم سانس کی مشقوں پر کافی کچھ لکھ چکے ہیں، قارئین کا اصرار ہے کہ ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی کی مشقیں بھی تجویز کی جائیں، یقیناً ہم اس سلسلے میں آپ کی رہنمائی کریں گے لیکن اس سے پہلے ان موضوعات پر سیرحاصل بحث کی ضرورت ہے تاکہ عام قارئین ان موضوعات سے کماحقہ واقفیت حاصل کرسکیں۔ بذات خود ہم نے ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی کی جانکاری محض دس سال کی عمر سے حاصل کرنا شروع کی۔ ہم جو بار بار ان علوم کی مشقوں کے دوران کسی استاد کی رہنمائی حاصل کرنے کی تنبیہہ کرتے ہیں اس کی وجہ ہمارے ذاتی تجربات بھی ہیں، جن کا تذکرہ بھی ہم آپ سے کریں گے تاکہ قارئین سمجھ سکیں کہ بنا رہنمائی کے ان مشقوں کو کرنا کس حد تک خطرناک ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ ہپناٹزم کو ہی لے لیجیے۔ انسانی ذہن کی نزاکتوں، پیچیدگیوں اور دقتوں کو سمجھنا قریب قریب ناممکن ہے۔ تنویم کاری اور تحلیل نفسی کے ذریعے ہم انسانی نفس کو چھوتے، چھیڑتے اور متحرک کرتے ہیں، اگر ذرا سی غلطی ہوجائے تو آدمی ایب نارمل بلکہ بعض حالات میں مخبوط الحواس ہوجاتا ہے۔

سب سے پہلے ہپناٹزم کو آسان الفاظ میں سمجھ لیجیے، یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں عامل، معمول کو ایک سحر زدہ کیفیت میں لے جاتا ہے، آپ اسے تنویمی نیند بھی کہہ سکتے ہیں جس میں معمول شعوری طور پر سورہا ہوتا ہے لیکن اس کا لاشعور مکمل طور پر جاگتا اور عامل کی ہدایات پر عمل کرنے کے تابع ہوتا ہے۔ اس کیفیت میں عامل، معمول کی نہ صرف پرانی اور خوابیدہ سوچوں سے واقفیت حاصل کرسکتا ہے بلکہ معمول کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بھی بیدار کرسکتا ہے۔ یہاں تنویمی نیند کو بھی آپ ایک اصطلاح کے طور پر ہی لیں کیونکہ کسی بھی شخص کو سحرزدہ یا ہیپناٹزڈ کرنے کے لیے تنویمی عمل ہی ایک طریقہ نہیں، بعض لوگ محض عامل کی شخصیت، اس کی نگاہوں اور باتوں سے ہی اس قدر متاثر ہوجاتے ہیں کہ بے خود اس کی تقلید پر مجبور ہوتے ہیں۔

تنویمی عمل کے دو طریقے ہیں ایک یہ کہ آپ کو کوئی تنویم کار تنویمی ترغیبات دے اور آپ ان ترغیبات کو قبول کرکے ان کے مطابق عمل کریں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود اپنے اوپر تنویمی کیفیت ترغیبات کے ذریعے طاری کریں، اسے Self Hypnosis کہتے ہیں۔ ترغیبات پر عمل کرنے کی ذمے داری معمول پر عائد ہوتی ہے، خواہ وہ ترغیبات عامل کی زبان سے ادا ہوں یا خود معمول انھیں دہرائے، نتیجہ یکساں ہے۔ البتہ عین ممکن ہے کہ معمول تنویم کار کی ترغیبات پر عمل کرنے سے انکار کردے، اس صورت میں ممکن نہیں کہ آپ معمول پر تنویمی کیفیت طاری کرسکیں۔ سوال یہ ہے کہ تنویمی کیفیت کسے کہتے ہیں؟ مختصر تعریف یہ ہے کہ تنویمی کیفیت انتہا درجے کی ترغیب پذیری کی حالت کو کہتے ہیں۔

انگریزی میں اس کی تعریف اس طرح کی گئی ہے کہ Condition of heightended suggestibilitiیعنی وہ حالت جب انسان کوئی تاثر قبول کرنے کے لیے بے تاب ہو، مثلاً کسی خوبصورت دلربا چہرے کو دیکھ کر آدمی کا دنگ رہ جانا، اس ’’دنگ رہ جانے‘‘ کی حالت میں اسے جو ترغیب دی جائے گی وہ براہ راست اس کی روح میں اتر جائے گی۔ جس حالت کو انگریزی میں ہائی ٹینڈ سجیسٹیبلٹی کہتے ہیں وہ مختلف ذرائع سے پیدا ہوتی ہے، مثلاً نشے کے عالم میں، سحر انگیز موسیقی کے وجد آفریں بول سن کر، ہوش ربا رقص دیکھ کر، مصوری کے نادر شاہکار، کوئی پرشکوہ عمارت، کوئی ڈرامائی منظر، کوئی وجد آفریں نظارہ مثلاً طلوع و غروب آفتاب کے مناظر، پرجلال کوہساروں کی جھلک، تاحد نظر تلاطم آفریں سمندر کا مدوجزر، یہ تمام محرکات انسانی نفس میں ایک ایسی پرگداز، رقیق کیفیت پیدا کرتے ہیں کہ اس لمحے جو نقش لگایا جاتا ہے وہ اَنمٹ ہوجاتا ہے۔

شعر و خطابت سے بھی انسان پر نیم تنویمی کیفیت طاری کی جاسکتی ہے۔ جب کوئی ترغیب نفس انسانی میں پیوست ہوجاتی ہے تو پھر اس کی قوت کی کوئی انتہا نہیں رہتی، وہ پوری انسانی شخصیت کو بدل دیتی ہے اور ترغیب کی بدولت نیا انسان وجود میں آجاتا ہے۔ ترغیب دہی کے جتنے ذرائع عہد حاضر کے پاس ہیں، اس کی مثال ماضی کی کسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ تبلیغ، تشہیر اور اشاعت و اشتہار کا زمانہ ہے، فلم، ریڈیو، ٹی وی، مواصلاتی سیاری، اخبارات، رسائل، انٹرنیٹ، ان سب کا ایک ہی مصرف ہے یعنی ایک نقطہ نظر کی بار بار بھرپور اور پے در پے تشہیر کرنا۔ آج تجارت صنعت اور سیاست کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس میں ترغیب پذیری کی تحریک کارفرما نہ ہو۔ اشیا کی فروخت اور اپنی مصنوعات کو مقبول عام بنانے کے لیے کاروباری اداروں نے اس زور شور سے اشتہارات کی مہم شروع کر رکھی ہے کہ خدا کی پناہ!

ترغیبات، ہدایات، اشارات اور سجیشنز صرف افراد کو ہی نہیں کئی لوگوں کے اجتماع کو بھی تنویم زدہ کردیتے ہیں۔ تنویم کا ایک عجیب و غریب مظہر ’’گروہی تنویم‘‘ یا Mass Hypnotism بھی ہے، اگر دس آدمی بیٹھے ہوں اور آپ ایک شخص کو تنویم زدہ کردیں تو باقی نو آدمیوں پر بہ آسانی تنویمی کیفیت طاری کی جاسکتی ہے۔ گروپ ہپناٹزم یا گروہی تنویم خالص نفسیاتی عمل ہے۔ اگر آپ ہشاش بشاش مجمع میں بیٹھے ہوں تو لامحالہ دوسروں کی تقلید یا تاثر کے سبب آپ کا موڈ بہتر ہوجائے گا، دوسروں کو قہقہہ لگاتے دیکھ کر آپ بھی مسکرانے پر مجبور ہوجائیں گے، خواہ آپ بذات خود کتنے ہی آزردہ خاطر کیوں نہ ہوں۔ اسی طرح مجلس میں اگر کوئی افسردہ دل پہنچ جائے تو وہ ساری انجمن کو افسردہ کردے گا۔

لوگوں کو ہنستے دیکھ کر ہنسنے لگنا، رونے والوں کے مجمع میں جا کر آبدیدہ ہوجانا، اشتعال انگیزوں کے ہجوم میں پہنچ کر مشتعل ہوجانا یہ سب روزمرہ کے مظاہر ہیں۔ انسان گروہ پسند جانور واقع ہوا ہے، وہ اپنے ہم جنسوں کی تقلید پر مجبور ہے، تمدن کی بنیاد ہی تقلید پر رکھی ہے۔ گروہی ذہنیت اجتماعی عمل تقلید کو کہتے ہیں، ہم جس گروہ، جس جماعت سے وابستہ ہیں اس کے خیالات، افکار، تصورات اور اعمال میں ہماری ذہنی، دماغی اور عملی شرکت ناگزیر ہے، ہم اجتماعی اثرات سے بچ ہی نہیں سکتے۔ دنیا کی تمام انقلاب انگیز اور تاریخ ساز تحریکیںگروہی تنویم کاری کا مظہر ہوتی ہیں یعنی ایک جماعت بعض اجتماعی ترغیبات سے ’’ہپناٹائزڈ‘‘ ہو کر ایک ہی راہ پر گامزن ہوجاتی ہے۔

(نوٹ: گزشتہ کالم پڑھنے کے لیے وزٹ کریں

www.facebook.com/shayan.tamseel)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔