بجٹ ۔۔۔عوام دوست۔۔۔مگر نادان دوست

محمد عثمان جامعی  اتوار 30 جون 2019
اس بار کا بجٹ بہت مختلف ہے۔ ہر بجٹ کے لیے تیاریاں کی جاتی ہیں، اس کی خاطر گرفتاریاں کی گئیں۔ فوٹو: فائل

اس بار کا بجٹ بہت مختلف ہے۔ ہر بجٹ کے لیے تیاریاں کی جاتی ہیں، اس کی خاطر گرفتاریاں کی گئیں۔ فوٹو: فائل

بجٹ آگیا۔۔۔۔اب آپ کہیں گے کہ بجٹ ہم ہی پر آکر گرا ہے اور یہ ہمیں یوں بتا رہا ہے جیسے خبر دے رہا ہو۔

نہیں صاحب ایسا نہیں، یوں سمجھیں ہم نے ویسا ہی بین کیا ہے جیسے کوئی میت ہوتے ہی لواحقین کرتے ہیں ’’ارے ابا چلے گئے ے ے ے ے‘‘ یہاں اہل خانہ، اہل محلہ اور خود ابا مرحوم کو بتانا مقصود نہیں ہوتا کہ وہ وفات پاچکے ہیں، بلکہ غم کا بے ساختہ اظہار ہوتا ہے، سو ہم نے بھی یہی کیا ہے۔ یعنی ہمارے فقرے کو یوں پڑھا جائے ’’ہائے بجٹ آگیااااااا‘‘،’’ارے کیوں آگیااااا۔‘‘

چلیں اب تو آہی گیا، آنے والے کو کہاں روک سکا ہے کوئی۔

اس بار کا بجٹ بہت مختلف ہے۔ ہر بجٹ کے لیے تیاریاں کی جاتی ہیں، اس کی خاطر گرفتاریاں کی گئیں۔ ہر بجٹ کے بعد منہگائی کا ’’مولاجٹ‘‘ آتا ہے، اس مرتبہ ’’کپتان‘‘ اور ان کی ٹیم نے بجٹ سے پہلے ہی گرانی کا ’’وارم اپ میچ‘‘ کرادیا، تاکہ عوام منہگائی کے عادی ہوجائیں اور ان کی اتنی چیخیں نکل جائیں کہ بجٹ آنے کے بعد نکلنے کے لیے صرف آہ اور کراہ بچے۔ ہر بار بجٹ تقریر ہی کافی ہوتی ہے، لیکن اس بار عوام کو رُلانے کے لیے بجٹ تقریر کی گئی پھر انھیں منانے، رجھانے، بنانے اور خاص طور پر ہنسانے کے لیے وزیراعظم نے تقریر کی۔

یہ تاریخی خطاب تھا، ایک تو اس لیے کہ ہماری تاریخ میں پہلی بار بجٹ تقریر کے اثرات زائل کرنے کے لیے ایک اور تقریر ہوئی، بالکل اسی طرح جیسے پشتو فلموں میں ایک درجن افراد کے قتل کے ہر منظر کے بعد ایک گانا ہوتا ہے جو پچھلے منظر سے بھی زیادہ خوف ناک ہوتا ہے۔ دوسرے یہ تاریخ کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے باعث بھی تاریخی خطاب تھا۔

حکومت کے مخالفین کچھ کہیں ہمارے نزدیک تو یہ بہت اچھا اور عوام دوست بجٹ ہے۔ یہ الگ بات کہ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا، اور بعض دفع تیر کھانے کے بعد مُڑ کر دیکھو تو اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوجاتی ہے جو زخمی کی ’’ہائے‘‘ کا جواب ہاتھ ہلا اور ہائے (HI) کہہ کر دیتے ہیں، بجٹ کو نادان دوست بھی کہا جاسکتا ہے لیکن بہ ہر حال ہے عوام دوست۔

لوگوں کو اعتراض ہے کہ حکومت نے چینی کے نرخ بڑھا دیے ہیں، بھئی جب میٹھا میٹھا ہپ ہپ کرتے ہیں تو اب کڑواکڑوا تھوتھو نہ کریں۔ ہمارے خیال میں یہ نرخ اس لیے بڑھائے گئے ہیں کہ ملک میں چینی کی بدترین قلت ہے اس فیصلے کا کسی اور ’’ترین‘‘ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس قلت کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ جب موجودہ حکومت آئی تو لوگ مہینوں مٹھائیاں بانٹتے اور ایک دوسرے کا منہہ میٹھا کراتے رہے، خوشی منانے کا یہ سلسلہ رُکا تو حکومت کی کارکردگی نے عوام کا منہہ یوں کڑوا کیا کہ وہ دن بھر میٹھا کھانے پر مجبور ہوگئے، اگر ایسا نہ کرتے تو جو کڑواہٹ منہہ سے باہر آتی اس سے حسب ہدایت ’’ملک کی مثبت تصویر کے برعکس ناک سکیڑ کر ’’اونہوں‘‘ کرتی تصویر سامنے آتی۔

اسی طرح گھی کے نرخ بھی اس لیے بڑھانے پڑے کہ ملک میں گھی کی کمی ہوگئی ہے۔ چوں کہ تحریک انصاف کی انتخابات میں کام یابی کا گھی ٹیڑھی انگلی سے نکالا گیا تھا اور پھر انگلی بھی ایمپائر کی تھی، ایمپائر سیدھی انگلی دکھانے کا عادی ہے اسے انگلی ٹیڑھی کرنے کی عادت نہیں، سو ٹیڑھی انگلی سے نکالتے ہوئے بہت سا گھی ضائع ہوگیا۔ پھر جب نئی حکومت آئی تو ملک بھر میں گھر گھر گھی کی چراغ جلائے گئے، ان دنوں ’’کہیں دیپ جلے کہیں دل‘‘ کا منظر تھا۔۔۔اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ اس چراغاں میں ٹَنوں کے حساب سے گھی کام آگیا۔ حکومت کے معاشی اقدامات کے باعث عوام کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں ہے، انگلیاں پڑنے کی وجہ سے ناپاک ہوجانے والا گھی کسی کام کا نہیں رہا، سو گھی کی قلت ہوگئی۔

جہاں تک گوشت کے دام بڑھنے کا تعلق ہے تو اس کا غریب آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیوں کہ بِلّی اور پاکستان کے غریب آدمی کو تو اب خواب میں بھی چھیچھڑے ہی نظر آتے ہیں۔ بِلی خوش نصیب ہے کہ اُس کے بھاگوں کبھی کبھی چھینکا ٹوٹ جاتا ہے، غریب کے سر پر تو مسلسل قیامت ہی ٹوٹ رہی ہے۔ غریب اب صرف قربانی ہی کا گوشت کھاسکتے ہیں، مگر وہ بھی ہر قربانی کے بکرے کا نہیں، خاص طور پر اُن بکروں کا جنھیں ’’وعدہ نبھانے‘‘، حکومتی کارکردگی سے توجہ ہٹانے اور حکومت کو مشکلات سے بچانے کے لیے قربان کیا گیا اور کیا جارہا ہے، کیوں کہ ایک تو ان کی کھال بہت موٹی ہے اُترے گی ہی نہیں، دوسرے یہ اتنے ’’بڑے‘‘ ہیں کہ ان کا گوشت گلنے کا نہیں۔

بجٹ میں سیمنٹ، اینٹوں اور سریے کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں، بالکل صحیح بڑھی ہیں۔ بتاؤ بھلا، جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے لوگ دھڑدھڑا دھڑ مکان بنائے اور اپنے گھروں میں توسیع کیے جارہے ہیں۔ ہوا یہ ہے کہ حکومت نے لوگوں کو اتنی خوشیاں دی ہیں کہ وہ خوشی سے پھولے نہیں سمارہے، پھولتے پھولتے اتنا پھول گئے ہیں کہ ان کے گھر اُن کے لیے چھوٹے پڑگئے اور وہ بالکل اسی طرح اپنے گھروں میں پھنس گئے جس طرح بعض لوگ ’’شیروانی‘‘ میں پھنس جاتے ہیں، بس پھر کیا تھا، تعمیر اور وسعت کا وہ سلسلہ شروع ہوا کہ ملک سیمنٹ، اینٹوں اور سریے کی شدید کمی کا شکار ہوگیا۔ اس صورت حال میں ان اشیاء کی قیمتیں بڑھا کر حکومت نے نہایت دانش مندی کا ثبوت دیا ہے۔

رہی کاسمیٹکس منہگی ہونے کی بات، تو ہم اس راز سے پردہ اٹھادیں کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد پاکستانی خواتین نے کاسٹمیٹکس کا استعمال ترک کردیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ ہمہ وقت روتی رہتی ہیں، ادھر میک کیا اور اُدھر آنسوؤں نے دھو ڈالا۔ کیوں روتی ہیں؟ اس کا سبب سامنے نہیں آیا، ہمارے خیال میں یہ خوشی اور شکرانے کے آنسو ہیں جو تھم کے نہیں دے رہے۔ ویسے حکومت نے کاسمیٹکس منہگی کرکے شوہروں کو مشکل میں ڈال دیا ہے، میک اپ کے بغیر بیویوں کی شکل نہیں دیکھی جارہی اور جیب دیکھتے ہیں تو کاسمیٹکس خریدنا ناممکن، کریں تو کیا کریں۔

حکومت نے اشیاء کی قیمتیں بڑھائی ہی نہیں کم بھی کی ہیں، جیسے بیکری اشیاء اور ریستورانوں میں ٹیکس پر کمی کی گئی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اے پیارے عوام! اگر منہگائی کی وجہ سے کھانا پکانے کے لالے پڑگئے ہیں تو کوئی بات نہیں بیکری سے لاکے کھاؤ یا ریستورانوں میں جاکے کھاؤ۔۔۔گھبرانا نہیں ہے، میں ہوں ناں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔