شاہ راہِ قراقرم کے عجائبات

جنکشن پوائنٹ جیسا مقام دنیا میں کہیں نہیں،عظیم الشان راہ گزر پر دل چسپ سفر کی روداد

جنکشن پوائنٹ جیسا مقام دنیا میں کہیں نہیں،عظیم الشان راہ گزر پر دل چسپ سفر کی روداد

شاہراہ قراقرم پاکستان کے شمال میں واقع وہ عظیم راستہ ہے جو وطنِ عزیز کو چین سے ملاتا ہے۔ اسے ’’قراقرم ہائی وے‘‘ ، این-35 اور ’’شاہراہِ ریشم‘‘ بھی کہتے ہیں۔

یہ دنیا کے عظیم پہاڑی سلسلوں قراقرم اور ہمالیہ کو عبور کرتی ہوئی درۂ خنجراب کی 4693 میٹر بُلندی سے ہو کر چین کے صوبہ سنکیانگ کو پاکستان کے شمالی علاقوں سے ملاتی ہے۔ یہ دنیا کی بلند ترین بین الاقوامی شاہراہ ہے۔

شاہراہِ قراقرم بیس سال کے عرصے میں 1986ء مکمل ہوئی اور اسے پاکستان اور چین نے مل کر بنایا ہے۔ اس کی تعمیر کرتے ہوئے 810 پاکستانیوں اور 82 چینیوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ، یوں یہ ملکِ پاکستان کی سب سے زیادہ سڑک ہے۔ اس کی لمبائی 1300 کلومیٹر ہے۔ یہ چینی شہر کاشغر سے شروع ہوتی ہے اور خنجراب، سوست، پسو، عطاآباد، کریم آباد، علی آباد، ہنزہ، نگر، گلگت، دینیور، جگلوٹ، چلاس، داسو، پٹن، بشام، مانسہرہ، ایبٹ آباد, ہری پورہزارہ سے ہوتی ہوئی حسن ابدال کے مقام پر جی ٹی روڈ سے ملتی ہے۔

دریائے سندھ، دریائے گلگت، دریائے ہنزہ، عطاآباد جھیل، کئی قدیم کندہ چٹانیں، قبرستان، یادگاریں، نانگا پربت اور راکاپوشی کی چوٹیاں، متعدد گلیشیئرز اور معلق پُل اس کے ساتھ ساتھ واقع ہیں۔ یوں ہ شاہراہ دنیا کے ان راستوں میں سے ایک ہے جن کی سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔ شاہراہ قراقرم کے مشکل پہاڑی علاقے میں بنائی گئی ہے اس لیے اسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہتے ہیں۔

یوں تو اس شاہراہ پر کئی لوگ کئی بار سفر کر چکے ہیں لیکن سب کے مشاہدات میں فرق ہوتا ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ آپ کو اُن تمام علاقوں کے منفرد اور انوکھے پہلوؤں سے روشناس کراؤں جہاں سے یہ سڑک گزرتی ہے۔ قراقرم ہائی وے کب کیسے اور کتنی قربانیوں کے بعد بنی یہ میں آپ کو بتا چکا ہوں۔ جاننے کی بات یہ ہے کہ یہ شاہراہ پہلے تھاکوٹ ضلع بٹگرام سے شروع ہوتی تھی لیکن پھر اسے ایکسٹینشن دے کر حسن ابدال تک کھینچ دیا گیا۔ اب تو اس میں ہزارہ موٹروے کا کچھ حصہ بھی شامل ہے، لیکن مجھ جیسے سیاحوں کو تو تھاکوٹ پل دیکھ کر ہی قراقرم روڈ والی فیلنگ آتی ہیوں تو اللّٰہ پاک نے پاکستان کے شمال کو ہر نعمت اور خوب صورتی سے نوازا ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر شاہراہِ قراقرم نہ ہوتی تو شاید یہ خوب صورتی بھی ہم میں سے بہت سوں کی نظروں سے اوجھل رہتی۔ یہ روڈ وسیلہ ثابت ہوئی ہے گلگت بلتستان کے حُسن و ثقافت کو ہم تک بہ آسانی پہنچانے کا۔ آئیں اس عجوبہ نما سڑک پر اپنا سفر شروع کرتے ہیں اور دیکھے ان دیکھے حسن کو کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں۔

شاہراہِ قراقرم پنجاب میں حسن ابدال اور ہزارہ ڈویژن میں حویلیاں، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام اور بٹل کے خوب صورت علاقوں سے گُزر کر تھاکوٹ پہنچتی ہے. تھاکوٹ ضلع بٹگرام کا آخری قصبہ ہے جس کے بعد ضلع شانگلہ شروع ہوجاتا ہے۔ تھاکوٹ ہی وہ جگہ ہے جہاں شیر دریا، سندھ آپ کا ہم سفر بنتا ہے اور بنتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آپ اس سے تنگ آ جاتے ہیں۔

تھاکوٹ کے خوب صورت چینی ساختہ پل پر سے ہو کر آپ بشام سے گزرتے ہیں جو کوہستان سے پہلے اس روٹ کا آخری بڑا شہر ہے. پھر کچھ ہی دیر بعد ضلع کوہستان شروع ہو جاتا ہے۔

یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں کہ کوہستان ایک وسیع علاقہ ہے جو خشک و چٹیل پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ یہ دیر کوہستان، سوات کوہستان، اپر کوہستان، لوئر کوہستان اور چلاس کوہستان پر مشتمل ہے۔ یہ پہلو بہ پہلو چلتا ہوا پہاڑی سلسلہ ہے جس کی خاصیت بنجر پن اور چٹیل پہاڑ ہیں۔

عموماً کوہستان سے ہم خیبرپختونخواہ کا ضلع مراد لیتے ہیں جو کومیلا سے شروع ہو کر سازین تک جاتا ہے اور یہاں قراقرم ہائی وے کا سفر انتہائی کٹھن، تھکا دینے والا اور لمبا ہے۔

پاکستان کی تمام وادیوں کی شاہ رگ کوئی نہ کوئی دریا ہے جو اس وادی کو نہ صرف تمدن کی روشنی بخشتا ہے بلکہ اس کی تمام معاشرتی و معاشی زندگی کا دارومدار اسی دریا پر ہوتا ہے۔ کوہستان کی وادی کی لائف لائن دریائے سندھ ہے جو گلگت بلتستان سے اس علاقے میں داخل ہوتا ہے اور پورے کوہستان میں شاہراہِ قراقرم کے ساتھ ساتھ ایک لاڈلے بچے کی طرح چلا جاتا ہے۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ شاہراہ ریشم اور قراقرم میں فرق ہے۔ شاہراہِ ریشم وہ تمام راستے تھے جو چین سے وسط ایشیا کے ذریعے یورپ تک ریشم کی تجارت کے لیے استعمال کیے جاتے تھے، جب کہ شاہراہ قراقرم وہ سڑک یا راستہ ہے جو شاہراہ ریشم کے راستوں کے کچھ حصوں پر بنائی گئی ہے۔ اس کو میں آگے چل کر ذرا تفصیل سے بیان کروں گا۔

کوہستان کے پہاڑ سختی، جانفشانی، کٹھنائیوں اور محنت کی علامت ہیں۔ مانا کہ سوات و مری کے پہاڑ زیادہ جاذبِ نظر ہیں مگر دریائے سندھ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے کوہِ قراقرم کے یہ پہاڑ اپنے اندر ایک عجیب حسن رکھتے ہیں بشرطے کہ دیکھنے والی آنکھ میسر ہو۔ انہی چٹیل پہاڑوں پر سے دودھ سے سفید جھرنے اٹھکیلیاں کرتے نیچے آتے ہیں اور سندھ کے گدلے پانی میں مل کر اپنے وجود کی نفی کرتے ہیں۔

اسی طرح چھوٹی چھوٹی آبشاریں بھی انہی پہاڑوں سے یوں گرتی ہیں کہ جسے پتھروں کے آنسو۔ یہاں دریائے سندھ کا گدلا، میلا اور پھیکا پانی ٹھاٹھیں مارتا ہوا گزرتا ہے۔ داسو اس علاقے کا مرکزی شہر ہے جو بالکل قراقرم ہائی ویپر واقع ہے جہاں داسو ہائیڈروپاورپروجیکٹ کے علاوہ کوئی خاص قابل ذکر بات نہیں ہے۔

اس سے آگے ثمر نالا کے مقام پر ایک بڑا نالہ دریائے سندھ کا حصہ بنتا ہے۔ یہاں کچھ چھوٹے چھوٹے ہوٹل بھی ہیں جہاں کام کرنے والوں کو اپنے کوہستانی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے بقول ’’ہم کوہستانی مرد محنت و جفاکشی کا دوسرا نام ہیں‘‘ اور یہ بات بالکل درست ہے۔ پاکستان کے شمال میں اس سے زیادہ سخت علاقہ اور کوئی نہیں جہاں زندگی گزارنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ سہولیات سے عاری کوہستان گرم، بے رنگ اور چٹیل پہاڑوں، دور دور بسائی گئی آبادیوں، چھوٹے بڑے پُلوں، لوازماتِ زندگی سے عاری قصبوں اور گدلے سے دریائے سندھ پر مشتمل ہے۔

ثمر نالے کے بعد سازین آتا ہے جو گلگت بلتستان کی جانب کوہستان کی آخری بڑی آبادی ہے اور پھر تھور کے بعد گلگت بلتستان شروع ہو جاتا ہے جہاں ”ویلکم ٹو لینڈ آف ماؤنٹینز” کا بورڈ آپ کا استقبال کرتا ہے۔ اب آپ چِلاس کوہستان میں داخل ہوچکے ہیں جو گلگت

بلتستان کے ضلع دیامیر میں واقع ہے۔ یہیں ایک جگہ گزرتے ہوئے سڑک کے قریب مجھے تعمیراتی سامان رکھا نظر آ یا۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہی بدنصیب دیامیر بھاشا ڈیم کی مجوزہ سائیٹ ہے جہاں گلگت بلتستان کا سب سے بڑا ڈیم بننے جا رہا ہے لیکن افسوس کہ یہاں کام کی رفتار نہ ہونے کے برابر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کا بند گلگت بلتستان جبکہ اسکی جھیل پختونخواہ میں بنے گی جس پر دونوں صوبوں میں رائیلٹی کا مسئلہ حل طلب ہے۔ امید ہے کہ یہ جلدی حل ہو جائے تاکہ ہم بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔

چلاس، جہاں اکثر گرمی کا راج ہوتا ہے ایک بڑا اور قدیم شہر ہے جہاں سے بہت پہلے قدیم تجارتی قافلے گزرا کرتے تھے جسکی نشانی یہاں موجود ”تھلپان کی چٹانیں” ہیں۔ چلاس کے پاس اس جگہ پر مختلف چٹانوں پر کئی ہزار سال قدیم بدھا کی تصاویر اور مختلف حروف کندہ ہیں جو اس بات کی طرف اِشارہ کرتے ہیں کہ بدھ مت کے عروج کے دور میں یہ کوئی مقدس مقام رہا ہو گا۔ لیکن ہماری ازلی بے حسی اور آرٹ سے نابلدی، ان چٹانوں پر کسی مردانہ کم زوری سے متاثر دل جلے نے مختلف اشتہار پینٹ کر کہ اس کی تصویروں کو چھپا دیا ہے لیکن ابھی بھی اس کو صاف کیا جا سکتا ہے۔

چِلاس کا انتظام وفاقی ادارے چلاتے ہیں، جو انتظام برائے شمالی علاقہ جات کے تحت ہوتا ہے۔ موسم گرما میں یہاں گرم اور مرطوب جب کہ سردیاں خشک اور سرد ہوتی ہیں۔ یہاں پہنچنے کے دو بڑے راستے ہیں۔ پہلا راستہ شاہراہ قراقرم جب کہ دوسرا وادی کاغان سے ہوتے ہوئے دربابوسر سے ہے۔ وادی چلاس کے عین وسط سے دریائے سندھ بہتا ہے اور غیرملکی افراد کو یہاں سفر کرنے اور عارضی رہائش کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔ چلاس سے آگے ایک زیرِتعمیر یونیورسٹی کی عمارت ہے جس کے لیے زمین مقامیوں نے حکومت کو تحفتاً پیش کی ہے واقعتاً گلگت بلتستان کو اب نئی یونیورسٹیوں کی اشد ضرورت ہے۔

چلاس کے بعد کچھ چھوٹے چھوٹے قصبے آتے ہیں جہاں سیاحوں کے لیے ہوٹل اور ریزارٹ بنائے گئے ہیں۔ پتا چلا کہ یہ ابھی کچھ سال پہلے بنے ہیں۔ یہ دیکھ کر لگتا ہے کہ اب واقعی پاکستان ایک بڑی ٹریول ڈیسٹینیشن بنے گا، ان شاء اللہ۔

آگے چلیں تو آپ کا سامنا رائے کوٹ کے پُل سے ہو گا جہاں سے نانگا پربت کے بیس کیمپ ”فیری میڈوز” کو راستہ جاتا ہے جو ایک انتہائی خوب صورت جگہ ہے۔ یہاں سے آگے قراقرم ہائی وے کا حلیہ ہی بدل جاتا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سی روڈ یک دم نئی نویلی دلہن کی طرح سج دھج کر سامنے آ جاتی ہے۔

دور حدِ نظر سے آگے کہیں

زندگی اب بھی مسکراتی ہے

(اتباف ابرک)

کچھ آگے سفر کریں تو ایک راستہ استور کو مُڑتا ہے جو آگے راما، چِلم چوکی، بُرزیل پاس اور دیوسائی سے ہو کر اسکردو تک جاتا ہے۔ یہاں سے چلتے چلتے آپ کو نانگا پربت ویو پوائنٹ کا بورڈ نظر آئے گا جہاں سے اس ہیبت ناک پہاڑ کا سحر انگیز نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ پہاڑ سر کرنا بہت مشکل ہے اور اسی خواہش میں کئی کوہ پیما اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں تبھی ہم جیسے اسے دیکھ کر ٹھنڈی آہیں ہی بھر سکتے ہیں۔

آگے چل کر جگلوٹ کے بعد اس سڑک پر میرا پسندیدہ مقام ’’جنکشن پوائنٹ‘‘ آتا ہے۔ ایسا مقام دنیا بھر میں اور کہیں نہیں تبھی تو کہتے ہیں کہ پاکستان خدا کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ہے۔ گلگت شہر سے 45 کلومیٹر جنوب میں واقع اس جگہ دنیا کے تین عظیم اور ہیبت ناک پہاڑی سلسلے ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ ملتے ہیں اور انہی کی گود میں دریائے گلگت اور سندھ کا سنگم ہوتا ہے۔ یعنی ایک ہی جگہ تین سمتوں میں آپ تین مختلف پہاڑی سلسلوں اور دو بڑے دریاؤں کا نظارہ کر سکتے ہیں۔

پہاڑ، دشت، سمندر، ٹھکانے دریا کے

زمیں کو رنگ مِلے ہیں بہانے دریا کے

(ظہیر احمد)

یہ جگہ قراقرم ہائی وے کے بالکل کنارے پر واقع ہے۔ چار سال پہلے جب میرا یہاں سے گزر ہوا تھا تو یہاں ایک بورڈ ہوا کرتا تھا جس پر اس جگہ کی تفصیل درج تھی۔ اب جب گیا تو یہ جگہ بن رہی تھی بورڈ بھی غائب تھا اور اوپر بنا مانومنٹ بھی۔ یہاں سے کچھ آگے ایک ٹوٹی پھوٹی سڑک اسکردو تک جاتی ہے جو آج کل زیرِتعمیر ہے۔

اس علاقے میں قراقرم ہائی وے کسی ایسی خوب رو دوشیزہ کی طرح لگتی ہے جو محبوب کے لیے خوب ہار سنگھار کیے بیٹھی ہو۔ سامنے برف پوش چوٹیوں کا نظارہ، مٹیالا سندھو دریا، کناروں پر چیری اور خوبانی سے بھرے شاپر تھامے ننھے منے بچے، خوب صورتی یہ نہیں تو اور کیا ہے؟

تبھی تو گلگت بلتستان کو پاکستان کے سر کا تاج کہا جاتا ہے۔ نہ صرف یہ انتہائی دل کش و حسین ہے بلکہ اگر آپ پاکستان کا نقشہ دیکھیں گے تو یہ سب سے اوپر واقع ہے جیسے کسی شہنشاہ کے سر پر تاج ہو۔ لگے ہاتھوں اس علاقے کا کچھ تعارف ہو جائے۔

گلگت بلتستان کا کل رقبہ تقریباً 119985 مربع کلومیٹر ہے، اس کی آبادی تقریباً چودہ لاکھ چھیانوے ہزار سات سو ستانوے نفوس پر مشتمل ہے۔ دو ڈویژنوں گلگت، بلتستان پر مشتمل اس مجوزہ صوبے کا مرکزی مقام گلگت ہے، جب کہ ان ڈویژنز کو اسکردو، گانچھے، شِگر، خرمنگ، گلگت، غذر، ہُنزہ، نگر، دیامیر اور استور میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اردو کے علاوہ یہاں پر بلتی، شینا، بروشسکی، کشمیری، واخئی، کوہواری اور کوہستانی زبانیں بولی جاتی ہیں۔

شمالی علاقہ جات کے شمال مغرب میں افغانستان کی۔ واخان کی پٹی ہے جو پاکستان کو تاجکستان سے الگ کرتی ہے جب کہ شمال مشرق میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کا ایغور کا علاقہ ہے۔ جنوب مشرق میں مقبوضہ کشمیر، جنوب میں آزاد کشمیر جب کہ مغرب میں صوبہ خیبر پختونخواہ واقع ہیں۔

دنیا کے بلندترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، کوہ ہمالیہ اور کوہ ہندوکش تینوں یہاں موجود ہیں۔ یہاں پر سات ہزار میٹر سے زائد بلند 50چوٹیاں واقع ہیں، اسی طرح تین بڑے گلیشیئر بھی یہیں واقع ہیں۔ دنیا کا بلند ترین محاذ جنگ سیاچن گلیشیئر بلتستان کے ضلع گانچھے کے پہاڑی سلسلے قراقرم میں واقع ہے تاہم متنازع ہونے کی وجہ سے کبھی اسے بلتستان میں شمار کیا جاتا ہے اور کبھی نہیں۔

مناور اور جٹیال (یہیں سے ایک روڈ گلگت شہر کو مڑتی ہے) سے ہو کر ہم دینیور پہنچتے ہیں۔ دریائے گلگت کے کنارے واقع دینیور شہر سرسبز کھیتوں اور پاپولر کے گھنے درختوں کے حوالے سے مشہور ہے۔ دینیور کی سرنگ کے اوپر شاہ سلطان علی عارف کا مزار، دریائے گلگت پر دینیور کا منہدم شُدہ معلق پُل، چینی انجنیئرز کا قبرستان اور آثارِقدیمہ سے تعلق رکھے والی دینیور کی کُندہ چٹانیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ اب تک تقریباً 20 ہزار سے زائد ایسی چٹانیں اور مقامات دریافت ہوئے ہیں جو قدیم تہذیبی اہمیت کی حامل ہیں۔ شمالی علاقہ جات میں ہنزہ اور ہربن کی جانب دس بڑی جگہیں آثارقدیمہ کی موجودگی کی وجہ سے نہایت اہم ہیں۔ یہ آثار حملہ آوروں، تاجروں اور زائرین کی یادگار ہیں جنھوں نے اس قدیم تجارتی راہدری میں سفر کیا۔ 5000 اور 1000 قبل مسیح کے درمیانی عرصہ میں ان آثار میں کثرت سے جانوروں، تکونی انسان اور شکار کی شبیہات جن میں جانور انسانوں سے بڑے دکھائے گئے ہیں، ملتی ہیں۔ یہ آثار پتھریلی چٹانوں پر نقش ہیں جن کو پتھر کے اوزاروں سے بنایا گیا ہے۔

آئیے قراقرم کے ان عجائبات کی تفصیلی سیر کرتے ہیں۔

 ٭بِرینو کا معلق پُل:

یہ پُل گلگت بلتستان کے سب سے پرانے معلق پُلوں میں سے ایک ہے جسے 1960 میں ہُنزہ سے تعلق رکھنے والے انجنیئر احمد علی برینو مرحوم نے بنایا تھا اس مناسبت سے اسے ”برینو کا پُل” بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی 510 فٹ ہے۔ یہ پُل ا س جگہ سے 2 کلومیٹر دور ہے جہاں دریائے ہُنزہ، دریائے گلگت میں ضم ہوتا ہے۔ یہ پل صرف چھوٹی گاڑیوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ بعد میں اس کے قریب ایک متبادل کنکریٹ کا پل بنا دیا گیا۔ 2018 میں اس کی مرمت کی گئی اور سڑک پر لکڑی کا خوب صورت جنگلہ لگا کر اسے ایک سیاحتی پوائنٹ بنا دیا گیا۔ آج کل یہ سیاحوں کی من پسند جگہ ہے جس پر صرف پیدل افراد اور موٹر سائیکلز چل سکتے ہیں۔

٭دینیور کی کُندہ چٹانیں:

شاہراہ قراقرم کے ساتھ واقع قدیم آثارِ قدیمہ میں سے ایک دینیور کی چٹانیں ہیں جو ساتویں اور آٹھویں صدی سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہیں سب سے پہلے 1958 میں کارل جیٹمر نے دیکھا تھا جن پر مختلف جانوروں کی شکلیں اور الفاظ کُندہ تھے۔ یہ جگہ سیاحوں میں بہت زیادہ مشہور نہیں ہے۔ چند آثارِقدیمہ کی تنظیموں اور تحقیقی ماہرین کے علاوہ ان تک کوئی نہیں پہنچتا۔

٭چینی قبرستان:

مقامی طور پر ’’چائینہ یادگار‘‘ کے طور پر جانا جانے والا یہ قبرستان ان چینی انجینئرز اور مزدوروں کی آخری آرام گاہ ہے جنہوں نے 1960 اور 70 کی دہائی میں قراقرم ہائی وے کی تعمیر کو اپنے لہو سے سینچا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے چین کی قربانیوں کا مظہر ہے جو بالکل قراقرم روڈ کے اوپر ہے اور آپ اسے دیکھ سکتے ہیں۔

٭یادگارِ شہدا شاہراہِ ریشم:

قراقرم ہائی وے پر آگے چلیں تو سائیڈ پر ایک اونچے چبوترے پر پیلے رنگ کی ڈِرل مشین لگی نظر آئے گی۔ یہ گلگت بلتستان کے اُن بہادر لوگوں کی یادگار ہے جنہوں نے اس خونی سڑک کی تعمیر میں اپنی زندگیاں پیش کیں تاکہ گلگت بلتستان کی آنے والی نسلیں اس شاہراہ کی بدولت ترقی کریں اور خوشیوں کے دن دیکھ سکیں۔ اس میموریل مانومنٹ پر لکھے گئے الفاظ یہ ہیں؛

MEMORIAL 103 EB (Engineering Battalion)

In memory of their gallant men who proffered to make the Karakorams their permanent abode.

In that rich soil a richer dust conceals.

1966-1972

٭قدیم سِلک روٹ:

کُچھ آگے جا کر ایک بورڈ پر نظر پڑی لکھا ہوا تھا ’’اولڈ سِلک روڈ‘‘ اور بائیں ہاتھ پر موجود تنگ پہاڑی راستے کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ یہ پہاڑی پر سے گزرتے قدیم سِلک روٹ کے بچے کھچے وہ ٹکڑے ہیں جو آج کل صرف مقامی افراد کے استعمال میں ہیں جہاں سے وہ روزانہ اپنی بھیڑ بکریاں چرانے نیچے لے کر آتے ہیں۔

اس بورڈ کے مطابق یہ چینی تاجروں کا ریشم کی تجارت کے لیے استعمال کیا جانے والا وہ قدیم راستہ ہے جسے ’’شاہراہِ ریشم‘‘ یا سِلک روٹ کا نام دیا گیا ہے۔ عہدِقدیم کے ان تجارتی راستوں کو مجموعی طور پر شاہراہ ریشم کہا جاتا ہے جو چین کو ایشیائے کوچک اور بحیرۂ روم کے ممالک سے ملاتے ہیں۔ یہ گزر گاہیں کل 8 ہزار کلو میٹر (5 ہزار میل) پر پھیلی ہوئی تھیں۔

شاہراہ ریشم کی تجارت چین، مصر، بین النہرین، فارس، برصغیر اور روم کی تہذیبوں کی ترقی کا اہم ترین عنصر تھی اور جدید دنیا کی تعمیر میں اس کا بنیادی کردار رہا ہے۔ شاہراہ ریشم کی اصطلاح پہلی بار جرمن جغرافیہ داں فرڈیننڈ وون رچٹوفن نے 1877ء میں استعمال کی تھی۔ اب یہ اصطلاح پاکستان اور چین کے درمیان زمینی گزر گاہ شاہراہ قراقرم کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے جو کہ غلط ہے کیوںکہ قراقرم زیادہ تر ان علاقوں سے گزرتی ہے جو سلک روٹ کا حِصہ نہیں رہے۔

مصنف ڈاکٹر برکت علی کاکڑ کے مطابق،’’ قدیم شاہراہ ریشم کے دھندلے خدوخال سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں ہزاروں اونٹ اور باربرداری کے دیگر چوپائے روم سے چین تک غالباً چار ہزار میل کی مسافت طے کرتے تھے۔ اس مسافت کے دوران بعض اوقات بچوں کی ولادت ہوجاتی جو اپنی آبائی سر زمین تک پہنچتے پہنچتے سات، آٹھ سال کی عمر کو پہنچ جاتے۔ سیاہ داڑھی کے ساتھ جانے والے واپسی پر بالوں اور داڑھی میں چاندنی لے کر آتے۔ دن کو اوسط 40 کلومیل کا فاصلہ طے کیا جاسکتا تھا، لہٰذا، ہر 40 میل بعد ایک کاروان سرائے تعمیر کیا گیا تھا جسے عرف عام میں ربط بھی کہتے تھے۔ یہاں پر تھکے ماندے مسافروں کے آرام اور استراحت کا پورا انتظام موجود ہوتا تھا۔ یہ کاروان سرائے جو بعد میں رفتہ رفتہ شہروں کی شکل اختیار کر گئے، ان میں حجام اور طبیب کی دکانیں ساتھ ساتھ ہوتیں۔ انہی سے متصل کیمیاگر یا دواساز ڈیرہ ڈالتے۔ اس کے پہلو میں کوئی کاتب، جوتا بنانے اور سلائی کرنے والا موچی ہوتا، درزی، لکڑہارا، تو ویسے بھی اس وقت کے ایسے کردار ہیں جن کا تذکرہ عام قصوں کہانیوں میں بھی مل جاتا ہے۔ اسی طرح یہاں پر فال گر یا فال نکالنے والوں، مداریوں اور کرتب دکھانے والوں کے ساتھ موسیقار، آرٹسٹ اور سب سے بڑھ کر داستان گو موجود تھے جو خصوصاً رات کو مسافروں کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے قصے کہانیاں سناتے یا پھر نَے اور نَے کا دور چل نکلتا۔ اس قدیم شاہراہ کو اگر ہم موجودہ افغانستان اور پاکستان میں دوبارہ دریافت کرنے کی کوشش کریں تو اس میں یقیناً مشکل نہیں ہوگی۔‘‘

کاکڑ صاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’شاہراہ ریشم پر صرف اشیائے ضرورت اور خورد و نوش کی خریدوفروخت اور نقل و حرکت نہیں ہوتی تھی، بلکہ اس تاریخی شاہراہ نے افکار، نظریات، اساطیر، عقائد، ادب، آرٹ، زبانوں اور ثقافتوں کی اتصال میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ اس شاہراہ کی سیاسی اہمیت اپنی جگہ، اس پر واقع اہم ترین قومیں اور جغرافیائی وحدتیں اپنی جگہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ پانچ سوسال تک نظر انداز کیے گئے پاکستان اور افغانستان کے وہ حصے جو شاہراہ ریشم کے دہانے پر واقع ہیں اور جس سے یورپ اور ایشیا کے ثقافتی، تہذیبی، معاشی اور سیاسی وصلت ممکن ہوئی ہے، نے آج ایک دفعہ پھر اہمیت اختیار کی ہے‘‘۔

(جاری ہے)

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔