’’ میرا قائد ، قائد ِاعظم ‘‘

اصغر عبداللہ  اتوار 8 ستمبر 2013
mohammad_asghar_abdullah@yahoo.com

[email protected]

یہ1936 ء کا زمانہ ہے۔ عام انتخابات کے بعد مرکز اورصوبوں میں کانگریسی حکومتیں قائم ہو چکی ہیں۔ مسلمان مایوس ہیں۔ نوجوانوں میں خاص طور پر بڑا اضطراب پایا جاتا ہے۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کا طالب علم سید امجد حسین، جو مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریش کا سرگرم کارکن بھی ہے ، ایک روز بہت پریشان ہوجاتاہے، تو دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے اپنے ایک دوست کے ہمراہ علامہ اقبال کی خدمت میںحاضر ہوتا ہے۔ گرمیوں کے دن ہیں۔ علامہ اقبال، طالب علموں کی بے چینی کو بھانپ لیتے ہیں۔ اپنے ملازم خاص علی بخش کو بلاتے ہیں اور پنجابی میں کہتے ہیں، ’’علی بخشا، اے مُڑے بڑے پخے ہوئے نیں، ایناں نوں ٹھنڈا پانی پیا ( علی بخش ، یہ لڑکے بڑے بے چین لگ  رہے ہیں ، ان کو ٹھنڈا پانی پلاو ) ۔ قریب ہی ایک طرف پانی کا گھڑا نظر آرہا ہے۔ علی بخش کٹورا بھرتا ہے اور دونوں طالب علموں کو پانی پلاتا ہے۔ طالب علموں کے اوسان  قدرے بحال ہوتے ہیں تو علامہ اقبال پُر شفقت لہجہ میں دریافت کرتے ہیں،’’ ہاں بھئی ، اب بتاو کیا مسئلہ ہے، کیوں پریشان ہو۔‘‘ طا لب علم  سید امجد حسین تو جیسے پھٹ پڑتا ہے، ’’ پیر ومُرشد، پنجاب میں مسلم لیگ بری طرح ہار گئی ہے۔کانگریسی حکومتیں قائم ہو چکی ہیں۔

روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی۔ ہم مسلمانوں کا کیا بنے گا۔ ہم سخت پریشان ہیں۔ ہماری رہنمائی کریں اور ہمیںکوئی راستہ دکھائیں۔‘‘ علامہ اقبال مسکرا کرکہتے ہیں، ’’دیکھو بھئی ، میں تو اب اس پہلوان کی طرح ہوں، جو اکھاڑے سے باہر بیٹھا ہے اور صرف داو پیچ بتا سکتا ہے، کُشتی نہیں لڑ سکتا۔ تمہاری کُشتی جو پہلوان لڑ سکتا ہے، وہ میں نہیں ہوں ، کوئی اورہے ۔‘‘ نوجوان متعجب ہوتا ہے اور پوچھتا ہے، ’’ پیر و مُرشد، ہم تو تنہا آپ ہی کو مسلمانوں کا رہبر ورہنما سمجھتے ہیں۔آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ کوئی اور ہے ، جو ہماری رہنمائی کرے گا ۔ کون ہے وہ ،کہاں ہے وہ ؟‘‘ علامہ اقبال کی پیشانی پر غوروفکر کی شکنیں مزید گہری ہو جاتی ہیں، لحظہ بھر توقف کے بعد کہتے ہیں، ’’ بیرسٹر محمد علی جناح تمہارے لیڈر ہیں، وہ آج کل لندن میں ہیں ، لیکن میں نے ان کو کہا ہے کہ اس وقت تنہا آپ ہیں ، جو ہندوستان کے مسلمانوں کی کشتی پار لگا سکتے ہیں۔ فکر نہ کرو ، وہ واپس آ رہے ہیں۔ اور میں آج تم کو تاکید کر رہا ہوں کہ جب بیرسٹر محمد علی جناح لاہور تشریف آئیں تو فوراً ان کی خدمت میں حاضر ہو جانا اور جس طرح وہ کہیں ، آنکھیں بند کرکے اس طرح کرنا، کیونکہ وہی تمہارے نجات دہندہ ہیں۔‘‘ طا لب علم اوراس کا دوست پیرومُرشد کی یہ نصیحت پلے باندھ لیتے ہیں ۔

چند سال پہلے ، پہلی بارجب میںکرنل ( ر ) امجد حسین سے ملا اور مجھ پر ابھی قائداعظم سے متعلق ان کی یادوں اور ملاقاتوں کا انکشاف نہیں ہوا تھا ، تو اوربہت سارے دوسرے لوگوں کی طرح میرے نزدیک بھی ان کا تعارف صرف یہ تھا کہ وہ مسلم لیگ ق کے جنرل سیکریٹری سید مشاہد حسین کے والدہیںاور یہ کہ ریٹائرڈ کرنل ہیں ۔ لیکن، پھر یوں ہوا کہ ایک روز سید امجد حسین کی داستان حیات کا ’قائداعظم کا باب‘ ، ان کی زبانی سُنا۔ یہ بڑا دلگداز تجربہ تھا اس کے بعد یو ں ہے کہ سید مشاہد حسین کی صحافت اور سیاست کا جو بھی مقام ہے، اس کا انکار نہیں ، لیکن اب کم ازکم میرے نزدیک ، وہ سید امجد حسین کا نہیں، بلکہ سید امجد حسین ان کا تعارف ہیں۔ سید امجد حسین، عمر ِعزیز کی94 بہاریں دیکھ چکے ہیں لیکن ان کا حافظہ بدستور جوان ہے۔ جب سے سید امجد حسین کے قائداعظم سے تعلق ِ خاطر کا حال مجھ پر منکشف ہوا ہے، کوشش کرتا ہوں کہ وقتاً فوقتاً ان کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا رہوں تاکہ وہ سحر انگیز داستان باربار سن سکوں ، جس کو دہراتے ہوئے آج پون صدی بعد بھی ان پر گونا وارفتگی طاری ہو جاتی ہے۔

اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کے طالب علم نے بیرسٹر محمد علی جناح کی ذہانت، لیاقت اور قابلیت کی دُھوم تو سن رکھی ہے، لیکن آج جس طرح اس کے پیرومُرشد علامہ اقبال نے والہانہ انداز میں اُن کا ذکر کیا ہے اور ان کو ہندوستان کے مسلمانوں کا نجات دہندہ قرار دیا ہے، اس کے بعد تو وہ سراپا انتظار بن جاتا ہے کہ کب اس کا لیڈر انگلستان سے لوٹتا ہے اور وہ اس کی خدمت میں حاضر ہونے کی سعادت حاصل کرتا ہے۔ انتظار کا یہ بھاری عرصہ ایک روز اختتام پذیرہوتا ہے۔ طالب علم کو اطلاع ملتی ہے کہ بیرسٹر محمد علی جناح، جو ہندوستان واپس آ چکے ہیں اور لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں مقیم ہیں۔ طالب علم اپنے دوست کے ہمراہ فلیٹیز ہوٹل پہنچ جاتا ہے۔ قائداعظم سے اپنی اس پہلی ملاقات کا نقشہ کھینچتے ہوئے، آج 76 سال بعد بھی سید امجد حسین کی آنکھیںفرط مسرت سے چمک اٹھتی ہیں ،’’جب میں اندرکمرہ میں داخل ہوا اور قائداعظم نے سراٹھا کر ہماری طرف دیکھا توان کی آنکھوں میں خیرہ کر دینے والی چمک تھی، جیسے فلڈ لائٹس ہوں۔ ہم بوکھلا گئے۔ علامہ اقبال کایہ شعر یاد آیا   ؎

تیری نگا ہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے

کھویا گیا ہے تیرا جذبِ قلندرانہ

ابھی ہم پوری طرح سنبھل نہیں سکے تھے کہ قائداعظم کی کڑک دار آواز گونجی، sit down boys ۔ ہم ڈرتے ڈرتے ایک طرف سمٹ کر بیٹھ گئے۔ میں نے انگریزی میں تعارف کرایا۔ علامہ اقبال کا حوالہ دیا اور پھر درخواست کی کہ ’’سر ، آپ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ تشریف لائیں اور مسلم طلبہ سے خطاب فرمائیں۔‘‘ قائداعظم نے کہا ،’’ تم کس اتھارٹی کے تحت مجھے کالج میں خطاب کی دعوت دے رہے ہو،کیا تم نے کالج انتظامیہ سے اس امر کی تحریری اجازت لی ہے۔‘‘ میں نے کہا ،’’ نو سر۔‘‘ اس پر قائداعظم نے کہا ،’’ جائو، پہلے کالج انتظامیہ سے تحریری اجازت لو،اس کے بعد دیکھوںگا ، اگر میرے پاس وقت ہوا تو آجاوںگا۔‘‘ میں نے شرمندگی سے کہا،’’ یس سر۔‘‘ ہم دم سادھے بیٹھے تھے کہ ایک بار پھر ان کی کڑک دار آواز گونجی  ،

boys , dont waste my time and dont waste your time , now you may go

یہ کہہ کر قائداعظم نے ہماری طرف سے نظریں ہٹالی اور اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ باہر نکل کر میں نے اپنے دوست سے کہا کہ ’’یہ ہوتا ہے لیڈر، دو ٹوک بات کرنے والا۔‘‘ پھر میں نے اپنے آپ سے کہا ،’’ پیرومرشد علامہ اقبال نے ٹھیک پہچانا ہے ، یہی ہے ہمارالیڈر اورنجات دہندہ ۔‘‘ سینہ پرجو غبار چھایا ہوا تھا، مایوسی اورملال کا ، یوں لگا کہ چند لمحوں کی اس ملاقات سے بالکل چھٹ گیاہے۔  مجھے میرا قائد مل گیا تھا۔‘‘ یہاں پہنچ کر طالب علم سید امجد حسین کی چمک دار آنکھوں میں، جو خود بھی اب 94 برس کی عمر کو پہنچ چکا ہے، ہلکی ہلکی نمی تیرنے لگی ہے ، جس طرح کہ ساون بھادوں میںکبھی کبھی دھوپ میں اچانک کہیں سے ہلکی ہلکی بارش بھی آ کے شامل ہو جاتی ہے۔

سید امجد حسین کو بعد میں ایک تاریخی اعزاز میسر آتا ہے۔ ایک روز قائد اعظم کی طرف سے آل انڈیا مسلم لیگ کے لکھنو اجلاس 1937 ء میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوتا ہے۔ اس تاریخی اجلاس میں نہ صرف آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف پہلی مرتبہ  باضابطہ طور پرآزادی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، بلکہ اس اجلاس میں ہی دوسرے یا تیسرے روز پہلی مرتبہ آل انڈیا مسلم لیگ کے قائد محمد علی جناح کے لیے’’ قائداعظم‘‘ کا نعرہ بلند ہوتا ہے ، اوریہ لقب ہمیشہ کے لیے ان کے نام کا حصہ بن جاتاہے ۔ پھر23 مارچ 1940 کا تاریخی جلسہ ہے ، مالا بار میں ’’جناح، گاندھی‘‘ ملاقات کا نظارہ ہے ہ، مہاجر کیمپوں کے دلخراش مناظر ہیں ؛ سید امجد حسین ان تمام تاریخی واقعات کے عینی شاہد ہیں ۔ افسوس کہ ان کی قیمتی یادوں کو محفوظ کرنے کا کوئی اہتمام نظر نہیں آ رہا ۔ بہرحال ، اس کالم میں قائداعظم سے متعلق ان کی یادوں اور ملاقاتوں کی جھلکیاں آپ دیکھتے  رہیں گے ، شاعر نے کہا تھا   ؎

گاہے گاہے بازخواں ایں قصہء پارینہ را

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔