وزیراعظم کا دورہِ کراچی

مقتدا منصور  اتوار 8 ستمبر 2013
muqtidakhan@hotmail.com

[email protected]

دو روزتک کراچی کے مختلف طبقات اورمکتبہ فکرکے لوگوں سے ملاقات اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے بارے میں آگہی حاصل کرنے کے باوجود وزیر اعظم میاں نواز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے کراچی میں رینجرز کے ذریعے ٹارگٹڈ آپریشن کی منظوری دیدی۔وفاقی حکومت کے اس فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیاہے۔اول،جب وفاقی حکومت رینجرز کے ذریعے کارروائی کا ذہن بناچکی تھی تواتنی لمبی چوڑی ملاقاتوںاورمشاورتی نشستوں کی کیا ضرورت تھی؟دوئم، کیا دودہائیوں سے کراچی میں موجود رینجرز قیام امن کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدام کرسکیں گے، جب کہ ان پر مختلف نوعیت کے الزامات پر عائد کیے جاتے رہے ہیں؟سوئم،کیا حکومت کے حالیہ اقدامات کے نتیجے میں مستقل بنیادوں پر پائیدار امن قائم ہوسکے گا؟

گزشتہ ہفتے وزیراعظم میاں نواز شریف نے دو انتہائی مصروف دن کراچی میں گزارے۔منگل کو انھوں نے سیاسی جماعتوں کی مقامی قیادت کے ساتھ طویل مذاکرات کیے۔اسی شام انھوں نے تاجروں اور صنعتکاروں سے ملاقات کی۔اگلے روز انھوں نے سینئر صحافیوں اور کالم نگاروں کے ساتھ دوگھنٹے پر محیط مشاورت کی اور سہ پہرکو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں درج بالا فیصلے کرکے اسلام آباد روانہ ہوگئے۔جہاں تک میاں نواز شریف کی ذات کا تعلق ہے، تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ کراچی میں امن وامان کے مسئلے کا نیک نیتی کے ساتھ حل تلاش کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی وہ ایسے اقدامات سے گریز کے بھی خواہش مند ہیں،جن کے نتیجے میں جمہوری عمل کے تسلسل میں رکاوٹ پیدا ہواورانھیں ایک مرتبہ پھر 1992 کے فوجی آپریشن جیسی خفت کاسامناکرنا پڑے۔مگر ان کے دائیںاور بائیں موجود شخصیات اور اندرون خانہ منصوبہ سازوں کا اپنا مخصوص ایجنڈاہوتا ہے۔اس لیے اکثرو بیشترجوفیصلے سامنے آتے ہیں وہ ’’ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ‘‘ کے مصداق ہواکرتے ہیں۔یہی کچھ کراچی میں امن وامان کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں سے ظاہر ہوا ہے۔

دو روزکی مشق اپنی جگہ رہی، وفاقی کابینہ نے وہی فیصلہ کیا ،جو اسلام آباد میں اقتدار کے ایوانوں میںپہلے ہی طے کیا جاچکا تھا۔ اگر کراچی میں رینجرز کو پولیس کی ذمے داریاں سونپناتھیں،تو اس دو روزہ مشق کی کیا ضرورت تھی۔رینجرز دو دہائیوں سے کراچی میں تعینات ہے۔وہ نہ صرف امن وامان قائم کرنے میں ناکام ہے، بلکہ کئی سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے علاوہ مختلف کاروبار بھی کرنے لگی ہے۔سندھ کے مختلف شہروں میں کئی بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز، بیکریاںاور واٹرٹینکر سروس اس کی ملکیت ہیں۔ اس کے علاوہ امن وامان کے قیام کے لیے ایک نئی سیکیورٹی فورس قائم کرنے کافیصلہ کیا گیا، جس میں 10ہزار ریٹائرڈ فوجیوں کوبھرتی کیا جائے گا۔اس نئی فورس کے اخراجات کا بوجھ بھی سندھ حکومت کو برداشت کرنا پڑے گا،جو پہلے ہی رینجرز کے اخراجات کے بوجھ تلے زیر بار ہے۔

دنیابھرمیںامن وامان قائم کرنے اورقانون نافذ کرنے کی آئینی ا ورقانونی ذمے داری پولیس کی ہوتی ہے۔برطانوی انتظامی ڈھانچے میں ،جوہمارے یہاں نافذ ہے،جرائم پر قابو پانے کا تین درجاتی نظام قائم ہے۔ اول،پولیس ہے ،جو انتظامیہ کا حصہ ہوتی ہے۔ شہریوں کی جانب سے مختلف جرائم کی رپورٹ کو درج کرنا، جرائم کی تفتیش کرنا اور جرائم پیشہ افراد کو اپنی گرفت میں لانا،پولیس کی بنیادی ذمے داری ہوتی ہے۔اسی طرح وہ امن وامان کی مخدوش صورتحال پر قابو پانے کے لیے کی جانے والی کارروائی کی بھی پولیس پابند ہوتی ہے۔ کسی ملزم کے پکڑے جانے کی صورت میںمجسٹریٹ سے اس کا ریمانڈ لینے کے بعد تفتیش کرنا اور چالان بناکر عدالت میں پیش کرنا بھی اس کی ذمے داری ہوتی ہے۔

دوئم، عدلیہ ہے،جونچلی سطح پر دو حصوںمیںمنقسم ہوتی ہے۔ایک فوجداری اور دوسری دیوانی۔دیوانی عدلیہ جائیداد وغیرہ کے مقدمات نمٹاتی ہے،  جب کہ فوجداری عدالتیں،مختلف جرائم کے مقدمات نمٹانے کے علاوہ ملزموں کا پولیس کوتفتیش کے لیے ریمانڈدینے اورامن وامان کی ابتر صورتحال میں پولیس کو کارروائی کی اجازت دینے کی مجاز اتھارٹی ہوتی ہیں۔ سوئم،جیل ہے، جہاںمجرم عدالت سے ملنے والی سزا بھگتتے ہیں۔البتہ جب کسی شہریا علاقے میں شورش یا بدامنی قابو سے باہر ہوجائے اور پولیس اس پر قابوپانے میں ناکام ہوجائے تو حکومت پولیس کی مدد کے لیے وہاںپیراملٹری فورسز کوتعینات کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ لیکن یہ بندوبست عارضی ہوتاہے۔ہمیں یہ بھی سمجھناچاہیے کہ پولیس میں خرابیِ بسیار کا سبب سیاسی مداخلت اور سیاسی بنیادوں پر تقرریاںہوتی ہیں۔اگر پولیس کے نظام کو بہتر بناناہے،تو اس شعبے میںسیاسی مداخلت ختم کرکے میرٹ پر تقرریاں،تعیناتیاں اور تبدیلیاں کرنا ہوں گی،تاکہ پولیس کی کارکردگی بہترہوسکے۔

صوبہ سندھ کا المیہ یہ ہے کہ یہاں دو دہائیوں سے رینجرز تعینات ہیں، مگر اس عرصے میں جرائم کی شرح میں کسی قسم کی کمی واقع ہونے کے بجائے ان میںنہ صرف اضافہ ہوا بلکہ کئی نئے اور سنگین جرائم متعارف ہوگئے۔یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب کسی حلقے نے کبھی شہر سے رینجرز کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ،تو اگلے ہی روز قتل وغارت گری کی نئی وارداتیں شروع ہوگئیں۔بعض حلقے مسلسل اس شک کا اظہارکررہے ہیں کہ کراچی میں ہونے والی بھتہ خوری ،اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ میں رینجرزکے اہلکار یاتوبراہ راست ملوث ہیں یا وہ جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان سے کمیشن وصول کرتے ہیں۔ لہٰذا ایک ایسی پیراملٹری فورس، جو دودہائیوں کے دوران جرائم کی شرح میں کمی لانے میں ناکام ہے اور جس کی کارکردگی پرشہریوں کو اعتمادبھی نہیں ہے،کس خفیہ اشارے پر مزید اختیارات دیے جارہے ہیں؟ اس کے علاوہ پولیس کا کردار ادا کرنا اس کی آئینی اور قانونی ذمے داری بھی نہیں ہے۔ لہٰذاقیام امن کی کلیدی ذمے داری اس ادارے کو سونپنا ایک کھلا مذاق ہے۔

یہاں یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ وقت اور حالات نے ثابت کیاہے کہ کراچی کے مسائل کا حل سندھ کی حکومت اور منتخب نمایندہ جماعتیں ہی نکال سکتی ہیں۔جب کہ وفاق کی مداخلت ہمیشہ نئے مسائل کو جنم دینے کا سبب بنی ہے۔اس لیے وفاقی حکومت بعض خفیہ اشاروں پر سندھ میں رینجرز کے قیام کو مستقل کرنے کے بجائے جرائم پر قابو پانے میں سندھ حکومت کے ہاتھ مضبوط کرے اور اسے معاونت فراہم کرے تو زیادہ بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔یہاں سندھ کے مستقل باسیوں اور ان کی نمایندہ سیاسی جماعتوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرتے ہوئے باہمی روابط کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی وضع کریں۔اس سلسلے میں اگر ایک نیا عمرانی معاہدہ تشکیل دیاجائے تو اس سے سماجی بہتری کے روشن امکانات پیداہوسکتے ہیں۔دوئم،سندھ حکومت پولیس میں تطہیر اور اصلاحات کے ذریعے اس کی کارکردگی کو بہتربناسکتی ہے۔ اسی طرح اقتدار واختیار کی ضلع کی سطح تک منتقلی کے نتیجے میں بھی پولیس زیادہ فعالیت میں اضافہ ممکن ہے۔

وفاقی حکومت نے گزشتہ ہفتے جس فعالیت کا مظاہرہ کیاتھا اورجس طرح مختلف حلقوں کی آراء جمع کی تھیں، اس کے بعد یہ توقع پیدا ہوئی تھی کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کو امن وامان کے قیام میںمددو معاونت فراہم کرے گی۔ لیکن کابینہ کے اجلاس کے بعد جو فیصلہ کیاگیا، وہ کسی بھی طورپر کارگرہوتا نظر نہیں آرہا۔بلکہ اس بات کا خدشہ ہے کہ امن وامان کی صورتحال مزید مخدوش ہوجائے گی۔ یہ بھی امکان ہے کہ بعض قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں انتقامی کارروائیاں کرکے ماضی کی طرح حالات کو مزید خراب کرنے کی کوشش کریں۔کراچی کے مسئلے کا حل مقامی حکومتی نظام کا ریاست کے تیسرے درجہ(Third tier)کے طورپر نفاذ اوراس میگا سٹی کے لیے میٹروپولیٹن پولیس کا نظام متعارف کرانے سے مشروط ہے۔ لہٰذا وفاقی حکومت کے حالیہ اقدامات کسی بھی طورتسلی بخش قرار نہیں دیاجاسکتااور وزیر اعظم کے حالیہ اقدامات سے کراچی میں پائیدار اور دیرپا امن کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔