فریبِ ناتمام : فریب کاروں کی کامل کہانی

تنویر قیصر شاہد  پير 1 جولائ 2019
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

چھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتاب پڑھ کر دل و دماغ میں رنج، دکھ، افسوس اور غصے کا دھواں بھر گیا ہے۔ اِس کتاب کے توسط سے میرے سامنے پاکستان کے کئی دشمنوں اور بدخواہوں کے چہرے عیاں ہو گئے ہیں۔ جنھوں نے ہماری سیاست ، سماج اور صحافت میں اپنے چہروں پر بڑی چالاکی سے جو نقاب اوڑھ رکھے ہیں، زیر نظر کتاب نے یہ نقاب نوچ ڈالے ہیں۔ کتاب پڑھ کر ایک بار پھر  پاکستان پر یقین بڑھ گیا ہے۔ حوصلہ ملا ہے کہ پاکستان کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے دُنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا چراغ روشن کررکھا ہے جس کی روشنی اور لَو تاابد جاری رہے گی۔

انشاء اللہ۔ اِس کتاب کا نام ہے:’’فریبِ ناتمام۔‘‘ جمعہ خان صوفی اس کے مصنف ہیں۔ یہ اُن کی سوانح حیات ہے۔ موصوف سوشل ازم اور کمیونزم کے عاشق، جانثار اور جیالے رہے ہیں۔ پرانے صوبہ سرحد اور آج کے خیبر پختونخوا سے اُن کا تعلق ہے۔ زمانہ طالبعلمی ہی سے وہ سوویت روس کے سرخ انقلاب کے پیروکار اور داعی بن گئے تھے۔انھوں نے خواب دیکھا تھا کہ  پاکستان کے سبز رنگ کو سرخ رنگ میں رنگنا ہے ۔ خالقِ کائنات نے مگر اُن کی اور اُن کے تمام سرپرستوں کے سارے خواب چکنا چُور کر دیے۔ اللہ کریم نے اپنے کرم سے دشمنانِ پاکستان کی ساری سازشوں، منصوبہ بندیوں اور عیاریوں کو اُنہی پر اُلٹ دیا۔اور اللہ کی منصوبہ بندیوں کے سامنے کسی کے منصوبے کیسے پروان چڑھ سکتے ہیں؟ کتاب کے مصنف اور اُن کے سنگی ساتھیوں نے، پاکستان کے اندر اور باہر بیٹھ کر، پاکستان کو بلڈوز کرنے کی ہر سازش کر کے دیکھ لی لیکن ہر بار منہ کے بَل گرے۔ پاکستان کا پرچم مگر آج بھی اللہ کے فضل و کرم سے پوری اقوامِ عالم کے درمیان لہرا رہا ہے اور تاابد یونہی لہراتا رہے گا۔

’’فریبِ ناتمام‘‘ کے مصنف ، جمعہ خان صوفی، پاکستان سے فرار ہو کر 16برس کابل میں مقیم رہے۔ اِس کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ کابل میں بیٹھ کر پاکستان کے کئی سیاستدان، صحافی، قبائلی سردار، سیاسی کارکنان افغانستان، روس اور بھارت کے تعاون سے پاکستان کے خلاف کس اسلوب میں سازشیں کیا کرتے تھے۔ اِن کو ان تینوں ممالک کی طرف سے بھاری مالی امداد بھی ملتی تھی، گھر اور دفاتر بھی فراہم کیے گئے تھے، افغانستان سے باہر جا نے کے لیے جعلی پاسپورٹ بھی دیے جاتے تھے تا کہ پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کیے جائیں ۔ کام بس یہ تھا کہ پاکستان میں قتل، دہشت گردی، انارکی، خونریزی کی وارداتیں کرکے پاکستان کو گرانا ہے۔ یہ کتاب دراصل اِنہی  افراد کے خلاف باقاعدہ ایک چارج شِیٹ بھی ہے۔

حیرت ہوتی ہے کہ افغانستان ایسا غریب اور پسماندہ ترین ملک ان جملہ پاکستان دشمنوں کے بھاری اخراجات اور انھیں فراہم کی گئی ہر قسم کی مراعات کا بوجھ کیسے برداشت کرتا ہوگا؟ کتاب کے مصنف مگر بتاتے ہیں کہ کابل میں بروئے کار روس اور بھارت کی خفیہ ایجنسیاں (را اور کے جی بی) اور سفارتخانے بڑھ بڑھ کر یہ اخراجات برداشت کرنے میں افغان حکمرانوں اور حکومتوں کی دست گیری کر رہے تھے۔ کبھی کھلے بندوں اور کبھی ڈھکے چھپے انداز میں۔ کتاب میں کئی واقعات کے ساتھ انکشاف کیے گئے ہیں کہ 70 اور 80کے عشرے میں اِس تثلیث (افغانستان ، سویت روس اور بھارت) نے پاکستان کے خلاف ایکا کر لیا تھا۔یہ تینوں ممالک پاکستان میں اپنے کارندوں، گماشتوں اور ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی، بم دھماکے، قتل و غارت گری، اغوا کاری کی وارداتیں کرواتے تھے۔

سیاسی ابتری پھیلا کر پاکستان میں عدم استحکام کو فروغ دینے کی کوششیں کرتے رہے۔ بلوچستان اور سرحد (اب کے پی کے) میں علیحدگی پسندی کو بڑھاوا دینے کی سازشیں کی جاتی تھیں ۔ مصنف نے بلوچستان کے کئی سرداروں اور خیبر پختونخوا کے کئی سیاستدانوں کے نام لے کر بتایا ہے کہ انھیں کابل میں کس شکل میں بھاری مالی امداد سے نوازا جاتا تھا اور پاکستان میں فسادات کروانے کے لیے ڈالرز کس طرح اور کن ہاتھوں کے توسط سے ارسال کیے جاتے تھے۔ مصنف (جمعہ خان صوفی) کی یہ عینی شہادتیں اور ذاتی تجربات نہائت خوفناک ہیں۔ انھوں نے دراصل اپنا گریباں چاک کرکے بڑی جرأت سے ہمیں پاکستان دشمنوں کے چہرے دکھائے ہیں۔ 80 کے عشرے میں پاکستان کے خلاف بھارتی، افغانی اور رُوسی امداد پر پلنے والے کئی سیاستدان اب بھی زندہ ہیں اور پاکستان کی موجودہ سیاست کی صفوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔ مصنف نے انکشاف کیا ہے کہ بھٹو دَور میں پشاور میں شہید کیے جانے والے پیپلز پارٹی کے معروف سیاستدان اور وزیر، حیات محمد خان شیرپاؤ، کے خلاف قتل کی سازش کابل میں تیار کی گئی تھی۔

قاتلوں، جنہو ں نے تقریر کرتے شیرپاؤ کے سامنے ٹیپ ریکارڈر میں بم نصب کیا تھا،کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ قتل کی اس بہیمانہ واردات کے بعد قاتلوں کو پاکستان سے افغانستان کس  خاندان نے فرار کروایاتھا، اُسے بھی بے نقاب کر دیا گیا ہے۔ہمیں آج گلہ اور شکوہ ہے کہ پاکستان اور خصوصاً بلوچستان کے خلاف جتنی بھی دہشت گردی اور خونی سنگین وارداتیں ہوتی ہیں، ان میں سے زیادہ تر کا کُھرا افغانستان کی طرف جاتا ہے۔ جمعہ خان صوفی کی یہ کتاب پڑھ کر منکشف ہوتا ہے کہ افغانستان تو ستّر اور اسّی کے عشروں میں بھی پاکستان کے خلاف یہی وارداتیں کرواتا رہا ہے۔ اُس وقت اسے بھارت اور سویت رُوس کی امداد بھی حاصل تھی۔ آج اِن وارداتوں میں رُوس تو شائد نکل گیا ہے لیکن اب افغانستان ، بھارت اور امریکا کی شکل میں نئی مثلّث سامنے آ چکی ہے ۔ پاکستان ایک بار پھر جوانمردی اور پامردی کے ساتھ ان تینوں کے سامنے پورے قد کے ساتھ کھڑا ہے۔آج اشرف غنی کے دَور میں بھی پاکستان کے خلاف یہ سازشیں بند نہیں ہُوئی ہیں ۔ افغانستان نے مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کے وابستگان کی اعانت بند نہیں کی ہے ۔

’’فریبِ ناتمام‘‘ کے مصنف نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کا ایک ’دانشور‘ سیاستدان اور سرخ نظریات کا پرچارک 16برس کابل میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بولتا رہا ہے لیکن یہ صاحب کابل سے واپس آ کر پاکستان کا سینیٹر بنا ۔ سینیٹر بننے والے کو شرم آئی نہ انھیں جنھوں نے اُسے سینیٹر بنایا۔ یہی شخص کابل میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف لٹریچر اور کتابیں بھی لکھتا رہا ۔ کتاب میں ہمیں پاکستان کے اُن دو صحافیوںکا ذکر بھی ملتا ہے جو کابل میں بیٹھ کر بھارتی اور رُوسی خفیہ اداروں سے مل کر پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بُنتے تھے اور اپنے متنوع مفادات سمیٹتے تھے۔ خود مصنف کا دعویٰ ہے کہ وہ کابلی حکمرانوں (سردار داؤد، ببرک کرمل، حفیظ اللہ امین اور ڈاکٹر نجیب اللہ)کے مقربین اور معتمدین میں شمار رہے ہیں۔

افغان صدرڈاکٹر نجیب اللہ ، جو بعد ازاں طالبان کے ہاتھوں پھانسی لگے، مصنف کے شاگرد رہے ۔ جمعہ خان صوفی انھیں اُردو اور انگریزی بھی پڑھاتے رہے ۔ ڈاکٹر نجیب اللہ تو کابل میں مصنف کی منگنی میں بھی شریک تھے۔ ’’فریبِ ناتمام‘‘ کے مصنف نے یہ رنج بھری داستان بھی لکھی ہے کہ کابل ، ماسکو اور پاکستان میں بیٹھے وہ تمام دشمنانِ پاکستان ، جو پاکستان کے خلاف کردار ادا کررہے تھے، جنرل ضیاء الحق نے برسرِ اقتدار آ کر محض بھٹو کی دشمنی میں ان سب کو معاف کر دیا۔ کلین چِٹ لے کریہ لوگ جنرل ضیاء کے اقتداری ساتھی بھی بنے اور نواز شریف کے بھی۔ ’’فریبِ نا تمام‘‘ دراصل ہماری تاریخ کا ایک ایسا المیہ ہے جس سے اب بھی خون رِس رہا ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔